محتشم احتشام
پونچھ// لائن آف کنٹرول (ایل او سی) سے متصل پونچھ سیکٹر کے سرحدی گاؤں سلوتری جھلاس کے علاقے میں پاکستان کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر سے تعلق رکھنے والے ایک کمسن لڑکے کو بھارتی حدود میں داخل ہونے کے بعد تحویل میں لے لیا گیا۔ذرائع کے مطابق جاوید علی ولد محمد شیراز، عمر تقریباً 14 تا 15 سال، ساکن تیتری نوٹ، پاکستان کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر، مبینہ طور پر راستہ بھٹک جانے کے باعث غلطی سے حدِ متارکہ عبور کر کے بھارتی حدود میں داخل ہو گیا تھا۔ علاقے میں تعینات فوجی اہلکاروں نے اسے اپنی تحویل میں لے لیا اور تمام ضروری حفاظتی و قانونی ضابطوں کے تحت کارروائی کا آغاز کیا۔اطلاعات کے مطابق کمسن لڑکے کو ابتدائی جانچ اور طبی معائنے کیلئے ضلع ہسپتال پونچھ منتقل کیا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے اس کی صحت کا تفصیلی معائنہ کیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ لڑکا مکمل طور پر صحت مند ہے اور اس کے ساتھ تمام قانونی تقاضوں کے مطابق کارروائی کی جا رہی ہے۔قانونی لوازمات پورے کیے جانے کے بعد ہندوستانی فوج نے نوجوان لڑکے کو زلی پولیس کے حوالے قانونی لوازمات پورے کیے جانے کے بعد ہندوستانی فوج نے نوجوان لڑکے کو ضلع پولیس کے حوالے کر دیا۔حکام کے مطابق ضروری دستاویزی اور قانونی مراحل مکمل ہونے کے بعد لڑکے کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر چکاں دا باغ کراسنگ پوائنٹ کے ذریعے واپس اس کے اہلِ خانہ کے سپرد کیے جانے کا امکان ہے۔سرحدی علاقوں میں اس نوعیت کے واقعات ماضی میں بھی پیش آتے رہے ہیں، جہاں کم عمر افراد یا مقامی شہری نادانستہ طور پر راستہ بھٹک کر لائن آف کنٹرول عبور کر لیتے ہیں۔ ایسے معاملات میں عموماً انسانی ہمدردی اور بین الاقوامی اصولوں کو مدنظر رکھتے ہوئے کارروائی انجام دی جاتی ہے۔مقامی حلقوں نے امید ظاہر کی ہے کہ تمام ضروری کارروائی مکمل ہونے کے بعد کمسن لڑکا بحفاظت اپنے گھر واپس پہنچ جائے گا اور دونوں جانب کے متعلقہ ادارے اس عمل کو خوش اسلوبی سے مکمل کریں گے۔