توبہ اور توبہ شکنی فکر انگیز

توصیف احمد وانی

جب انسان توبہ کرتا ہے تو اپنے ساتھ، اپنی روح کے ساتھ، اپنے ضمیر اوراپنے دل کے ساتھ اور ساتھ ہی ساتھ دل میں بسنے والی ہستی کے ساتھ ایک وعدہ بھی کرتا ہے۔ وہ اقرار کرتا ہے جو کچھ ہوا خلافِ اصول تھا،اور اس اقرار کے ساتھ ہی وعدہ یہ ہے کہ آئندہ جو کچھ ہو گا، وعدے کے مطابق ہوگا۔ گذرے ہوئے کل پر ندامت اور آنے والے کل پر استقامت کا عزم، توبہ ہے۔ ندامت کیلئے محض الفاظ کافی نہیں ہوتے۔ عام حالات میں بھی جب کوئی شخص نادم ہو تو الفاظ سے زیادہ اس کی باڈی لینگوئیج یعنی حرکات و سکنات گواہی دیتے ہیں کہ ندامت کا اظہار کرنے والا خلوصِ دل سے اپنی غلطی کا اقرار بھی کر رہا ہے یا نہیں۔ عزم کیلئے محض اعلان کافی نہیں ہوتا، باعزم شخص عمل میں مستعد دکھائی دیتا ہے۔ اعمال کی دنیا میں توبہ کا وہی مقام ہے جو نماز میں وضو کا ہوتا ہے۔ بغیر وضو کے نماز نہیں اور بغیر توبہ کے اعمال کا اعتبار نہیں۔ وضو طہارت کی علامت ہے اور توبہ نیت کی پاکیزگی کی دلیل ہے۔ پاکیزہ نیت کے بغیر اعمال کتنے ہی خوش کن کیوں نہ ہوں، صالح نہیں کہلاتے۔ نیت کا وضو نہ ہو تو بظاہر نیک نظر آنے والے کام بھی موجب ِ فساد ٹھہرتے ہیں۔ نیت میں رضاو قربِ الٰہی نہ ہو تو بھاری بھر کم خدمت ِ خلق کے منصوبے اکثر اوقات شہرت اور سیاست کے ابواب نکلتے ہیں۔ نیت خالص نہ ہو تو جہاد بھی فساد اور مفاد نکلتا ہے۔ نیت کی پاکیزگی انسان کے عقل و شعور کو مفاد کی آلودگی سے نجات دیتی ہے۔ خالص نیت اخلاص کی علامت ہے۔ساری برکتیں اور بڑائیاں اخلاص سے منسوب ہیں۔
راہِ خدا میں توبہ بابِ اوّل ہے۔ یہ وہ باب ہے جس میں سر جھکا کر داخل ہونا ہوتا ہے — بصورتِ دیگربنی اسرائیل کی طرح چالیس برس تک صحرائے بے سمت میں گمشدگی مقدّر کر دی جاتی ہے۔ توبہ کرنے والا خالق ہی کے سامنے نہیں، مخلوق کے سامنے بھی عجز و نیاز کا پیکر ہوتا ہے۔اسی لیے’’اللہ توبہ کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔‘‘ دیکھا یہی گیا ہے کہ محبت اور رحمت عجز کی جانب زیادہ متوجہ ہے۔ متکبر آج تک کسی کا محبوب نہ ہوسکا— اپنے عمل پر مغرور کبھی توبہ نہ کر سکا!
خدا اور صرف خدا کو ماننے والا توبہ کی اہمیت نہیں سمجھ سکتا۔ خدا کو کائناتی قوت، قدرت، مصوّر یا ریاضی دان سمجھنے والا — نُور اور ظلمت، گناہ اور ثواب، قرب اور بُعد کا شعور نہیں رکھتا۔ صرف اور صرف خدا کو ماننے والا اسے اپنی عقل و فہم کے سبب مانتا ہے اور وہ خدا ہی کیا ہوا جو سبب کا محتاج ہوا۔ اپنی عقل کی مہیا کردہ دلیل کے سبب خدا کو ماننے والا، خدا کے نہیں بلکہ اپنی عقل کے گن گاتا ہے۔ اس کے حمدیہ گیت اس کی فہم وخرد کا بڑا بول ہوتے ہیں۔ خدائے عزّ و جلّ کو اس کے پیغمبرؐ کی رسالت اوروساطت سے ماننے والا توبہ کے باب میں ضرور داخل ہوگا۔ توبہ اور وضو کی ضرورت اسے ہوتی جس کے پیشِ نظر کسی مسجد کا محراب و منبر ہو، جسے اپنے محبوب و مقصود کی اقتداءمیں نماز ادا کرنا مطلوب ہو۔ خدا کو محض قدرت اور فطرت تصور کرنے والا عبادت کی ضرورت محسوس نہیں کرے گا،اس کو کون محبوب ہے، جو روٹھا جا رہا ہے، جسے راضی کرنے کیلئے اس نے I am sorry کہنا ہے، جس کی رضاجوئی کیلئے اس نے اپنی جبینِ نیاز کو خم کرنا ہے۔ اُس کے نزدیک کذب اور صدق محض نظریات ہیں، اور وہ نظریات بھی اس کے اپنے ہی ذہن کی پیداوار ہیں۔ اس کا خدا اس سے کچھ طلب نہیں کرتا نہ عمل ، نہ رجوع،نہ اطاعت، نہ رکوع۔ وہ شخصی خدا کا قائل نہیں ہوتا، اس لئے جواب دہی کا بھی قائل نہ ہو گا۔ اس کے نزدیک جزا سزا، حشرنشر، میزان، قیامت، فرشتے اورعذاب و ثواب محض علامتیں اور استعارے ہیں جن کی مدد سے پرانے وقتوں میں اَنبیاءنے لوگوں کو قانون اور اخلاقیات کی تعلیم دی۔ اُس کی دانست میں انبیاءمحض مصلحین اور مفکرین ہی تھے۔ اس کے نزدیک انبیاءکی ذات اورمنصب، مخلوقِ خدا پر خدا کی حجت نہیں ہے۔
توبہ کی ضرورت اور اہمیت اُسے معلوم ہوتی ہے جو خدا کو ایک شخصیت کے روپ میں مخاطب کرتا ہے۔ شخصی خدا تک رسائی انبیاء و مرسلین کی معرفت ہی ممکن ہے، یہی شخصیات ذات ِ باری کے بارے میں بتاتی ہیں کہ اُس کی پسند اورناپسند کیا ہے، وہ کن کاموں سے خوش ہوتا ہے اور کن کاموں میں اس کی ناراضی کا احتمال ہے۔ توبہ روٹھے کو منانا ہے۔ کبائر سے بچنا تو شرطِ اوّل ہے ہی سہی، لیکن صغائر اور لغویات سے اجتناب بھی اس میں شاملِ شرائط ہیں۔ توبہ اورپھر توبہ پر قیام اس کا مسئلہ ہے جسے اپنی محبوب ذات کی رضا مطلوب ہوتی ہے۔ توبہ پر قیام سے انسان قابلِ توجہ ہو جاتا ہے۔
بھلائی کے کاموں پر استقامت بھلا کام ہے، لیکن منکرات سے منہ موڑنا اس سے بھی بڑا کام ہے۔ جھوٹ کو چھوڑنا سچ بولنے سے زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔ ایک شخص جو جھوٹ اور سچ دونوں برابر بولتا رہے، اس کی صداقت پر اعتبار نہیں کیا جا سکتا۔ کلمہ طیبہ تن من کو پاک کرتا ہے۔ اس کی ابتدا بھی “لا” سے ہے۔ نفی، اثبات کی دلیل ہوتی ہے۔ ظلمات سے نور کی طرف ہجرت — ظلم اور ظلمت سے بیزاری کے بغیر ممکن نہیں۔ کبھی بیزاری اور کبھی رغبت— قابل قبول نہیں۔ نیکی پر استقامت وہ مقام نہیں رکھتی جو برائی سے کراہت میں استقامت کو مقام حاصل ہے۔ ظلمت سے بیزاری پر استقامت، نُور میں قیام کیلئے بنیادی شرط ہے۔ راہِ صداقت پرپائے استقامت ہی راہِ قِدم ہے۔ صادقین کی معیت ، راہِ صداقت پر استقامت اختیار کرنے والوں کا نصیبہ ہی ہوا کرتی ہے۔ ’’کونو مع الصادقین‘‘ کی طلب میں پائے جانے والوں میں توبہ کی طلب بھی پائی جاتی ہے۔
بار بار گناہ اور بار بار توبہ کے متعلق پوچھا گیا تو حضرت واصف علی واصفؒ نے فرمایا کہ اگر بار بار گناہ سے شرمندگی نہیں تو بار بار توبہ سے کیسی شرمندگی۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم سے منقول ایک قول کا مفہوم ہے کہ توبہ روح کا غسل ہے، جتنی بار بھی ہوبہتر ہے۔ استقامت کو فوق الکرامت کہا گیا ہے لیکن ایسی استقامت جو فخر اور عُجب میں مبتلا کردے ، اس سے بدرجہا بہتر وہ شکستگی ہے جو عاجزی اور انکسار ی پیدا کرے۔ توبہ کے ٹوٹنے کو اَنا کے ٹوٹنے کے برابر نہیں جاننا چاہیے۔ اپنے عزم کو اَنا نہیں بنانا چاہیے۔ توبہ کا ٹوٹنا اگر اَنا کو بھی ساتھ ہی لےڈوبے اور لے ٹوٹے تو یہ اس سے کہیں بہتر ہے کہ اَنا توبہ کے ساتھ بھی قائم رہے۔ اَنا اپنی لاعلمی میں خود کو عزم کا قائم مقام سمجھ لیتی ہے۔لیکن اَنا اور چیز ہے ، عزم اور چیز۔
اَنا اور عزم میں وہی فرق ہے جو جسم اور روح میں ہوتا ہے۔ عزم کو سلام ہے۔اَنا کو بھی سلام ہے، لیکن دُور سے۔ عزم کی کمی ،ایمان میں کمی کی دلیل نہیں۔ عزم کے بعد توکل کا درجہ ہے’’ فاذا عزمت فتوکل علی اللہ‘‘ (جب تم عزم کر لو تو اللہ پر توکل رکھو)۔ توبہ طلب کرنے کے بعد توفیق بھی طلب کرنی چاہیے۔ توفیق شاملِ حال ہوگئی تو توبہ بھی قائم رہے گی، اور اَنا بھولے سے بھی گھر کی راہ نہیں پائے گی۔ تعوذ ،پناہ ہے، پناہ حاصل ہوگئی تو سر سے ایمان کی چادر نہیں سرک پائے گی۔ اپنی ہمت اور طاقت سے بیزاری کا اظہار اپنے عجز کا اعتراف ہے۔ عجز کا اعتراف کرنے والا اَنا کی وادیِ پرُخار کی طرف نہیں جائے گا۔ توبہ، توفیق اور تعوّذ ، زادِ راہ ہوں تو انسان بے راہ نہیں ہوتا۔
توبہ شکنی پر دوگنی توبہ واجب ہوتی ہے۔ وعدہ خلافی پر تجدید عہد لازم ہوجاتی ہے، کہ اَز روئے حدیث ’’جسے پاسِ عہد نہیں، اس کا کوئی دین نہیں۔‘‘ توبہ شکنی کرنے والا آئینے کے رُوبرو نہ ہوسکے گا، کہ آئینہ سچ اور صرف سچ بولتا ہے۔ اَز روئے حدیث ’’مومن مومن کا آئینہ ہے۔‘‘
[email protected]>