سر زمین کشمیر پر مسلسل غیر یقینیت کے بادل منڈلارہے ہیں اور اہل کشمیر لگاتار ایسی صورتحال سے دوچار ہیں جس میں دور دور تک صرف عدم اطمینان، خوف اور لاچارگی ہی نظر آرہی ہے۔یہاں کی زندگی کا ہر شعبہ متاثر ہے جس میں بے شک سیاست بھی شامل ہے ۔ متاثر ہ سیاسی شعبے نے تو یہاں کے رہنے والے لوگوں کی زندگیوں کو اجیرن بنا رکھا ہے۔بندشوں، پابندیوں، نگرانیوں کا طویل سلسلہ کسی وقفے کے بغیر جاری ہے۔سینئر شہریوں کو گلہ ہے کہ اُن کے بچے ٹارگٹ پر ہیں،نوجوانوں کو شکوہ ہے کہ اُنہیں اپنے جذبات کے اظہار کا موقع نہیں دیا جارہا ہے،تاجر مالی بحران کا شکار ہیں یہاں تک کہ سرکاری ملازمین بھی آئے دنوں ہڑتالیں کرکے عام لوگوں کی پریشانیوں میں اضافہ کررہے ہیں۔سیاست دان بھی خود کو نا موافق حالات میں محسوس کررہے ہیں اور اُن کے آئے دنوں کے بیانوں سے مستقبل کی جو تصویر آنکھوں کے سامنے رقص کرنے لگتی ہے وہ اتنی بھیانک ہے کہ مستقبل سے ڈر لگنے لگتا ہے۔ستم بالائے ستم یہ کہ ایسی صورتحال تیار ہوئی ہے جس میں صحافی بھی کم و بیش خاموش ہیں اور حقوق کے کارکنان بھی،اصحاب رائے بھی گنگ ہیں اور سماج کے ذمہ دار شہری بھی دنگ ہیں!
تصویر کا دوسرا رُخ یہ ہے کہ انتظامیہ دعویٰ پہ دعوی کررہی ہے۔ اُس کیلئے تعمیر و ترقی کی رفتار کافی تیز ہے۔ لوگ مطمئن اور خاموش ہیں۔پتھر بازی کا سلسلہ بند نہیں تو قابل ذکر حد تک کم ہوا ہے۔ملی ٹنسی کا گراف گھٹ رہا ہے وغیرہ وغیرہ۔اس صورتحال میں مزاحمتی خیمے کا پتہ نہیں مل رہا ہے اور جو اکا دُکا آوازیں سنائی دے رہی ہیں وہ مین اسٹریم پارٹیوںکی ہیں۔ بالفاظ دیگر حالات پر انتظامیہ کا مکمل کنٹرول ہے اور جو مین اسٹریم سیاسی جماعتوں کے پیپلز الائنس نامی فورم کے ذریعے احتجاج کا سلسلہ چل پڑا ہے وہ مرکزی حکومت کی طرف سے علاقے کے اراضی قوانین میں کی گئی ترامیم کے خلاف ہے۔ان قانونی ترامیم کے ذریعے تمام بھارتی شہریوں کو جموں کشمیرمیں اراضی خریدنے اور دیگر غیر منقولہ جائیداد کا مالک بننے کا اہل بنا دیا گیاہے۔نئے اراضی قوانین کے مطابق اگرچہ جموں کشمیر کی زرعی زمین کو غیر زرعی مقاصد کے لیے منتقل نہیں کیا جا سکتا لیکن اس پر تعلیمی ادارے، اسپتال اور دیگر سہولیات کیلئے تعمیرات کی جا سکتی ہیں۔اس کے علاوہ زمین کے مالک کو اس بات کا اختیار ہو گا کہ وہ اپنی زرعی اراضی کسی غیر کاشت کار کو بھی فروخت کر سکتا ہے یا اس کا تبادلہ کر سکتا ہے جس کے بعد زمین لینے والا شخص اس اراضی کو غیر زرعی مقاصد کے لئے استعمال کر سکتا ہے۔مرکزی سرکار کے اس فیصلے سے سرینگر اور جموں میں احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ شروع ہو ا ہے جن کا اہتمام مین اسٹریم سیاسی جماعتیں کررہی ہیں۔یہ سیاسی جماعتیں اب مزاحمتی خیمے کے کشمیر کے آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنے کے اُس خدشے کا کھل کر اظہارکررہی ہیں جس پر ابھی ماضی قریب میں یہی جماعتیں مزاحمتی لیڈران کو تختہ مشق بنارہی تھیں۔
بعض سیاسی تجزیہ نگاروں کا ماننا ہے کہ جموں کشمیر کی مین اسٹریم سیاسی جماعتیں خاص کر نیشنل کانفرنس اور پیپلز ڈیمو کریٹک پارٹی کو نئے اراضی قوانین کی صورت میں ایک ایسا ہتھیار ہاتھ آیا ہے جس کے بل پر وہ ایک بار پھر اپنی سیاسی دکان چمکانے کی حالت میں آگئی ہیں۔بصورت دیگر اگست2019سے جس طرح اُن پر بھی خاموشی چھائی ہوئی تھی اُس سے یہی تاثر مل رہا تھا کہ وہ بھی ڈر اور خوف کا شکار ہوکر’ اٹانومی‘اور ’سیلف رول‘ کی لحافیں لیکر سو گئی ہیں۔پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی کی رہائی (13اکتوبر) سے تو مین اسٹریم سیاست میں جیسے نئی جان آگئی۔جموں کشمیر کی سابق پہلی اور اب تک کی آخری خاتون وزیر اعلیٰ کی رہائی کے فوراً ’عوامی اتحاد برائے گپکار اعلامیہ‘ میں بھی نئی جان آگئی اور نیشنل کانفرنس صدر ڈاکٹرفاروق عبد اللہ اور نائب صدر عمر عبد اللہ بھی کافی متحرک ہوگئے۔گوکہ عمر کے مطابق’’اس وقت اقتدار کی سیاست کرنا باعث لعنت ہے‘‘ لیکن اس حقیقت سے وہ بھی انکار نہیں کرسکتے کہ نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی ایسی سیاست پر یقین رکھتی ہیں جس کی منزل اقتدار ہے۔فرض کریں کہ کل الیکشن کمیشن آف انڈیا جموں کشمیر میں اسمبلی انتخابات کا اعلان کرتا ہے تو کیا این سی اور پی ڈی پی اُن سے دوری اختیار کریں گی؟ایسا کرنا دونوں پارٹیوں کیلئے بہت ہی مشکل ہے کیونکہ ایک تو مذکورہ پارٹیاں مرکز کے ساتھ مخصوص حد تک ہی ٹکرائو کی پالیسی اختیار کرسکتی ہیں اور دوم یہ کہ الیکشن سے دوری کی صورت میں اُن کے حریفوں کیلئے اقتدار پر براجماں ہونے کی راہ ہموار ہوجائے گی جو دونوں این سی اور پی ڈی پی کیلئے ناقابل قبول ہوگا۔
تجزیہ کہتے ہیں کہ فی الحال جس طرح این سی اور پی ڈی پی کے دفاتر بند کئے جاتے ہیں اور ان کے لیڈران کی گرفتاریاں عمل میں لائی جاتی ہیں اُس سے بعض عوامی حلقوں میں اُن کی پذیرائی ہورہی ہے اور دونوں جس گمنامی کی حالت میں تھیں اُس سے اُنہیں چھٹکارا مل گیا ہے۔اب مذکورہ پارٹیوں کے لیڈران کو کم سے کم بات کرنے کا موقع ہاتھ آیا ہے۔اب یہ اس بات پر منحصر ہے کہ دونوں اس موقع کا کتنا اور کس حد تک فائدہ اٹھائیں گی۔
عمر نے موقع و محل دیکھتے ہوئے ہی کہا’’اگر جموںکشمیر کی تمام سیاسی جماعتیں پہلے متحد ہو جاتیں تو یہ دن نہیں دیکھنا پڑتا‘‘۔بالفاظ دیگر عمر کو ’’عوامی اتحاد‘‘ میں اُمید کی کرن نظر آرہی ہے۔یعنی اُنہیں بھی اس بات کا احساس ہے کہ مین اسٹریم پارٹیوں کیلئے میدان عمل نہ ہونے کی حد ک سکڑ گیا تھا اور ’’عوامی اتحاد‘‘ نے اس میدان میں فی الوقت اتنی وسعت پیدا کردی کہ وہ اپنا ’کھیل‘ آسانی کے ساتھ کھیل سکتے ہیں۔
وائس آف امریکہ کی ایک رپورٹ کے مطابق جموں کشمیر کے سابق وزرائے اعلیٰ محبوبہ اور عمر نے مرکزی حکومت کے خلاف’’فیصلہ کن لڑائی‘‘لڑنے کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ وہ جموں کشمیر کے بارے میں گزشتہ 15 ماہ کے دوران اٹھائے گئے ہر ’’غیر جمہوری، غیر آئینی اور غیر قانونی اقدام‘‘ پر مزاحمت کریں گے۔محبوبہ نے تو اگست2019کے فیصلوں کو ’’کالے فیصلے‘‘ قرار دیکر نئی دلی کے ساتھ مخاصمت کو کافی حد تک برھادیا ہے۔عمر کے مطابق ’’مرکزی حکومت نے کشمیریوں کو کمزور اور تقسیم کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے۔ اب ہماری لڑائی اپنی شناخت اور اپنے مستقبل کے دفاع کے لئے ہے‘‘۔
عوامی حلقے بھی خدشات کے اندر ہی زندگیاں گذار رہے ہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ احتجاجی مظاہروں کو زور اب قابل ذکر حد تک کم ہوگیا ہے لیکن اس تلخ حقیقت سے بھی آنکھیں نہیںچرائی جاسکتی ہیں کہ اس کی وجہ اطمینان نہیںبلکہ مایوسی اور خوف ہے۔ماہرین کہتے ہیں کہ کسی بھی قوم میں جب مایوسی اور خوف حد سے بڑھ جاتا ہے تو اس کے سنگین نتائج بر آمد ہوتے ہیں۔مثبت سیاست کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ رعایا کے دلوں سے منفی رجحانات کا خاتمہ کرکے قوم کی مثبت تعمیر کی جائے اور ایسا صرف نئی دلی کے ذریعے ہی کیا جاسکتا ہے۔رہی بات کشمیر مسئلے کے خارجی پہلوئوں کی تو فی الحال نئی دلی اُن سے منکر ہے جو الگ ہی انداز میں یہاں کے لوگوں کو متاثر کرنے کا مؤجب بن رہا ہے اوراس کا پہلا نتیجہ خون خرابے کی صورت میں سامنے آرہا ہے جو لاتعداد مسائل کی وجہ بن رہا ہے۔