’’تعلیمی معیار کو کیسے اونچا کیا جائے‘‘

 ڈوڈہ//جموں وکشمیر رہبرِ تعلیم ٹیچرس فورم ضلعی یونٹ ڈوڈہ کی طرف سے ’’تعلیمی معیار کو کیسے اونچا کیا جائے‘‘کے موضوع پر ٹھاٹھری میں ایک ایجوکیشنل کانفرنس انعقاد کیا گیا جس میں ضلع بھر کے رہبرِ تعلیم اساتذہ کی اچھی خاصی تعداد نے شرکت کی۔فورم کے ریاستی چیئرمین فاروق احمد تانترے نے کانفرنس کی صدارت کی جب کہ نائب چیئرمین بھوپندر سنگھ اس موقع پر بطورِ مہمانِ خصوصی موجود تھے۔ تحصیلدار پھگسو نریش کمار اور ڈی ای پی او ایاز مغل نے بھی کانفرنس میں شرکت کر کے اساتذہ سے خطاب کیا۔کانفرنس کے دوران نظامت کے فرائض محبوب عالم نے انجام دئیے ۔فورم کے ریاستی چیئرمین،نائب چیئرمین،سیکریٹری جہانگیر خان اور ضلع صدر ڈوڈہ اسحق رشید ملک کے علاوہ متعد دیگر مقررین جن میںشکیل احمد میر،فاروق احمد ضلع صدر شوپیان،صفدر علی،محمد اسلم ملک،شبیر احمد شیخ،چوہدری باغ حسین،نعیم احمد،تنویر احمد،محمد اشرف،نارائن دت،حفیظ احمد ضلع صدر کشتواڑمحمد یٰسین حقانی شامل ہیں،نے مقررہ موضو ع پر تفصیل سے بات کی۔مقررین نے کہا کہ نسل نو کی تعلیم و تربیت کی ذمہ داری اساتذۂ کرام پہ عائد ہوتی ہے اور درس و تدریس کا پیشہ جتنا مقدس اور عظمت والا ہے اُتنا ہی حساس اور انتہائی ذمہ داری کا متقاضی ہے۔مقررین نے کہا کہ معیارِ تعلیم کو اونچا کرنے میں استاد کا کردار سب سے اہم ہے اور اساتذہ کو چاہیے کہ وہ اپنا کردار بخوبی نبھائیں۔ مقررین نے اساتذہ کی ذمہ دارایاں بیان کرتے ہوئے اس بات کا اعتراف کیا کہ ایک استاد کے ساتھ عوام کو جو توقعات وابستہ ہوتی ہیں موجودہ دور کے اکثر اساتذہ اُن پر پورا نہیں اُتر رہے ہیں جس وجہ سے اُنہیں معاشرے میں وہ مقام حاصل نہیں ہے جو ماضی میں اُنہیں ہوا کرتا تھا۔اساتذہ کو چاہیے کہ وہ اپنے پیسے کی عظمت  اوراپنی ذمہ داری کو سمجھیںاور معاشرے کو جو توقع اُن سے ہے اُس پر پورا اُترنے کی بھر پور کوشش کریں۔مقررین نے کہا کہ نئی نسل کو بہتر تعلیم فراہم کرنے اور معیارِ تعلیم کو اونچا کرنے کے سلسلہ میں اساتذہ کے ساتھ ساتھ والدین،حکومت، انتظا میہ اور معاشرہ پر بھی بہت ساری ذمہ اریاں عائد ہوتی ہیں ۔اگر سب نے اپنی اپنی ذمہ داری کو سمجھا اور اُنہیں بخوبی نبھایا تو کوئی وجہ نہیں کہ ہماری تعلیم کا معیار بلندیوں تک نہ پہنچے۔کانفرنس کے کامیاب انعقاد میںمحبوب عالم،جاوید احمد،ہمت راج،برہم کشور،جعفر ماگرے،کیسری سنگھ رانا،ششی کمار،نارائن دت،سکون منیر وانی،ذولفقار،عنایت اللہ زرگر،اعجاز وانی اور محمد اسحق ڈار نے اہم کردار ادا کیا۔