عظمیٰ یاسمین
تھنہ منڈی// تھنہ منڈی ٹاؤن کے وارڈ نمبر 9 میں ایک اہم پل کے تعمیری کام کے باقاعدہ آغاز پر علاقے کے مکینوں اور راہگیروں میں زبردست خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔ یہ پل درہ، الال اور منگوٹہ گاؤں کی سمت سے آنے والے خطرناک دریا پر تعمیر کیا جا رہا ہے، جس کے اس پار واقع تقریباً دس گھروں کے مکین گزشتہ کئی دہائیوں سے شدید مشکلات کا سامنا کر رہے تھے۔ واضح رہے کہ ان گھروں میں تقریباً 80 سے زائد افراد مقیم ہیں جو برسات اور برف و باراں کے موسم میں ٹاؤن سے مکمل طور پر کٹ کر رہ جاتے تھے۔ طوفانی بارشوں اور دریا میں طغیانی کے دوران یہ خاندان کئی کئی دن گھروں میں محصور رہنے پر مجبور ہو جاتے تھے، جس سے نہ صرف روزمرہ زندگی بلکہ تعلیم، علاج اور دیگر بنیادی ضروریات بری طرح متاثر ہوتی تھیں۔ اس موقع پر متاثرہ خاندانوں کے ذمہ دار کیپٹن محمد شفیع شیخ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ 70 برسوں سے اس پل کی ضرورت کے حوالے سے آواز بلند کی جا رہی تھی، مگر افسوس کہ طویل عرصے تک اس پر کوئی توجہ نہیں دی گئی۔ انہوں نے بتایا کہ برسات کے موسم میں دریا کی خطرناک صورتحال کے باعث علاقہ مکمل طور پر منقطع ہو جاتا تھا تاہم یہ ایک تاریخی دن ہے کہ بڑی تگ و دو اور کوششوں کے بعد میونسپل کمیٹی تھنہ منڈی کے تعاون سے پل کی تعمیر کا کام شروع ہو چکا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس پل پر ایک کروڑ روپے سے زائد لاگت کا تخمینہ لگایا گیا ہے اور اس منصوبے کے آغاز سے پورے علاقے میں خوشی کا سماں ہے۔
ہر گھر میں اطمینان اور مسرت کا ماحول ہے۔ کیپٹن محمد شفیع شیخ نے تھنہ منڈی میونسپل کمیٹی کے ایگزیکٹو آفیسر، تمام ذمہ داران، افسران اور دیگر کارکنان کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ پل کی تعمیر جلد مکمل ہوگی، جس سے دریا کے آرپار آمد و رفت میں نمایاں سہولت میسر آئے گی۔ وہیں علاقہ کی معروف و معتبر شخصیت اور اسی وارڈ کے رہائشی، حافظ محمد نصیرالدین نقشبندی نے بھی میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ برسات کے موسم میں ان گھروں اور ہمارے پورے وارڈ کی حالت زار دیکھ کر دل دکھی ہو جاتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اللہ کا شکر ہے کہ بالاخر پل کی تعمیر کا آغاز ہو گیا ہے، جس سے نہ صرف متاثرہ خاندانوں بلکہ ملحقہ تمام دیہات بطور خاص ڈنہ لادیاں، چھڑونگ ،ڈھکی سیداں اور منگوٹہ بی کے ساتھ ساتھ عام راہگیروں کو بھی راحت اور سہولت حاصل ہوگی۔ علاقہ مکینوں نے اس دیرینہ مسئلے کے حل پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ یہ پل آنے والے دنوں میں ترقی، رابطے اور سہولت کی نئی راہیں کھولے گا۔