تھنہ منڈی // تھنہ منڈی کے متعدد محلہ جات ایسے بھی ہیں جہاں پانی کی سہولت دستیاب نہیں اور لوگوں کو اس کا بندوبست خود ہی کرناپڑتاہے تاہم محکمہ کوکوئی پرواہ نہیں ۔اسی طرح کا ایک علاقہ کھنیالکوٹ کا چھان محلہ بھی ہے جہاںدو سو سے زائدکی آبادی محکمہ پی ایچ ای کے ظلم کا سامنا کررہی ہے ۔مقامی شہری منیر حسین ولد محمد شفیع نے بتا ہا کہ اسکی پائپ سال 2015 میں دیدہ دانستہ طور پر ایک منظم سازش کے تحت توڑی گئی تاکہ پانی کی عدم دستیانی کی وجہ سے مکان فروخت کر کے بھاگ جاو¿ں لیکن اپیل کرنے کے باوجود محکمہ پی ایچ ای کے ورک سپروائزر سے لے کر ایگزیکٹو انجینئر تک کسی نے کوئی کارروائی نہیںکی ۔انہوں نے کہاکہ انہیں پینے کے لئے کافی دوری سے پانی لا نا پڑتاہے۔ مقامی لوگوں کا کہناہے کہ محکمہ پی ایچ ای کی واٹر سپلائی اسکیم ڈھوک۔ پٹیلی میں ایک درجن سے زائد ملازم تعینات ہیں جن میںسے ایک بھی ملازم اپنے فرائض کوادا نہیں کررہا۔انہوںنے الزام عائد کیاکہ محکمہ کی تمام تعمیر شدہ ٹینکیاں بالکل خشک ہیں اورپانی کے بجائے آلودگی سے بھری ہوئی ہیںلیکن ملازمین کوئی زحمت گوارہ نہیںکرتے ۔ان کاکہناتھاکہ محکمہ ان ٹینکیوں میں کیڑے مکوڑے مارنے کے لئے ہر سال لاکھوں روپے کا بلیچنگ پاو¿ڑ خریدتاہے جو ان ٹنکیوں میں استعمال نہیں ہوتا۔ منیر حسین نامی شخص کا کہنا ہے کہ محکمہ پی ایچ ای ڈھوک۔ پٹیلی اسکیم کے تحت پائپ لگانے میں مصروف ہے اور یہ کام بھی عارضی ملازمین سے کروایاجارہاہے۔رابطہ کرنے پر اے ای ای ہیڈ کوارٹر راجوری سریش چندر گوسوامی نے یقین دلایاکہ تحقیقات کرکے کھنیالکوٹ کے چھان محلہ میں پانی کی سپلائی بحال کروائی جائے گی۔