تعلیم کیلئے تعلیمی ماحول لازمی ہے

تعلیم کو زیادہ سے زیادہ فروغ دینے کے لئے مرکز اور ریاستی حکومتیں مختلف سکیمیںچلا رہی ہیں۔لیکن اس کے باوجودآج بھی سرکاری سکولوں کی حالت قدر بہتر نہیں ہے۔گا ئوں کی بات تو دورشہروں میں بھی سرکاری سکولوں کی حالت درست نہیں ہے۔کہیں عمارت خستہ حال ہے تو کہیںسکول میں اساتذہ کی تقرری ہی نہیں ہے۔یہ حال ملک کے تقریبا تمام سرکاری سکولوں کی ہے۔ ایسا ہی کچھ حال گورنمنٹ پرائمری سکول کالا کرماڑی چنڈیال بلاک بالاکوٹ کا ہے۔جوحقیقت میںتعلیمی ادارہ نہیں اذیت خانہ ہے ۔اس سکول کی عمارت 2014 سے کھنڈرات میں تبدیل ہو چکی ہے ، مگر محکمہ ہے کہ خواب غفلت میں نظر آرہا ہے ۔سرکاری اعلانات میں شعبہ تعلیم کے فروغ کیلئے بلند بانگ دعوے کئے جاتے ہیں، لیکن زمینی حقائق کْلی طور پر ان دعوئوں کے برعکس نظرآرہے ہیں۔سرحدی طلباء کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جہاں انہیںعلم حاصل کرنے کہ لیے کوئی خاص مقام و ٹھکانہ نظر نہیں آرہاہے کیوں کہ تعلیمی اداروں کی خستہ حالت ہے۔
 گورنمنٹ پرائمری سکول کالا کرماڑی چنڈیال بلاک بالاکوٹ میں لگ بھگ40 طلباء زیر تعلیم ہیں اور سرکار کی جانب سے دو اساتذہ یہاں تعینات بھی کئے گئے ہیں۔ جن کے بیٹھنے کے لئے ایک کمرہ بھی دستیاب نہیں ہے اور جب کبھی سکول لگتا تھا تو کسی پڑوسی کے مکان کی آنگن میں بچوں کو بٹھایا جاتا ہے ۔ اس پرائمری سکول کی عمارت 2014 کے طوفانی سیلاب میں گر کر کھنڈرات بن گئی تھی جس کو اس وقت تک محکمہ تعلیم نے دوبارہ تعمیر کرنے کی زحمت گوارہ نہ کی ۔جس سے طلباء کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔اس سلسلے میں سرپنچ روبینہ کوثر کا کہنا ہے کہ علاقائی عوام نے کئی بار متعلقہ محکمہ سے اس کی تعمیر کے لئے اپیل بھی کی، باوجود اس کے محکمہ نے اس طرف کوئی توجہ نہ دی۔ جس کی وجہ سے اس دوردراز علاقہ میں رہنے والے بچوں کی تعلیم متاثر ہورہی ہے۔انہوںنے کہاکہ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ محکمہ تعلیم کلّی طور پر ناکام ہو چکا ہے ۔انہوں نے کہا کہ سرحدی سب ڈویژن مینڈھر کے اندر 70فیصدسکولوں کی یہی حالت ہے۔
اس سلسلے میںمقامی باشندہ محمد رفیق نے کہاکہ بلاک بالاکوٹ کا علاقہ کالاکرماڑی جو عین سرحد پر ہے، یہاں آئے روز گولہ باری ہوتی رہتی ہے۔اس سے ماں باپ کو خوف رہتا ہے اوروہ اپنے بچوں کو سکول نہیں بھیجنا چاہتے ہیں ۔انہوںنے کہاکہ اگر ہمارے بچے سکول جائیں گے تو کہاں تعلیم حاصل کریں گے ؟کیوں کہ تعلیمی ادارہ ہی سلامت نہیں ہے ۔اس ضمن میںمحمد آصف خان نے کہا کہ سرحد پر ہر بنیادی سہولیات بروقت فراہم کرنے کے دعو ے کئے جا رہے ہیں ۔مگر زمینی حقیقت اس کے برعکس ہے۔انہوںنے کہاکہ ہمیں ایک پرائمری سکول دیا گیا لیکن جب وہ قدرتی سیلاب کی وجہ سے کھنڈر میں تبدیل ہوا تو کئی بار محکمہ کے سامنے گوہار لگانے کے باوجود بھی اس کی مرمت نہیں کروائی گئی ۔جس سے خوب واضح ہو جاتا ہے کہ محکمہ اس جانب کتنی توجہ دے رہا ہے ۔ اسی سلسلے میںوسیم خان نے کہا کہ محکمہ تعلیم ہمارے اس پرائمری سکول کی مرمت نہ کرکے ہمارے بچوں کے مستقبل کو خراب کررہا ہے۔انہوںنے کہا کہ متعلقہ محکمہ کو چاہئے کہ سکول کی حالت زار پر ترس کھا کر اس کی مرمت کی جائے تاکہ ہمارے بچوں کا مستقبل بہتر بن سکے ۔
جب زونل ایجوکیشن آفیسر بالاکوٹ سے اس سکول کے متعلق جب بات کی گئی تو انہوں نے بتایاکہ زیڈ ای او دفتر سے کالا کرماڑی پرائمری سکول کے کا غذات آگے بھیجے ہیں لیکن ابھی تک اس کیلئے فنڈ واگزار نہیں ہوئے ہیں جس وجہ سے پرائمری سکول کالا کرماڑی کی عمارت کا کام رُکاپڑا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ابھی تک کوئی فنڈ نہیں ہیں اورجب کوئی فنڈاس سکول کے نام پر واگزار ہوتا ہے تو اس کو تیارکیاجائے گا‘۔
عوامی حلقوں کا اس سلسلے میں کہنا ہے کہ سرحدی عوام کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک کیا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم نے کئی بار اسکول کی حالت زار کو بہتر بنانے کیلئے گوہار لگائی لیکن ہماری بد قسمتی ہے کہ متعلقہ محکمہ اس جانب کوئی توجہ نہیں دے رہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ سرکار اس پرائمری اسکول کی جلد مرمت کرے یا پھر اس عمارت کو یہاں سے اٹھا لے جائے تاکہ سرحد کی مظلوم عوام اندھیرے میں نہ رہ کر کوئی اچھا قدم اٹھائے جو قوم کے نونہالوں کیلئے مثبت ہو۔(چرخہ فیچرس)