اللہ تعالیٰ کی طرف پہنچانے والا راستہ مسلمان کی اُن کوششوں کی لطیف تعبیر ہے جو وہ اپنے دل کی صفائی ،اپنے پروردگار کو راضی کرنے اور غفلت و سُستی کے بجائے ذکر و حرکت اختیار کرنے کے سلسلے میں کرتا ہے اور اس راستہ پر چل کر وہ جب کسی بُری عادت سے چھٹکارا حاصل کرتا ہے اور بہترین کردار و اخلاق سے آراستہ ہوتا ہے تو یہی اُس کی کامیابی کا نشان ہوتا ہے۔اس نفسیاتی و قلبی تبدیلی سے مسلمان میں بیداری ،رائے میں پُختگی اور اچھے اعمال و کردار پیدا ہوتے ہیںاور پھر توفیق ِ الٰہی کی قوی اُمید پیدا ہوجاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ اُسے صحیح راہ پر چلائے گا اور کم میں بھی برکت عطا کرے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف توجہ کرنے والوں سے زیادہ توجہ کا وعدہ فرمایا ہے۔کسی راہ کے راہی کو اگر خود اُس کی جدوجہد پر چھوڑ دیا جائے تو وہ تھکن کی وجہ سے سُست گام بھی ہوسکتا اور رُک بھی سکتا ہے ،اس لئے خود اس کی جدوجہد سے زیادہ الٰہی مدد درکار ہوتی ہے۔
توبہ اس راہ کا پہلا مرحلہ ہے بلکہ اسی کے ساتھ اِس راہ میں داخل ہونا ممکن ہے ۔توبہ کا لفظ زبانوں پر اِتنا رائج ہوگیا ہے کہ اس کی اصل اہمیت ہی ماند پڑگئی ہے ۔ایک شاندار محل کی تعمیر ایک ویران دل کی تعمیر سے کہیں زیادہ آسان ہے۔اسی طرح ایک قیمتی کتاب کا مرتب کرنا اس سے زیادہ آسان ہے کہ خواہشات سے مغلوب ایک دِل کو از سَرنو مرتب کیا جائے۔توبہ کی ضرورت اسی تعمیر و تربیت کا نام ہے اور لوگ اس لفظ کی اہمیت و وقعت کو سمجھے بوجھے بغیر اِسے بولنے لگتے ہیں۔توبہ کی ضرورت سبھی انسانوں کو ہوتی ہے کیونکہ زندگی میں اُن سے خطائیں ہوتی رہتی ہیں جبکہ بہت سے لوگوں پر خواہشات ،کم عقلی ،ناتجربہ کاری اور بے یقینی کا غلبہ ہوجایا کرتا ہے۔
اسلامی نقطۂ نگاہ میں توبہ ایسی جدوجہد کا نام ہے جو انسان کو کرنی چاہئے ،کوئی دوسرا شخص اس کے لئے یہ کام انجام نہیں دے سکتا ۔اگر ہمارے کپڑے گندے ہوجائیں تو اس طرح صاف نہیں ہوسکتے کہ ہمارے پڑوسی اپنے کپڑے دھولیں ۔اگر ہم کسی فکری گمراہی میں مبتلا ہوتے ہیںتو ہم خود ہی صحیح راستہ اختیار کرکے اس سے نجات پاسکتے ہیں ۔اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کی راہ بھی یہی ہے ،اس سلسلے میں کسی کی سفارش کام نہیں آسکتی ۔اللہ تعالیٰ کے حق کے تعلق سے کسی غلطی کی تلافی اسی طرح ہوسکتی ہے کہ خود خطا کار معذرت پیش کرے ،انبیائے کرام ؑ سمیت اگر دنیا کے سارے لوگ بھی اُس کی طرف سے معذرت کریں اور وہ خود اپنی کج روی پر برقرار رہے تو کسی معذرت یا معافی کی طلب قابل ِ قبول نہیں ہوسکتی ہے۔یہ لازمی ہے کہ گنہگار خود پروردِگار کے سامنے اپنے دل کی گہرائیوں سے پُکارے’’اے میرے پروردِگار ! مجھے معاف کردے ،مجھ پر رحم فرما،تُو ہی بہترین رحم کرنے والا ہے‘‘۔اس کے بعد ہی وہ مغفرت کی اُمید کرسکتا ہے۔جس انسان کا عمل خراب ہو اور اُس کی حالت پریشان کُن ہو ،اُسے اپنے پروردِگار کی طرف جلد رجوع کرنا چاہئے اور یہ پختہ عزم کرنا چاہئے کہ آیندہ وہ اپنی غلط کاریوں سے چھٹکارا حاصل کرکے اپنے اعمال کو سُدھار ے گا ۔اس سلسلے میں کل کا انتظار کئے بغیر یہ کام آج ہی کرنا چاہئے بلکہ اگر صبح کا وقت ہو تو شام تک انتظار کرنا نادانی ہوگی،ہوسکتا ہے وقت اتنی مہلت ہی نہ دے ۔کل کی اُمید پر اپنی زندگی کی تعمیر ِ نو لٹکائے رکھنا کم عقلی ہے ،آج کا وقت اگر حاصل ہے تو اُسے کام میں لاکر انتظار و التوا کو پس ِپُشت ڈالنا چاہئے۔پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:’’اللہ تعالیٰ رات میں اپنا ہاتھ کُشادہ کردیتا ہے کہ د ن کا خطاکار توبہ کرلے اور دن میں اپنا ہاتھ کشادہ کرتا ہے کہ رات کا خطاکار توبہ کرلے‘‘۔(مسلم)
اپنی زندگی کی اَز سرِ نو تشکیل کے سلسلے میں تاخیر کبھی زیادہ مہلک بن جاتی ہے ۔موت تو اچانک ہی حملہ آور ہوتی ہے ۔اللہ تعالیٰ کی در گذر سے کسی دھوکے میں مُبتلا نہیں ہونا چاہئے ۔یہ کتنی خوبصورت بات ہے کہ انسان وقتاً فووقتاً اپنے حالات پر ناقدانہ نظر ڈالتا رہے اور اپنی دائمی کامرانی کے لئے منصوبہ بندی کرتا رہے۔اگر ایک مکان میں صفائی و ترتیب کی ضرورت ہمیشہ رہتی ہے تو کیا انسان کی زندگی میں اس کی کوئی ضرورت نہیں ؟کیا ہمارا نفس اس کا حقدار نہیں کہ ہم اُس کے معاملات پر کبھی کبھی نظرِ ثانی کرتے رہیں اور ضروری اصلاح کرتے رہیں تاکہ وہ اپنی فطری حالت پر لوٹ سکے؟انسان کو اس کی سب سے زیادہ ضرورت ہے کیونکہ اس کا وجود صرف جسمانی نہیں جذباتی اور عقلی بھی ہے اور اُس کے آلودہ ہونے کے زیادہ امکانات ہیں، خاص طور پر جب انسانی نفس کے معاملات میں ہم آہنگی پیدا کرنے والا نظام نہ ہو تو یہ معاملات درختوں سے گرنے والے پتوں کی طرح آوارہ ہوجاتے ہیں۔اسی لئے نفس کی ہمہ وقت نگرانی کی کوشش ناگزیر ہے۔ہر صبح پیدا ہونے کے بعد اور ہر رات سونے سے پہلے اس سلسلے میں غور وفکر سے کام لیتے رہنا ضروری ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:’’بندہ اپنے ربّ سے سب سے زیادہ قریب رات کی گہرائیوں میں ہوتا ہے ،اب اگر اُن لوگوں میں سے بن سکتے ہو جو اس گھڑی میں اللہ کی یاد کرتے ہیں تو ایسے بن جائو‘‘۔(ترمذی)ایسے وقت بستر کی گرمی اور بدن کی راحت چھوڑ کر اپنا مستقبل بنانے کے لئے ذکر ِ الٰہی میں مشغول ہونا کتنی خوش نصیبی کی بات ہے۔
گناہوں کی کثرت سے ہمیں مایوس نہیں ہونا چاہئے ،اگر یہ گنا ہ سمندر کے جھاگ کے برابر بھی ہوں تب بھی اللہ تعالیٰ کو پرواہ نہیں ہوگی بشرطیکہ ہم صدِق دِل سے توبہ کرنے لگ جائیں۔ہم کیوں پچھلے گناہوں کو آئندہ کے لئے رُکاوٹ بنائیں کہ رحمتِ خدا وندی کا دامن بہت وسیع ہے۔قرآنی آیات اور اللہ تعالیٰ کی رحمتِ بے پایاںکا ذکر کرنے والی حدیثوں سے شکستہ دِلوں میں اُمید کی تیز لَو پیدا ہوجاتی ہے اور ماضی کی خطائوں پر پردہ ڈالتے ہوئے اَز سرِ نو زندگی شروع کرنے کا جذبہ پیدا ہو تا ہے۔
شوق کے پَروں پر سوار ہوکر بندوں کو اپنے پروردِگار کی طرف تیزی سے بڑھنا چاہئے ،اگر وہ ایسا نہیں کرتے تو یہ اپنے ربّ اور اُس کے دین سے ناواقفیت ہے۔کون اللہ تعالیٰ سے زیادہ ان کے لئے مہربان ہوسکتا ہے؟پھر یہ مہربانی بغیر کسی غرض کے ہے۔اللہ تعالیٰ نے انسان کو عزت افزائی کے لئے پیدا کیا ہے، ذلیل کرنے کے لئے نہیں۔دین کا کام یہی ہے کہ وہ لوگوں کے درمیان اُن کے طرزِ عمل اور تعلقات کو حق و انصاف کی بنیادوں پر استوار کرے تاکہ وہ دنیا سے اس طرح زندگی گذاریں کہ ظلم و جہالت سے سرو کار نہ ہو ۔انسان کے لئے دین ایسا ہی ہے جیسے بدن کے لئے غذا۔اللہ تعالیٰ ہر ظالم کے مقابلے میں مظلوم کے ساتھ ہے ،کیا یہ رحمت اور بھلائی کی بات نہیں؟اللہ تعالیٰ تو تمام انسانوں کے لئے آسانی اور عزت چاہتا ہے،اب اگر وہ اپنی حرکتوں سے دنیا کو ظلم و جور سے بھردیں تو اس میں کس کی خطا ہے؟ پھر بھی انسان توبہ کرنے کے لئے جب اپنے پروردِگار کی طرف رجوع کرتا ہے تو وہ بہت زیادہ خوش ہوتا ہے۔یہ بات فطری ہے کہ توبہ انسان کی کایا پلٹ دے اور اس کی پہلی زندگی اور توبہ کے بعد کی زندگی میں نمایاں فرق پیدا ہوجائے۔توبہ پوری زندگی کو بدل دیتی ہے ،جزوی تبدیلی نہیں لاتی ۔توبہ کرنے والے کو یہ نہیں دیکھنا چاہئے کہ گناہ کتنا چھوٹا ہے بلکہ یہ دیکھنا چاہئے کہ نافرمانی کس کی ہوتی ہے؟ڈرنے والے کی نظروں میں چھوٹے گناہ بھی بڑے ہوا کرتے تھے۔
صحابہ کرام ؓ کے دِلوں میں اللہ تعالیٰ کی جتنی عظمت تھی اس کی وجہ سے وہ معمولی خطائو ں کو بھی بھاری سمجھتے ھتے لیکن بعد کے مسلمانوں کا حال ویسا نہیں رہا ۔گناہ ایمان کے تقاضوں کی منافی ہوتے ہیں اس لئے ان سے توبہ اور پھر اجتناب کرنا ضروری ہے۔ارشاد ِ الٰہی ہے: ’’اے لوگو! جو ایمان لائے ہو ،اللہ سے توبہ کرو،خالص توبہ،بعید نہیں کہ اللہ تعالیٰ تمہاری بُرائیاں دور کرے‘‘۔(التحریمہ)
گناہوں سے توبہ اور اجتناب کے ذریعہ ہی مسلمان اپنے دین کے صحیح نمائندے بن سکتے ہیں اور تبھی اُن کا معاشرہ ہم آہنگ اور خوشگوار ہوسکتا ہے۔
پتہ۔احمد نگر سرینگر،کشمیر
رابطہ۔9697334305
�����