واشنگٹن // امریکا نے ترکی کی حکومت سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ وہ شمالی شام میں کرد ڈیموکریٹک فورسز کیخلاف جاری فوجی کارروائی فوری طورپر بند کرے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ترک ہم منصب رجب طیب اردغان کو ٹیلیفون کیا اور ان پر زور دیا کہ وہ شام میں جاری فوجی کارروائی بند کریں۔وائٹ ہاؤس کے مطابق صدر ٹرمپ نے عفرین میں جاری پرتشدد کارروائیوں پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ ترکی کی فوجی کارروائی سے شام میں ہمارے مشترکہ اہداف کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ صدر ٹرمپ نے اپنے ترک ہم منصب سے مطالبہ کیا کہ وہ شام میں جاری کارروائی کے دوران شہریوں کی جانوں کا تحفظ یقینی بنانے کیاحکامات جاری کریں۔خیال رہے کہ شام میں 2000 امریکی فوجی تعینات ہیں۔ ان میں سے بیشتر اہلکار ایلیٹ یونٹوں سے منسلک ہیں۔درایں اثناء ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے امریکی صدر سے بات چیت کرتیہوئے کہا ہے کہ شام میں کردوں کے خلاف جاری فوجی کارروائی منطقی انجام تک جاری رہے گی۔ انہوں نے امریکا پر زور دیا کہ وہ شام میں کردوں کی حمایت اور دفاعی مدد کا سلسلہ بند کرے۔ترک ایوان صدر کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ صدر ایردوآن نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر واضح کیا ہے کہ شام میںجنگجوئوں کے خلاف جاری کارروائی عالمی قانون کے مطابق ہے جسے مقاصد کے حصول تک جاری رکھا جائے گا۔بیان میں امریکی حکومت پر زور دیا گیا ہے کہ وہ شام میں کرد جنگجوں کو سپورٹ کرنا بند کرے۔ بیان کے مطابق شام میں عفرین کے مقام پر جاری فوجی آپریشن کی تکمیل کے بعد منبج کے مقام میں بھی فوج داخل کی جاسکتی ہے۔