رتن سنگھ کنول پہلگامی
یہ دشت کی ایک ایسی تاریکی تھی جو اب پھیلتی ہی جا رہی تھی۔ روشنی بس نام کی رہ گئی تھی ۔ آنکھوں کوکچھ بھی نظر نہیں آ رہا تھا۔لیکن روشن دماغ، ببر شیر ہر ممکن کوشش کر رہا تھا۔ لومڑی چیتا اپنی طاقت کےنشے اورغرور میں دندناتے گھوم رہا تھا۔ طمع اور لالچ نے اُس کو ظالم بنا دیا تھا۔ بڑوں کےقاعدے قوانین اُسنے بالائے طاق رکھ دیئےتھے۔۔۔ ایک زمانہ تھا جنگل گھنا اور ذرخیز تھا۔ ایک طرف پودے تیزی سے بڑھ رہے تھے دوسری طرف جنگل کے باشندے پنپ رہے تھے۔ اکثر انکی آپس میں ٹھن جاتی، لڑتے جھگڑتے۔ وقت گزرتا گیا اورایک دن انہوں نےسمجھوتا کر ہی لیا۔ سبھی خوش تھے کہ چلو اب آنے والا وقت خوشگوار ثابت ہو گا ۔ دشت میں، اب اور خون خرابہ نہیں ہوگا۔ سب کو اپنا اپنا علاقہ دے دیا گیا اور سب کو متنبہ کیا گیا کہ کوئی بھی باشندا کسی دوسرے علاقے پر قابض ہونے کی کوشش یا کوئی اور خونی سازش متنبہ نہیں رچے گا اور نا ہی کسی جانور یا پرندے کو تنگ کرے گا ۔ سبھی آرام سے رہیں گے ۔
کچھ دیرتک تو یہ سب قاعدے قوانین سارے جنگل میں نافذ رہے اور سبھی اپنے اپنے اپنے علاقے میں بے خوف وخطر پُر امن ، حُب و اُخوت سے رہتے ہوئے اپنی اپنی سرزمین سنوارتے سجاتے رہے۔ روشنی پھیلتی رہی اور ظلمت بھاگتی رہی ۔ وقت خوش اسلوبی سے گزرتا رہا۔
پھر وہ دن بھی آ گیا جب دور کا ایک چیتا لومڑی کے بہکاوے میں آگیا ۔ وہ اپنے آپ کو سارے جنگل کا بادشاہ سمجھنے لگا ۔ جب چاہتا سرحد پار کرکے کوئی نہ کوئی گڑبڑ پھیلاتا ۔ چھوٹے چھوٹے جانور تو ڈر کے مارے کچھ نہ کہتے ۔چُپ چاپ سب کچھ سہہ لیتے ۔ لومڑی اور چیتے کے قدم آگے بڑھتے گئے ۔ لیکن جب ببر شیر نے یہ دیکھا تو وہ ہوشیار ہو گیا ۔ اس نے لومڑی چیتے کو اپنے حلقے کی اور قدم بڑھانے سے خبردار کر دیا اور کہا کہ اگر اُس نے ببر شیر کی سر زمین اور اس کے وسائل کی طرف للچائی آنکھوں سے دیکھا تو اُس کی آنکھیں نکال دوں گا ۔ لومڑی چیتا ! ہاں ،سبھی اُس کولومڑی چیتا ہی کہتے تھے ۔ کیونکہ وہ زیادہ تر لومڑی کے بہکاوے میں آسانی سے آ جاتا تھا۔ لومڑی ہمیشہ اُس کے ساتھ سائے کی طرح جُڑی رہتی تھی اور جب بھی موقع ملتا کسی نہ کسی کے خلاف اُکساتی رہتی۔
دوسری طرف لومڑی شیر خود بھی سارے جنگل کا بادشاہ بن کر احکامات صادر کرتا رہتا ۔ وہ چاہتا کہ اُس کے حکم کے بنا کوئی پتا بھی نہ ہلے ۔ ہوا کو رکنے کے لئے کہے تو ہوا رُک جانی ، پانی اپنی سمت بدل ڈالے وغیرہ وغیرہ ۔
حقیقت میں یہ سب کچھ طے شدہ اصولوں کے مترادف تھا ۔ فطرت کو بھی نا منظور تھا ۔ ببر شیر اور ببر شیر کے اجداد صدیوں سے ان ہی فطرت اور حق وانصاف کے اصولوں پر سختی سے کار بند تھے، ’’جیو اور جینے دو‘‘ کے اصولوں پر ڈٹ کے پہرا دے رہے تھے۔ دہر کی پہلی کرن اُن کو جگا دیتی اور وہ اپنی زندگی کو سنوارنے شنگارنے میں جُٹ جاتے تاکہ زندگی بے معنی بنکر نہ گزر جائے ۔ بس رات کی کالی چادر میں ہی وہ آرام فرماتے ۔ اس علاقے میں رہنے والے تمام چرند پرند خوش تھے کہ اُن کا سربراہ، ببر شیر ان کو دل جان سے چاہتا ہے اور ان کی بہبودی کے لئے ہر دم سوچتارہتا ہے ۔ رکھوالی کے لئے فکر مند رہتا ہے ۔ وہ اپنے سربراہ پر جاں چھڑکتے تھے ۔ یہ دیکھ کر لومڑی چیتا اندر ہی اندر جلتا کُڑھتا اور باقی خطے کے جانور وں کو بھی اُکساتا اور خود ان کا ہمدرد بننے کا ناٹک کرتا۔ لیکن جنگل کے کچھ علاقوں پر تو اُس نے پہلے ہی ایسی ایسی یلغاریں کی تھیں کہ آس پاس کے باقی علاقوں کے سربراہ بھی اس کے تلوے چٹ بن گئے تھے۔ جس نے بھی اس کی بالا دستی کو قبول نہیں کی اُس کو لومڑی چیتے نے بُری طرح سے صفحہ ہستی سے مٹا ڈالا اور اُس کے علاقے پر قابض ہو گیا۔ اپنی من مرضی کا تلوا چٹ، نام نہاد سربراہ مقرر کر دیا۔
نا منظور کہنے کی کس میں طاقت نہ تھی۔ اگر اب اس کی ہستی کو مٹانے کی کوئی طاقت رکھتا تھا تو وہ تھا ببر شیر۔ لومڑی چیتا کبھی کبھی ببر شیر کو آزمانے کے لئے دور سے ہی دھاڑتا مگر ببر شیر بھی ٹس سے مس نہ ہوتا۔ کہتا، اگر چھیڑا تو چھوڑیں گے نہیں !
سماء ایسے ہی چلتا رہا ۔ لومڑی چیتا بہت دیر تک یوں ہی دھمکاتا ڈراتا رہا پر بے سود ۔ پھر اُس نے ایک دن جنگل کے سارے سر براہوں کی ایک میٹنگ بلائی ۔ایک دو کے سوا سبھی دُم ہلاتے ہوئے دوڑے دوڑے آئے ۔ اس نے اپنی خواہش کا اظہار کیا اور اس جنگ میں بھر پور حصہ لینے کے لئے تیار رہنے کو کہا۔ سبھی نے ایک آواز میں جواب دیا :
“ہم تیار ہیں آقا ! جیسے آپ کا حکم ہوگا بجا لائیں گے ۔۔۔”
“نہیں ! ایسے نہیں، سبھی اپنی اپنی دُم ہلا کر تصدیق کرو کہ آپ سچ کہہ رہے ہو۔ ”
اور پھر سب نے ضرورت سے بھی زیادہ دُم ہلا دی ۔ آقا نے زور دار تالی بجائی اور ٹھاہ ٹھاہ کرکے ہنسنے لگا ۔ لومڑی چیتا کچھ مزاحیہ قسم کا بھی تھا ۔ خوش رکھنے کے لئے اور باتوں کے علاوہ مذاق کا بھی سہارا لیتا ، ادھر اُدھر کی ہانکتا رہتا۔ ۔۔۔
لومڑی چیتا اپنی غرض کے لئے ،نقد یا جنس میں، مدد کرنے سےبھی نہیں چوکتا۔ بدلے میں جہاں چاہتا اپنا مال بیچتا ، ٹھکانا بنا لیتا ۔ جب تک علاقے کا سردار سمجھتا دیر ہو گئی ہوتی ۔ بس ایک شانت سمندر کی طرح اس کے اندر بھی سوچ کی ہلکی ہلکی لہریں۔ اُٹھتی اور ساحل سے ٹکرا کر واپس مُڑ جاتیں ۔
لومڑی چیتے نے اپنی فوج میں لگ بھگ ہر قسم کے جانور بھرتی کر دیئے۔ جیسے : چوہے ، بندر ،ریچھ ، سانپ ، گد ، چیلیں ، کوے ، کتے وغیرہ ۔ سب کو اپنا اپنا کام دیا ۔ چوہے کو جاسوسی کا کام دے دیا گیا ۔
وہ دشمن کے علاقے کی پوری پوری خبر گیری رکھتا اور اُس کی فوجی طاقت کا ، ٹھکانوں کا پتا دیتا رہتا ۔ وہ کبھی ہوا میں سونگھتا ،اور کبھی ذمین کے اندر سے وہاں پہنچ جاتا جہاں کوئی رازداری کی چیز رکھی ہوتی ۔ چیلیں اور گد بھی ہوائی حدود میں گھسنے کی تیاری میں رہتے ۔ اُدھر ببر شیر کسی ڈر یا خوف کے بغیر اپنے کام میں لگا رہا اور اپنی رعایا کا خیال بھی رکھتا رہا ۔ لیکن لومڑی چیتا اس خطے کی خوش حالی اور ترقی کو اب اور برداشت نہ کر سکا ۔
ایک دن ببر شیر اپنے ساتھیوں سمیت اپنی گفا میں بیٹھا اپنے باشندوں کی بہبودی کے لیے صلاح مشورہ کر رہا تھا ۔لومڑی نےچوہے کو جاسوسی کے لئے بھیجا اور چوہے نے واپس آکر سب کچھ بتا دیا۔ لومڑی نے لومڑی چیتے کے کان بھر دیئے۔پھر کیا تھا ، لومڑی چیتے نے موقع غنیمت جان کرگھر پر ایسا حملہ بول دیا کہ وہ اپنے بہت سارے ساتھیوں اور کنبے کے بہت سارے لوگوں کے ساتھ مارا گیا۔لومڑی اور لومڑی چیتےنے سمجھا کہ بس کام تمام ہو گیا ۔وہ خوشی سے پھولے نہیں سما رہے تھے۔ لیکن ببر شیر پہلے ہی جانتا تھا کہ دشمن کا کوئی بھروسہ نہیں کہ کب اس کا دماغ پھر جائے اور وہ حملہ بول دے۔ اس کے اپنے خطے کی حفاظت کے لئے اس کے وارث بھی کم نہیں تھے ۔ ایک ببر شیر شہید ہوا اور کئی سامنے آ گئے اپنی پوری طاقت سے جوابی حملہ کر دیا۔ ان کےبہت سارے ٹھکانوں کو زمین بوس کر دیا ۔ ہاہا کر مچ گئی۔ لومڑی نے جب اپنے ہی خطے کی ہو رہی بربادی کا منظر دیکھا تو وہ تلملا اٹھی۔ اب تو ببر شیر کے وارثوں کا صبر ختم ہو چکا تھا ۔ ان کے معصوم بچوں کا قتل بھی ہو چکا تھا ۔ ایک طرف سے یہ اکیلے جنگ میں کود پڑے تھے دوسری طرف لومڑی چیتے کے ساتھ بہت سارے خود غرض اور بے غیرت جانور شامل ہو گئے تھے ۔ اب ان کی بھی خیر نہیں تھی ۔ چن چن کر ان کو بھی مارا جا رہا تھا ۔ لومڑی نے چیتے کا اب ساتھ ہی چھوڑ دیا ۔ وہ کسی تہہ کھانے میں چھپ کر بیٹھ گئی۔ سبھی خطوں کے جانور بھی اب چیتے سے دوری بنا رہے تھے مگر اب دوری بنانے میں بہت دیر ہو چکی تھی ۔ ان کے خطے بارود کی بو اور کالے دھویں سے بڑی طرح اٹے ہوئے تھے ۔روشنی غائب تھی ، کسی کو کچھ سوجھ نہیں رہا تھا ۔ اندر سے اپنے کئےپر پچھتاوا تھا لیکن اظہار نہیں کر پا رہے تھے ۔ پھر بھی جنگ جاری تھی ۔ ببر شیر مر کے بھی ذندہ تھا ۔ وہ کئ روپوں میں دکھائی دے رہا تھا ، کئ ذبانوں سے بول رہا تھا اور کئی دماغوں سے سوچتا ہوا کئ محاذوں پر جنگ لڑ رہا تھا ۔ اسی دیش کے ،قدم قدم پر ،مزار شریف حوصلہ بخش رہے تھے ۔ اپنے عزائم و فرائض کو یاد کروا رہے تھے اور جنگ جاری تھی ۔ لومڑی کا کہیں اتاپتا بھی نہیں مل رہا تھا۔ لومڑی چیتا اب ہر ثانیے ان چاہے بوجھ تلے دبتا جا رہا تھا ۔ آخر وہ چپ چاپ اپنی گفا میں گھس کر بیٹھ گیا اور جنگ جاری تھی ۔ لومڑی چیتے نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ اس کا جنگ کے میدان میں یہ حشر ہو گا ۔ وہ تو ایک یلغار میں سب کچھ اپنے زیر کرنے کا خواب دیکھ رہا تھا ۔ وہ نہیں جانتا تھا کہ جو لوگ کسی ذر، زمین یا ذات کے لئے نہیں، اوروں کی بہبودی اور حق وانصاف کے لئے جان کی بازی لگا رہے ہیں ،وہ کبھی پسپا نہیں ہوتے ،وہ سمندر کی طرح اپنی خاک سے بھی جی اٹھتے ہیں ۔
اور اس جنگ کے دوران ہی چیتے کی گفا پر میزائیلیں ایسی برسیں کے وہ ذندہ ہی پہاڑی کے نیچے دب گیا ۔ لوگ اسے بےشک یہاں وہاں گھومتے پھرتے دیکھ رہے تھے مگر وہ کوئی اور جیتا تھا ،لومڑی چیتا نہیں تھا۔ ادھر ببر شیر کے خطے میں اب روشنی صاف دکھائی دے رہی تھی اور مزارِ شرفاء پر نرگس کے پھول کھل چُکے تھے۔
پہلگام کشمیر
موبائل نمبر؛7006803106