ا ﷲ رب العزت کا لاکھ لاکھ شکر و احسان ہیں جس نے ہمیں عالم انسایت کے عالم میں مبعوث کیا اور ہمیں رشد وہدایت کے لئے پیغمبران عظام کو مبعوث فرمایا ۔اپنے پیارے محبوب حضرت محمد ﷺ کو عالم دنیا میں رحمتہ اللعالین بنا کر بھیجا۔انہوں نے ہمیشہ اپنے درس وتقریر میں آپسی بھائی چارہ ،اخوت ،ہمدری ،ایک دوسری کی مدد کرنا ،امن وامان میں رہنا ،سب سے بڑھ کر عالم انسانیت کا وہ لازوال پیغام دیا جو تاریخ کے کتابوں میں ہمیشہ سنہری حروف سے رقم کیا جائے گا ۔اسلام نے کسی جگہ بھی اس بات کی تائید نہیں کی کہ کسی غیر مذاہب یا کسی مذہب کے رہنما کو تحقیر و تذلیل کرنا ،نہ ہی کسی مذہب میں یہ لکھا ہے کہ مذہب کے پیشواؤں کے حق میں ایسے الفاظ کہنا جس سے عالم انسانیت مجروح ہوسکتی ہیں ۔
ہندوستان ایک ایسا جمہوری ملک ہے جس میں ایک ہی مذہب کے لوگ نہیں رہتے بلکہ یہ ایک ایسا ملک ہے جس کے بارے میں کہاجاسکتا ہے کہ یہ ملک گنگا جمنی تہذیب کی بنیاد پر منحصر ہے ۔لیکن اس ملک کو بکھیرنے اور تقسیم کرنے میں ہمیشہ شر پسند عناصرمنہمک رہتے ہیںجو ملک کی بقا اور ترقی نہیں چاہتے ہیں ۔اسی لئے وقتاًفوقتاً ایسے لوگوں ،جن کا پرُ فطور ذہن اس گنگا جمنی تہذیب کو زک پہنچانا چاہتا ہے،اپنی منفی سوچ ، سیاسی اور ذاتی مفاد کے بنیاد پرہزاروں برس پر محیط اس آپسی بھائی چارہ اور گنگا جمنی تہذیب کو مٹانا چاہتے ہیں ،جس سے ملک میں انتشار اور آپسی تناؤ کے سوا کچھ حاصل ہونے والا نہیں ہوتا ہے۔حال ہی میں جموں صوبہ میں ایک شر پسند کا ایک ایسا ویڈیو سامنے آیا جس میں انہوں نے مسلمانوں کے پیغبر حضرت محمد ﷺ کی گستاخی کی ۔ایسے نازیباالفاظ استعمال کئے جس سے ایک قوم کے جذبات مجروح ہوئے ۔اس کا رد عمل میںمسلمانوں نے جگہ جگہ پر احتجاجی جلوس نکالے اور حکومت کو اس بات سے باخبر کیا کہ گستاخ رسول ﷺ کو جلد از جلد کیفر کردار تک پہچایا جائے ۔کیونکہ یہ ٹھیس ایک فرد تک محدود نہیں بلکہ ملک کے پچیس کروڑمسلمانوں کے جذباتوں کو مجروح کیا گیا ،بالخصوص جموں کشمیر کے مسلمانوں کو ۔
تاریخ کا مطالعہ کرنے سے یہ بات مترشح ہوتی ہے کہ گستاخان رسول ﷺ کاانجام عبرتناک ہوتا ہے ۔یہ صحیح ہے کہ آپﷺ کمال عفودرگزر فرمانے والے ہیں ۔ حدیث شریف میں ہے کہ ماانتقم لنفسہ حضور ﷺ نے اپنی ذات کے تعلق سے کسی سے انتقام نہ لیا، ہاں اﷲتعالیٰ کی حرمتوں کو پامال کرنے کے سبب سزا دی۔حضور کی شان اقدس میں انتہائی ذلیل گستاخی کرنے والے بعض کافر و مرتدین مثلاًعقبہ بن معیط،کعب بن اشرف ،عبداﷲبن خطل کو قتل کرنے کا حکم دیاگیا ۔یہود ونصاریٰ شروع دن ہی سے شان اقدس ﷺ میں نازیبا کلمات ادا کرتے چلے آرہے تھے اور آج بھی یہ سلسلہ جاری ہے۔ دراصل یہ لوگ اپنی دنیا و آخرت کو برباد کرتے ہیں اور صبح قیامت تک رسوائی ان کا مقدر بن گئی ۔قران اور حدیث میں بے شمار ایسے واقعات موجود ہے جن سے یہ بات عیاں ہوجاتی ہے کس طرح ان لوگوں کے بارے میں اﷲاور اﷲ کے رسول ﷺنے وعید فرمائی ۔’’بے شک جو ایذا دیتے ہیں اﷲاور اس کے رسول کو ان پر لعنت ہے، دنیا میں آخرت میں اور اﷲنے ان کے لئے ذلت کا عذاب تیار کر رکھا ہے ‘‘( القران سورہ احزاب ) اﷲ کو ایذا دینا یہ ہے کہ اس کی ایسی صفات بیان کرے جس سے وہ پاک ہے یا اس کے محبوب بندوں کو ستائے ،حضور کو ایذا دینا یہ ہے کہ حضورﷺ کے فعل کو ہلکا جانے ہلکی نگاہ سے دیکھے یا کسی قسم کا لعن طعن کرے یا آپ کے ذکر خیر کو روکے، آپ کو عیب لگائے، ایسے لوگ دنیا و آخرت میں لعنت کے مستحق ہیں ۔
یہ بات قابل غور ہے کہ مسلمان کہیں بھی ہو، کسی زبان و علاقے کا ہو، کتنا گناہ گار کیوں نہ ہو ،شرابی ہو ،جواری ہو ،زانی ہو مگر جہاں حضور ؐکی شان میں کسی گستاخ نے اپنی بدزبانی کی، اس گنہگار مسلمان کو ہرگز یہ برداشت نہیں کہ کوئی اس کے رسول ﷺ کے بارے میں کچھ کہے۔بلا شبہ ایک امتی کا اپنے نبیؐ کے ساتھ تعلق ہر قسم کے خونی ،جانی ،مالی ،حسبی اور نسبی تعلقات سے بڑھ کر ہوتا ہے ۔انسان اپنی جان و مال ،اولاد و اقرباء ،جاہ و منصب اور اپنی عزت و ناموس کے تحفظ کی خاطر سب کچھ قربان کرنے سے کبھی بھی دریغ نہیں کرتا ۔باوجود اس کے یہ اس کی مادی بقائے تعلق کی یک جہتی تصویر ہے ۔ذرا اندازہ کیجیے جہاں اس کا یک جہتی تعلق نہیں ،ہمہ جہتی تعلق ہے ،جزوی نہیں ہمہ پہلو ہو ،خاص فرد کا انفرادی نہیں بلکہ ہر فرد کا اجتماعی تعلق ہو،جو نہ صرف مادی بلکہ روحانی و قلبی بھی ہو، اور سب سے بڑھ کرا یمانی و عرفانی بھی ہو ،اس تعلق کی حرمت و ناموس کے تحفظ کے لئے اپنا سب کچھ لٹانے میں کیسے پیچھے رہ سکتا ہے ۔یہی وجہ ہے عام آدمی کی عزت و ناموس پر حملے سے محدودقریبی حلقہ اور فرد خاص ہی متاثرہوتا ہے جبکہ اﷲ کے نبی ؐکی عزت و ناموس پر حملے سے اور شان اقدس میں ادنیٰ سی گستاخی و بے ادبی ،اہانت وتحقیر سے ایک یاچند افراد نہیں بلکہ پورا معاشرہ اور ہر اُمتی جہاں کہیں بھی رہ رہا ہو، وہ متاثر ہوتا ہے ۔پھر نہ صرف جذبات مجروح ہوتے ہیں بلکہ انتقام کا جذ بہ بھی فروغ پاتا ہے ۔صرف اس لئے کہ یہاں معاملہ دین و ایمان کی اساس و بنیاد کے قیام و استحکام کا ہے ۔سو ہر کوئی ناموس رسالت کے تحفظ کی خاظر کٹ مرتا ہے ۔جان کو ہتھیلی پر رکھ کر گستاخ رسولؐ کو کیفر کردار تک پہنچانے کانہ صرف عزم بالجزم کرتا ہے ،بلکہ عملاً ایسا کر کے بھی دکھاتا ہے ۔اسی جذبہ اور طرز عمل سے ہی ایمان اور دین کی عمارت کا قیام اور دوام ہے ۔یہی شعار مسلمانی ہے ،اس لئے ہر کوئی جانتا ہے ،بقول علامہ اقبال ؒ ؎
دردل مسلم مقام مصطفی است آبروئے ماز نام مصطفی است
رابطہ۔گدا پورہ شوپیان،فون نمبر9419294917
ای میل۔[email protected]