سعید باشاہ
تعلیم کسی بھی قوم کی ترقی، اس کے شعور اور اس کی اخلاقی بقا کی ضامن ہوتی ہے۔ یہ وہ طاقت ہے جو انسان کو مادی اور فکری اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لاتی ہے، لیکن آج کے مادی اور سرمایہ دارانہ دور میں تعلیم کا پورا ڈھانچہ اور اس کا اصل مقصد ہی تبدیل ہو چکا ہے۔ وہ علم جو کبھی شخصیت کو نکھارنے، فہم و فراست کو بیدار کرنے اور انسانیت کو سنوارنے کا ذریعہ تھا، آج محض رینک، گریڈز، اور ڈگریوں کے حصول کی ایک بے رحم اور اندھی دوڑ بن کر رہ گیا ہے۔اس مسابقت کی لہر میں جو طبقہ سب سے زیادہ خاموشی سے پس رہا ہے، وہ ہے ہماری نوجوان نسل۔ آج کا طالب علم کتابوں کے بوجھ سے زیادہ اس خوف تلے دبا ہوا ہے کہ اگر وہ امتحان میں ناکام ہو گیا، تو معاشرہ اسے ایک ناکارہ انسان قرار دے دے گا۔ یہ مقالہ اسی نفسیاتی بوجھ، اس کے اسباب اور حالیہ دور میں امتحانی نظام میں پیدا ہونے والی سنگین خامیوں اور عوامی تحریکوں کا احاطہ کرتا ہے۔
مسابقت کا زہریلا ماحول اور ‘کوچنگ کلچر’کا عروج ملک کے موجودہ تعلیمی منظرنامے پر نظر ڈالیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اسکول اور کالج اب محض ایک رسمی ضرورت بن کر رہ گئے ہیں۔ اصل تعلیمی نظام پر اب ’کوچنگ سینٹرز‘ کا قبضہ ہو چکا ہے۔ لاکھوں روپے کی بھاری فیسیں وصول کرنے والے یہ کارپوریٹ ادارے طالب علموں کو انسان یا مستقبل کا معمار نہیں سمجھتے، بلکہ انہیں رینک لانے والی ایک ‘مشین’کے طور پر دیکھتے ہیں۔ان اداروں کا ماحول انتہائی دباؤ والا ہوتا ہے، جہاں بچوں کو دن رات صرف ایک ہی سبق یاد کرایا جاتا ہے کہ’’ تمہارا دوسرا مقام بھی ایک ناکامی ہے۔‘‘ یہ کلچر طالب علموں کی تخلیقی صلاحیتوں (Creativity) کو کچل دیتا ہے۔ جب پندرہ ، سولہ سال کے طلاب دن میں 14 گھنٹے صرف امتحانی سوالات حل کرنے کے خوف میں گزارتا ہے تو اس کی کمسنی اور اس کی معصومیت وہیں دم توڑ دیتی ہے۔ والدین کی حد سے زیادہ توقعات اور معاشرتی دباؤنفسیاتی ماہرین کے مطابق، بچوں پر امتحانی خوف سوار کرنے میں سب سے بڑا کردار والدین اور ان کے آس پاس کے معاشرے کا ہوتا ہے?۔ہر ماں باپ یہ چاہتا ہے کہ ان کا بچہ سب سے آگے رہے، لیکن جب یہ خواہش ایک ضد اور سماجی وقار کا مسئلہ بن جائے تو بچے کے لیے زہرِ قاتل ثابت ہوتی ہے۔والدین اکثر اپنے بچوں کی منفرد صلاحیتوں کو نظر انداز کر کے ان کا موازنہ خاندان یا پڑوس کے دوسرے بچوں سے کرنے لگتے ہیں?۔ہمارے معاشرے نے کامیابی کا معیار صرف چند مخصوص شعبوں (جیسے میڈیکل، انجینئرنگ، یا سول سروسز) تک محدود کر دیا ہے۔ اگر کوئی بچہ آرٹس، ادب یا کھیل کود میں دلچسپی رکھتا ہے، تو اسے حقارت کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ والدین کی امیدوں پر پورا نہ اترنے کا یہی خوف بچوں کو اندر ہی اندر کھوکھلا کر دیتا ہے۔
حالیہ امتحانی بحران (NEET 2026 اور CBSE تنازعات)یہ بحران صرف نفسیاتی نہیں رہا، بلکہ اب یہ ہمارے امتحانی نظام کی انتظامی سڑانڈبن کر سامنے آ چکا ہے۔ سال 2026 کے حالیہ واقعات نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ ہمارے ملک کا امتحانی نظام خود کرپشن اور نااہلی کا شکار ہے، جس کا خمیازہ لاکھوں معصوم چہروں کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔اس سال ملک کے سب سے بڑے میڈیکل انٹرنس امتحان (NEET) کا پیپر بڑے پیمانے پر لیک ہوا، جس کے بعد 20 لاکھ سے زائد طلبہ کا مستقبل داؤ پر لگ گیا اور حکومت کو دوبارہ امتحان کرانے پر مجبور ہونا پڑا۔ اس سنگین لاپرواہی کی وجہ سے ذہنی دباؤ کا شکار ہو کر تقریباً 20 کے قریب طلبہ نے خودکشی جیسے انتہائی اقدامات کر لئے۔اسی سال ہائی اسکول کے لاکھوں طلبہ اس وقت شدید ذہنی اذیت کا شکار ہوئے جب سی بی ایس ای(CBSE) کے آن اسکرین مارکنگ اور ری ویلیویشن کے عمل میں سنگین خامیاں پائیں گئیں، جس نے امتحان کی شفافیت پر سوالیہ نشان کھڑا کر دیا ہے طلبہ اب یہ سوال پوچھ رہے ہیں کہ رات دن جاگ کر کی جانے والی محنت کا کیا فائدہ، اگر پورا نظام ہی چند پیسوں کے عوض بک جاتا ہے؟
جنتر منتر پر احتجاج اور ‘کاکروچ تحریک’انہی تعلیمی گھوٹالوں اور پیپر لیک کے خلاف ملک کی تاریخ کا ایک منفرد اور بڑا طالب علم احتجاج شروع ہو چکا ہے?۔دلی کا تاریخی مقام جنتر منتر اس وقت طلبہ کی آواز کا سب سے بڑا گڑھ بنا ہوا ہے۔?کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کی تحریک ،یعنی سوشل میڈیا سے شروع ہونے والی یہ Gen-Z اور نوجوانوں کی تحریک جسے ابھیجیت دیپکے لیڈ کر رہے ہیں، اب سڑکوں پر ایک سیلاب کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ جولائی 2026 کے اس تپتے ہوئے مہینے میں ہزاروں طلبہ نے جنتر منتر پر ڈیرے ڈالے ہوئے ہیں?۔ان کا مطالبہ ہے کہ مرکزی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان فوری طور پر اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں?۔حال ہی میں دہلی پولیس کی طرف سے طلبہ پر لاٹھی چارج اور آنسو گیس کے استعمال نے اس احتجاج کو مزید ہوا دے دی ہے۔لداخ کے مشہور سماجی کارکن سونم وانگچک بھی طلبہ کے ساتھ بھوک ہڑتال پر بیٹھے ہیں، جس نے اس تحریک کو ایک قومی مسئلہ بنا دیا ہے۔
نظام کی بنیادی خرابی ۔رَٹّہ بمقابلہ عملی مہارت ،اگر ہم اس مسئلے کی جڑ تک جائیں تو معلوم ہوگا کہ ہمارا تعلیمی نظام لارڈ میکالے کے دور کے اس نوآبادیاتی ڈھانچے پر کھڑا ہے جو صرف ’کلرک‘ پیدا کرنے کے لیے بنایا گیا تھا۔ ہمارا موجودہ نظام ‘رٹّہ مارنے’ (Rote Learning) کو فروغ دیتا ہے?۔جو بچہ جتنا اچھا رَٹ سکتا ہے، وہ امتحان میں 99 فیصد نمبر لے آتا ہے۔اس نظام میں علمی گہرائی، تنقیدی سوچ (Critical Thinking) اور عملی مہارتوں (Practical Skills) کو پرکھنے کا کوئی طریقہ موجود نہیں ہے۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ڈگریوں کے انبار اور اعلیٰ نمبرات حاصل کرنے کے باوجود جب یہ نوجوان عملی زندگی میں قدم رکھتے ہیں تو وہ بے روزگار گھومتے ہیں ،کیونکہ ان کے پاس وہ مہارتیں نہیں ہوتیں جو جدید دنیا کی ضرورت ہیں،یہ خامی نوجوانوں میں مایوسی کو مزید گہرا کر دیتی ہے۔
حل کی راہیں اور آخری بات۔ اس بھیانک اور جان لیوا دلدل سے نکلنے کے لیے ہمیں ہنگامی بنیادوں پر انقلابی تبدیلیاں کرنی ہوں گی ۔والدین کو یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ان کے بچے کا ذہنی سکون اور اس کی مسکراہٹ دنیا کے کسی بھی رینک یا سرکاری نوکری سے ہزار گنا زیادہ قیمتی ہے?۔بچوں پر اپنی ادھوری خواہشات کا بوجھ ڈالنا بند کرنا ہوگا۔ حکومت کو پیپر لیک جیسے جرائم کے خلاف سخت ترین قوانین بنانے ہوں گے اور نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (NTA) جیسے اداروں کو دوبارہ سے منظم کرنا ہوگا ،تاکہ طلبہ کا بھروسہ بحال ہو سکے۔ امتحانات کا طریقہ کار نمبروں کے بجائے اہلیت اور ہنر پر مبنی ہونا چاہیے۔ ہر تعلیمی ادارے اور کوچنگ سینٹر میں کونسلرز کا ہونا لازمی قرار دیا جائے جو طلبہ کو یہ سکھائیں کہ زندگی میں کسی ایک امتحان میں فیل ہونا زندگی کا خاتمہ نہیں ہے۔ تعلیم کا اصل مقصد زندگی جینا سکھانا ہے، زندگی چھیننا نہیں۔ اگر ہم نے وقت رہتے اپنی نوجوان نسل کو اس تعلیمی مافیا، کرپشن، اور ذہنی دباؤ سے نجات نہ دلائی، تو ہم کاغذ کی ڈگریوں سے لیس نوجوانوں کی ایک فوج تو کھڑی کر لیں گے، لیکن ایک صحت مند، روشن اور مضبوط معاشرے کی بنیاد ہمیشہ کے لیے کھو دیں گے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم کامیابی کی تعریف بدلیں، نمبروں کی اس اندھی دوڑ کو ختم کریں اور اپنے بچوں کے ذہنوں کو آزادی اور سکون لوٹائیں۔