محمد ہاشم القاسمی
(گذشتہ سے پیوستہ)
دکانداری کوئی بری چیز نہیں ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ پڑھ لکھ کر اسے آپ نئے زمانے کے تقاضوں کے مطابق ہم آہنگ کر رہے ہیں یا نہیں؟ حقیقتاً پڑھ لکھ کر آپ دکانداری میں اس انداز سے جدّت لا سکتے ہیں کہ ایک ہی دکان کا نام آپ کو کروڑوں روپے دلوا سکتا ہے۔ مثال کے طور پر بیکانیر والا اور ہلدی رام مٹھائی کی دکانیں تھیں جو چالیس پچاس سال قبل کھولی گئی تھیں۔آج یہ دونوں فاسٹ فوڈ کی بڑی چینز ہیں اور نامی برانڈ کے طور پر معروف ہیں۔ ان کی ماہانہ سیل کروڑوں روپوں تک جا پہنچی ہے۔ مطلب یہ ہوا کہ مٹھائی کی دکانداری کرنا کوئی برا کام تو نہیں، اصل بات تو یہ ہے کہ آپ اسے چلا کیسے رہے ہیں اور اسے آگے بڑھانے کے لیے آپ میں کتنا جذبہ اور حوصلہ موجود ہے۔
اسی طرح اگر ریٹیل اسٹور کی بات کریں تو کلکتہ میں باٹا کے نام سے ایک چھوٹی سی جوتوں کی دکان 1932میں کھولی گئی تھی، اب اس کی کئی شاخیں ہیں۔ اگر ہم آن لائن دکان کی بات کریں تو فلپ کارٹ (flipkart.com) اس وقت ہندوستان کا سب سے بڑا آن لائن ریٹیل اسٹور بن چکا ہے جس کی سیل محتاط تخمینے کے مطابق 50 بلین امریکی ڈالر سالانہ ہے ۔ اس کا ایک ای ریٹیلیر ڈبلیو ایس ریٹیل ہے جس کی 2014 کی سیل دس ہزار کروڑ رپوے تھی۔
کسی بھی تجارت میں سب سے اہم چیز اس کے منافع کی شرح اور سیل کا ممکنہ تخمینہ ہوتی ہے۔ تجارت ہم منافع کمانے کے لیے کرتے ہیں اس لیے بے شک تھوڑی سرمایہ کاری کے ساتھ وہ کام شروع کر دیجیے جس میں منافع کی شرح بلند ہو اور ساتھ ساتھ سیل کا بھی مناسب بندوبست ہو سکے۔ آپ تجارت کے جس شعبے کی فزیبلٹی بنانا اور جن چیزوں کی خریدو فروخت کرنا چاہتے ہیں ، پہلے ان کے معیاراور تکنیکی خصوصیات کے حوالے سے مکمل معلومات حاصل کرلیں، مثلاً اگر آپ ملبوسات کا کاروبار کرنے لگے تو کپڑے کی اقسام، کوالٹی ان کی موٹائی اور چوڑائی وغیرہ کی معلومات حاصل کرنا ضروری ہے یعنی ایسی چیزیں جن کی بنیاد پر ان کے نرخ کا تعین ہوتا ہے۔ اس کے بعد ان چیزوں کی تکنیکی معلومات کے ساتھ ہول سیل مارکیٹ/ڈسڑی بیوٹر/ ریٹیل سے یعنی جہاں سے آپ نے اپنا مال بیچنے کے لیے خریدنا ہے، معلوم کیجئے کہ یہ چیزیں کس قیمت پر ملیں گی؟ پوری مارکیٹ کا سروے کریں یا چار پانچ فیکٹریاں لازمی گھومیں تاکہ آپ کو کم از کم ریٹ بہتر معیار کے ساتھ مل سکے اور آپ اپنا منافع بڑھا سکیں ۔
اس کے بعد جس مارکیٹ میں آپ کو اپنی چیزیں بیچنی ہیں وہاں خریدار بن کے جائیں اور اپنی مطلوبہ چیزوں کا ان کی تکنیکی خصوصیات کے ساتھ نرخ معلوم کریں کہ فی الوقت ان کا کم از کم ریٹ کیا چل رہا ہے۔ قیمتیں معلوم کرنا اس لیے بھی ضروری ہے کہ شروع شروع میں مارکیٹ میں اپنے قدم جمانے کے لیے ہو سکتا ہے کہ آپ کم از کم ریٹ سے بھی نیچے ریٹ دینا پڑے تا کہ خریدار آپ کی طرف متوجہ ہوں اور مستقل طور پر آپ کا مال خریدیں۔
اب مصنوعات بیچنے کا جو کم از کم ریٹ ہے، اس میں سے جس ریٹ پہ آپ خریدیں گے اسے نکال کے اپنا بنیادی منافع نکال لیں ۔ اب اپنے کاروبار کرنے کے خرچ کا حساب نکالیں، مثال کے طور پر آپ کو کاروبار شروع کرنے کے لیے ایک کمرا بطور دفتر (کرایہ + بجلی+ چائے وغیرہ : بائیس ہزارروپے) ایک آفس بوائے (آٹھ ہزار روپے) اور ایک سیلز مین(تنخواہ بیس ہزار روپے) کی ضرورت ہے تو آپ کا ماہانہ خرچہ ہوا پچاس ہزار روپے۔
اگر آپ کی تجارت کی سیل25 فیصد بنیادی منافع کے ساتھ دو لاکھ روپے ماہانہ ہے تو آپ پچاس ہزار روپے ماہانہ کما رہے ہیں۔ یہ تجارت کے بنیادی خرچے پورے کرنے کے لیے کافی رقم ہے۔ مطلب یہ ہوا کہ دو لاکھ روپے آپ کی تجارت کا ’’بریک ایون پوائنٹ‘‘(break-even point) ہوا یعنی سیل کا وہ مرحلہ جہاں آپ کی آمدنی خرچ کے برابر ہو گئی۔ اس مرحلے کے بعد آپ کی جتنی بھی سیل بڑھی اس کی بچت آپ کی اپنی ہو گی۔
اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ تجارت سے فوری کمائی نہیں ہو گی۔ اس کے لئے جب آپ فزیبلٹی بنائیں تو تنخواہ کا ایک حصّہ چاہے تھوڑا ہی سہی منیجر کے لیے بھی رکھیں۔ چونکہ آپ سارا انتظام کر رہے ہیں۔ اس لیے وہ تنخواہ آپ کے حصّے میں آئے گی۔ دوسری بات یہ کہ جہاں تنخواہ ایک جگہ مستقل رہتی یا برسوں بعد بڑھتی ہے وہیں تجارت میں مسلسل محنت سے آپ ایک سال کے اندر اندر اپنی ممکنہ تنخواہ سے دگنا تگنا کما سکتے ہیں۔
سب سے اہم چیز تجارت شروع کرنے کے لیے درکار سرمایہ کاری ہے۔ متعلقہ مارکیٹ یا اس شعبے کے جان پہچان والے لوگوں سے رابطہ کر کے یہ معلوم کریں کہ اس کام میں سرمایہ کاری کتنی درکار ہو گی۔ اگرآپ ہول سیل کا کام کرنے یا دکان کھولنے کا سوچ رہے ہیں تو اس میں بنیادی سرمایہ کاری آپ کے مال کی ہو گی۔ اگر مینوفیکچرنگ کا سوچ رہے ہیں تو جو مشینیں آئیں گی ان کا خرچہ کتنا ہو گا۔ اس کے علاوہ آپ کو مزدوروں کی تنخواہ، بجلی، پانی اور دیگر اخراجات کا کم از کم چھے ماہ کا خرچہ اپنے ذہن میں رکھ کر تخمینہ لگانا ہو گا ۔
رہ گئی زمین تو اگر آپ چھوٹی سطح سے شروع کرنا چاہتے ہیں تو وہ آپ کو کرائے پر بھی مل جائے گی۔ یا کرائے پہ کوئی جگہ لے کر اس میں مشینیں رکھ کر کام شروع کر سکتے ہیں۔ اگر آپ کے پاس اتنی رقم نہیں کہ آپ امپورٹ یا مینوفیکچرنگ کاکام شروع کر سکیں تو سرمایہ کاری کم کرنے کے اور بھی حل موجود ہیں۔
تجارت میں ایک اہم چیز مانگ کا تخمینہ ہے،جیسے کچھ چیزوں کی مانگ زیادہ لیکن منافع کم ہوتا ہے۔ کچھ چیزوں کی مانگ کم اور منافع زیادہ ہوتا ہے۔ مینوفیکچرنگ، ریٹیل یا ہول سیل جس میں بھی آپ تجارت کرنے جا رہے ہیں، اپنی مصنوعات کی مانگ کا درست تخمینہ لگانا بہت ضروری ہے۔ زیادہ خریدنے یا پیداوار کی صورت میں آپ کا پیسہ پھنس جائے گا اور کم پیداوار یا خریدنے کی صورت میں آپ کی سیل کم ہو گی۔
اگر آپ بالکل نئی تجارت کرنے جا رہے ہیں، جس کے مصنوعات کی مانگ کا آپ کو مکمل اندازہ نہیں تو اس کا بہترین حل یہ ہے کہ خریداروں کی مارکیٹ میں جا کر متعلقہ مصنوعات کی سیل کے متعلق سروے کریں کہ ان کی ماہانہ کھپت کتنی ہے۔ تقریباً پندرہ بیس دکانوں کا سروے کر کے آپ کو اندازہ ہو سکتا ہے جس کا اطلاق آپ محتاط طریقے سے پوری مارکیٹ پر کر سکتے ہیں۔ نئی مصنوعات یا اپنا نیا آئیڈیا متعارف کراتے وقت یہ بات اصول کا درجہ رکھتی ہے۔
کسی بھی تجارت میں کیش فلو یعنی پیسے کا بہاؤ ایسے ہی اہمیت رکھتا ہے جیسے جسم میں خون، مالیات کی کتابوں میں درج ہے کہ نقد رقم کی مثال تجارتی دنیا میں ایسے ہی ہے جیسے کسی سلطنت میں کوئی بادشاہ ہو اور باقی سب غلام، آپ کام رقم کمانے کے لیے کرتے ہیں لیکن تجارت اُدھا ر پر چلتا ہے۔ صرف ہندوستان ہی نہیں بلکہ دنیا بھر میں ہول سیل اور مینوفیکچرنگ کا کاروبار اُدھار پر ہوتا ہے۔ کچھ شعبوں میں اُدھار زیادہ دیر چلتا ہے کچھ میں کم دیر کا ہوتا ہے۔ ہندوستان میں البتہ ایک اضافی تکلیف دہ مسئلہ یہ ہے کہ آپ جب اپنے گاہک کو اُدھار دے دیں، تو وہ واپس بڑی مشکل سے کرتا ہے۔ مزید برآں وہ رقم توڑ کر یعنی قسطوں میں واپس کرتا ہے۔
لہٰذا آپ جو بھی تجارت کرنے لگیں، اس میں یہ دیکھیں کہ گاہک کے ساتھ آپ کا اُدھار کتنے دن کا ہے اور جہاں سے آپ اپنا سامان خریدتے ہیں، ان کے ساتھ اُدھار کتنے دن کا چلے گا، کوشش کریں کہ کام ایسا شروع کریں جس میں آپ کا اپنے گاہک/خریدار کے ساتھ اُدھار کا دورانیہ، آپ کی کمپنی سے یعنی جس سے آپ سامان خریدتے ہیں، ادھار کے دورانیے کے مقابلے میں مختصر ہو۔ یوں آپ کی نقدی کا چکراس طرح بنے کہ آپ اپنے خریدار سے پیسے پکڑیں اور اپنا منافع نکال کر اپنی کمپنی کو رقم دے دیں۔
اگر آپ کا اُدھار اپنے گاہک کے ساتھ 30 دن کا ہے تو کمپنی کے ساتھ آپ کا اُدھار 45 دن کا ہو۔ اگر اس کے الٹ ہوا، تو آپ کو مال اپنی جیب سے خریدنا پڑے گا۔ اکثر آپ کے کھاتے یا سافٹ وئیر تو منافع دکھا ئیں گے لیکن اصلاً آپ کے پاس نقد رقم نہیں ہو گی۔ اس مسئلے کا ایک حل یہ ہے کہ آپ جو بھی چیز بیچ رہے ہیں، اس میں آپ برانڈنگ کریں یعنی اس مصنوعات کا ایک نام بنا کر اسے اسی نام سے بیچیں اور اپنے معیار کو خراب نہ کریں۔ اگر آپ کوئی نئی تجارت شروع کرنے جا رہے ہیں، تو یہ لازمی دیکھیں کہ اس شعبے یا مصنوعات میں آپ کے تجارتی حریف کتنے ہیں؟ آپ کے مقابلے میں کتنے لوگ مارکیٹ میں اس چیز کو بیچ رہے ہیں؟ یہ دیکھنا اس لیے ضروری ہے کہ مارکیٹ میں سخت مقابلہ قیمتیں کم کر دیتا ہے۔ نتیجے میں منافع کی شرح کم ہو جاتی ہے اور جب آپ محنت ہی منافع کے لیے کر رہے ہیں تو پھر کیا فائدہ ایسے کام میں ہاتھ ڈالنے کا جس میں منافع کی شرح بہت کم ہو۔
ہوتا یہ ہے کہ جب کوئی نیا شخص کوئی مصنوعات لے کر آتا ہے تو وہ مارکیٹ میں اپنے قدم جمانے کے لیے خریدار سے کہتا ہے کہ مجھ سے تم 10 روپے سستی چیز لے لو۔ چنانچہ آپ کے کچھ یا کافی خریدار آپ کو چھوڑ کے اس سے مال لینے لگتے ہیں۔ پھر جب کوئی نیا حریف آئے تو وہ ریٹ مزید کم کر دیتا ہے۔ اب پیچھے سے وہ چیز سب کو اتنی لاگت کی ہی پڑ تی ہے۔ اس سے منافع کی شرح انتہائی گر جاتی ہے۔
دور اندیش تاجر آئندہ آنے والے بیس برس کا سوچتے ہیں، کوتاہ نظر صرف آج کی سوچ رکھتے ہیں، جبکہ بیوقوف کوئی واقعہ گزرنے کے بعد اس پر غور کرتے ہیں۔ یہی مثال صد فیصد تجارت پربھی لاگو ہوتی ہے۔ آپ جو تجارت کرنے جا رہے ہیں اس کی فزیبلٹی میں یہ تجزیہ بھی شامل کریں کہ آج سے بیس سال بعد آپ کہاں کھڑے ہوں گے۔ آپ جو تجارت شروع کرنے جا رہے ہیں کیا مارکیٹ کا رجحان اسی جانب چل رہا ہے یا آپ کی گنگا اُلٹی بہہ رہی ہے۔ کیا آپ کسی ایسے آئیڈیا یا مصنوعات پر کام تو نہیں کر رہے جس کی مانگ مارکیٹ سے آہستہ آہستہ ختم ہو رہی ہے۔
دوسری بات یہ دیکھیں کہ آپ کی تجارت میں بڑھوتری کا امکان کتنا ہے۔ اگر آپ اسے آج شروع کرتے ہیں تو بیس سال بعد کہاں کھڑے ہوں گے۔ اگر آپ اس کام کی بلندیوں تک پہنچ جائیں تو تب آمدنی کتنی ہو گی اور اس کام میں کس طریقے اور کن مصنوعات کے اضافے سے آپ اپنی سیل اور آمدنی میں اضافہ کر سکتے ہیں۔ آپ کے ذہن میں ماہانہ آمدنی کا جو ہدف ہے کیا وہ اس تجارت سے بخوبی پورا ہو سکتا ہے ؟
یہ معلومات پانے کے لیے آپ انٹرنیٹ سے ڈیٹا ڈھونڈ سکتے ہیں۔ مثلاً آپ ہندوستان سے کوئی مصنوعات ایکسپورٹ کرنا چاہتے ہیں، تو آپ انٹرنیٹ کی مدد سے یہ ڈھونڈیں کہ اس کی ایکسپورٹ ہندوستان سے بڑھ رہی ہے یا کم ہو چکی ہے؟ اس مصنوعہ یا سیکٹر کی مجموعی ایکسپورٹ کتنی ہے؟ دوسرے اپنے مشاہدے کی طاقت تیز کر کے تجارت سے وابستہ لوگوں کا مشاہدہ کریں۔ باتوں باتوں میں ان سے معلومات پوچھیں تا کہ آپ درست تخمینہ لگا سکیں اور کسی طور پر بھی نقصان نہ اٹھائیں۔
بہتر ہوگا کہ جب آپ کوئی نئی تجارت شروع کرنے لگیں تو منافع کے ساتھ ساتھ یہ بھی دیکھیں کہ آپ کا بھائی یا آپ کے والد کو کس کام کا تجربہ ہے۔ اگر اس تجارت میں منافع اور کیش فلو تحقیق کے مطابق مناسب ہے اور اس کام میں تجارتی حریف بھی کم ہیں تو آپ کو وہ تجارت شروع کرنے کے متعلق لازمی سوچنا چاہیے۔ تجربہ ایسی چیز ہے جس کا کوئی نعم البدل نہیں۔
تجربے کا دوسرا فائدہ یہ ہے کہ تجربے کار آدمی مارکیٹ میں نیک نام رکھتا ہے۔ اس کو چیزیں بیچنے اور کمپنی سے اُدھار پر چیزیں لینے میں آسانی رہتی ہے۔ یعنی بالکل نئے کاروبار والی مشکلات کا سامنا نہیں کرنا پڑتا اور آپ کے لیے شروع ہی سے کچھ نہ کچھ آسانیاں پیدا ہو جاتی ہیں۔
رابطہ۔ 9933598528
[email protected]>