سرینگر// محکمہ تعلیم کشمیر نے بدھ کو تمام پرائیویٹ تسلیم شدہ سکولوں کو تنبیہ کی ہے کہ وہ کسی خاص دکان سے کتابیں یا وردی خریدنے کیلئے والدین کومجبور نہ کرے اورخلاف ورزی کی پاداش میں اُن کی رجسٹریشن منسوخ کی جائے گی۔ محکمہ تعلیم کشمیر کی جانب سے بدھ کو جاری ایک سرکیولر میں کہا گیا’’ایک بار پھر اس ڈائریکٹوریٹ کے نوٹس میں آیا ہے کہ تسلیم شدہ پرائیویٹ اسکول اب بھی اسکول کے احاطے میں کتابیں و وردیاں فروخت کرنے میں ملوث ہیں اور یہاں تک کہ والدین کو بھی کچھ مخصوص نجی دکانوں سے کتابیں خریدنے پر مجبور کیا جارہا ہے، اس کے علاوہ موجودہ کتابوں کو تبدیل بھی کیا جارہا ہیں۔ تسلیم شدہ غیر امدادی نجی اسکولوں کی عادت بنتی جارہی ہے جسے بہت سنجیدگی سے دیکھا جا رہا ہے‘‘۔ محکمہ تعلیم نے نجی اسکول منتظمین کو متنبہ کرتے ہوئے کہا’’ ایک بار پھر تمام پرائیویٹ تسلیم شدہ اسکولوں کو حکم دیا جاتا ہے کہ وہ والدین کو کسی خاص دکان سے کتابیں و وردیاں خریدنے اور کتابوں کو تبدیل کرنے پر مجبور کرنے سے باز رہیں‘‘۔ ڈائریکٹر محکمہ تعلیم کی طرف سے جاری سرکیولرمیں کہا گیا ہے کہ والدین کے لیے کتابوں اور وردیوں کی خریداری اور وسیع تر انتخاب کے لیے کھلے بازاروں میں سہولیات دستیاب ہونی چاہے۔ سرکیولر کے مطابق’’ان ہدایات سے کسی بھی انحراف کو سنجیدگی سے دیکھا جائے گا اور قانون کی دفعات کے مطابق کارروائی کی جائے گی جس میں’ این او سی‘ کی منسوخی اورواپس لینا بھی شامل ہو سکتا ہے۔‘‘ ڈائریکٹر اسکول ایجوکیشن نے تمام چیف ایجوکیشن آفیسراں، ڈپٹی چیف ایجوکیشن آفسراں،سینئر ترین زونل ایجوکیشن آفیسراں کی سربراہی میں خصوصی مانیٹرنگ ٹیمیں تشکیل دی ہیں جو پرائیویٹ سکولوں کی طرف سے کتابوںو وردیوں کیلئے والدین پر کسی بھی اسکول سے خریداری کے لیے مخصوص دکانوں کا انتخاب کرنے ،موجودہ کتابوں کو نئی کتاب سے تبدیل کرنے اور اس طرح وادی کے موجودہ حالات میں والدین پر مزید بوجھ ڈالنے کے عمل کے بارے میں موصول ہونے والی شکایات کی تصدیق کریں گے۔سرکلر میں مزید کہا گیا ’’اس سلسلے میں کی گئی کارروائی ہفتہ وار بنیادوں پر ڈائریکٹوریٹ میں جمع کرائی جائے گی۔‘‘