تھریسا مئے کی پریشانیوں میں اضافہ

لندن//بریگزٹ معاملہ پر وزیر اعظم تھریسا مئے کی پریشانیاں کم ہونے کا نام نہیں لے رہی ہیں۔برطانیہ کے دارالحکومت لندن میں بریگزٹ مخالفین کا بڑا مظاہرہ ہوا جہاں انہوں نے حکمراں کنزرویٹو پارٹی سے یوروپین یونین سے اخراج کے معاملہ پر ایک مرتبہ پھر ریفرنڈم کروانے کا مطالبہ کیا ہے ۔خبررساں ایجنسی اے پی کی رپورٹ کے مطابق پیپلزووٹ مارچ کا آغاز پارک لین اور دیگر مقامات سے ہوا اور برطانوی پارلیمنٹ تک پہنچا جہاں آئندہ چند دنوں میں بریگزٹ پر حتمی فیصلہ ہوگا۔مظاہرین نے یوروپین یونین کے پرچم اٹھا رکھے تھے اور یونین کے ساتھ برطانیہ کے طویل شراکت داری برقرار رکھنے کے مطالبات درج تھے ۔بریگزٹ مخالف مظاہرے میں برطانیہ بھر کے عوام موجود تھے جو وزیراعظم تھریسامئے کو بریگزٹ سے دست بردار کرنے کے لیے پرعزم تھے ۔لبرل ڈیموکریٹ رہنما وینس نے مظاہرین کی تعداد حیران کن اور متحد قرار دیتے ہوئے کہا کہ‘‘یہاں پر ملک بھرسے زندگی کے ہر شعبے اور عمر سے تعلق رکھنے والے افراد کی بڑی تعداد موجود ہے اور ملک میں ہم 60 فیصد افراد بریگزٹ کو روکنے کے خواہاں ہیں’’۔پولیس کی جانب سے مظاہرین کی تعداد کے حوالہ سے کوئی رپورٹ جاری نہیں کی گئی تاہم آزاد ذرائع کے مطابق بریگزیٹ پر دوبارہ ریفرنڈم کا مطالبہ کرنے والے مظاہرین کی تعداد 10 لاکھ تھی۔دوسری جانب آن لائن پٹیشن میں 40 لاکھ سے زائد افراد نے آرٹیکل 50 کے خلاف ووٹ دیا تھا جو بریگزٹ معاملہ کو مزید گھمبیر بنانے کا باعث بن گیا تھا۔برطانوی وزیراعظم تھریسامئے نے گزشتہ روز اراکین پارلیمنٹ کو لکھے گئے ایک خط میں کہا تھا کہ ہوسکتا ہے کہ وہ بریگزٹ معاہدے کو پارلیمنٹ میں نہ لائیں تاہم دیگر اراکین کا خیال تھا وہ اپنے معاہدے کو اس وقت پارلیمنٹ میں لائیں گی جب اس کی حمایت کرنے والے اراکین کی تعداد زیادہ ہوگی۔خیال رہے کہ برطانوی پارلیمنٹ میں وزیراعظم تھریسامئے کے بریگزیٹ منصوبہ کی مخالفت میں ووٹ پڑے تھے جس کے بعد انہیں اپنے منصوبے پر عمل درآمد میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور طے شدہ وقت تک بریگزٹ ممکن نہ ہوپایا۔یوروپی یونین اراکین نے برطانیہ کو علیحدگی کے لیے دوڈیڈ لائن دی گئی تھیں اور 22 مئی تک بریگزٹ پر عمل درآمد کیلئے وقت دینے پر اتفاق کیا تھا۔برطانوی وزیراعظم تھریسا مئے کے اراکین پارلیمنٹ کو لکھے گئے خط کے باوجود تاحال یہ واضح نہیں ہے کہ حکومت کا اگلا لائحہ عمل کیا ہوگا۔برطانوی وزیر اعظم کے ترجمان کے مطابق یوروپی یونین سے علیحدگی کیلئے دو سال قبل طے کی گئی 29 مارچ کی تاریخ سے صرف 10 روز اور یوروپی یونین کی اہم ترین کانفرنس سے 2 روز قبل تھریسا مئے ، یوروپی یونین کے صدر ڈونلڈ ٹسک کو معاہدے میں تاخیر کے لیے خط لکھ رہی ہیں۔یاد رہے کہ برطانیہ نے 1973 میں یوروپین اکنامک کمیونٹی میں شمولیت حاصل کی تھی تاہم برطانیہ میں بعض حلقہ مسلسل اس بات کی شکایات کرتے رہے ہیں کہ آزادانہ تجارت کے لیے قائم ہونے والی کمیونٹی کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جارہا ہے جس کی وجہ سے رکن ممالک کی خودمختاری کو نقصان پہنچ رہا ہے ۔بریگزٹ کے حامیوں کا کہنا ہے کہ یوروپی یونین سے علیحدگی کے بعد ابتدا میں معاشی مشکلات ضرور ہوں گی لیکن مستقبل میں اس کا فائدہ ہوگا کیوں کہ برطانیہ یوروپی یونین کی قید سے آزاد ہوچکا ہوگا اور یوروپی یونین کے بجٹ میں دیا جانے والا حصہ ملک میں ہی خرچ ہوسکے گا۔