تھنہ منڈی کا دور افتادہ گائوں ’درہ ‘بنیادی سہولیات سے محروم

 تھنہ منڈی//تحصیل تھنہ منڈی کا دور افتادہ گائوں ’درہ ‘اس جدید دور میں بھی تمام بنیادی سہولیات سے محروم ہے جس کی وجہ سے عوام کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔مکینوں نے بتایا کہ اس وقت انتظامیہ روٹی ،کپڑا مکان سمیت صحت جیسی بنیادی سہولیات فراہم کرنے کے دعوئے کر رہی ہے لیکن تھنہ منڈی قصبہ سے 10کلومیٹر کی دوری پر آبادہ ’درہ برہون گائوں میں لگ بھگ ہر طرح کی سہولیات دستیاب نہیں ہیں ۔پانچ ہزار سے زائد افراد پر مشتمل میں طبی سہولیات کا نام و نشان نہیں ۔اس سلسلہ میں سماجی کارکنان محمد سعید نجار ، شبیر چوہدری اور سردار جاویدخان وغیرہ نے روزنامہ کشمیر عظمی کو بتایا کہ تھنہ منڈی کی پنچایت بریون درہ میں محکمہ صحت کی طرف سے کسی بھی طرح کی بنیادی سہولیات میسر نہیںکروائی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پچھلی سات دہائیوں سے نامنہاد سیاستدانوں نے یہاں کی غریب عوام کو صرف ووٹ بینک کے طور پر استعمال کیا ہے لیکن آج تک ان کو جھوٹے وعدوں اور کھوکھلے نعروں کے سوا کچھ نہیں ملا۔ انہوں نے مزید کہا کہ پانچ ہزار سے زائد آبادی کے لئے حکومت و محکمہ صحت کی طرف سے یہاں پرائمری ہیلتھ سینٹر کی عدم دستیابی ایک لمحہ فکریہ ہے۔انہوں نے بتایا کہ مقامی سطح پر سہولیات کی قلت کے ساتھ ساتھ مریضوں کو دیگر ہسپتالوں میں منتقل کرنے عوام کیلئے بڑی مشکلات پیدا کردیا ہے ۔ اس جدید ٹیکنالوجی کے دور میں بھی یہ علاقہ طبی سہولیات سے پوری طرح کٹا ہوا ہے جوکہ انتہائی تشویشناک صورتحال ہے۔ انہوں نے کہا کہ تھنہ منڈی کی باقی تمام پنچایتوں میں طبی سہولیات موجود ہیں لیکن نہ جانے کن وجوہات کی بناء پر درہ برہون کی عوام کے ساتھ سوتیلا سلوک کیا جا رہا ہے۔ مقامی لوگوں نے روزنامہ کشمیر عظمیٰ کی وساطت سے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا ،محکمہ صحت اور خاص کر ضلع ترقیاتی کمشنر راجوری راجیش کمار شون سے اپیل کی ہے کہ وہ اس طرف خصوصی توجہ دیں تاکہ برہون درہ کی غریب عوام کو اس ترقی یافتہ دور میں انصاف مل سکے۔