اعلیٰ تعلیم کا حصول،بے روزگاری اور غیر یقینی مستقبل شادیوں میں رکاوٹ کا بنیادی سبب
بلال فرقانی
سرینگر// وادی میں تاخیر سے شادیوں کا بڑھتا رجحان اب صرف ایک سماجی تبدیلی نہیں بلکہ ایک سنگین معاشرتی، نفسیاتی اور آبادیاتی بحران کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے۔ مختلف تحقیقی مطالعات اور سماجی جائزوں میں انکشاف کیا گیا ہے کہ گزشتہ دو سے تین دہائیوں کے دوران وادی میں شادی کی اوسط عمر میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے، جس کی وجہ نوجوان نسل میں شدید ذہنی دباؤ، معاشی بے یقینی اور سماجی تنہائی ہے۔
بھگونت یونیورسٹی اجمیر راجستھان سے وابستہ ریسرچ سکالروں کی تحقیقی رپورٹ کے مطابق کشمیر میں گزشتہ 30 سے 40 برسوں کے دوران مردوں کی شادی کی اوسط عمر ِ 24 برس سے بڑھ کر 32 برس جبکہ خواتین کی 21 برس سے بڑھ کر 28 برس تک پہنچ گئی ہے۔ تحقیق میں کہا گیا ہے کہ 1989 سے قبل کشمیر میں مردوں کی شادی کی اوسط عمر تقریباً 23 سال اور خواتین کی 20 سال تھی۔لیکن اسکے بعدتحقیقی رپورٹ کے مطابق بڑھتی ہوئی بے روزگاری، غربت، جہیز کی لعنت، شادیوں میں فضول خرچی، مہنگے وازوان، سونا، تانبا، تحائف اور سماجی نمود و نمائش نے متوسط اور غریب طبقے کے لئے شادی کو انتہائی مشکل بنا دیا ہے۔ اس کے علاوہ سرکاری ملازمت کے انتظار، اعلیٰ تعلیم کے بڑھتے رجحان اور طویل سیاسی بے چینی نے بھی نوجوانوں کو بروقت شادی سے دور کر دیا ۔تحقیق میں کشمیر یونیورسٹی کے معروف ماہر سماجیات پروفیسر بشیر احمد ڈابلہ کے 2007 کی تحقیق کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ کشمیر میں ’’ تاخیر سے شادیاں‘‘ایک خطرناک سماجی رجحان کے طور پر ابھر چکا ہے۔ مطالعے میں انکشاف کیا گیا ہے کہ نوجوان مرد اور خواتین ’’مناسب ملازمت،’’اعلیٰ سماجی حیثیت اور بہتر شریکِ حیات‘‘ کی تلاش میں اپنی زندگی کے کئی قیمتی سال صرف کر دیتے ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ وادی کے کئی علاقوں میں آج بھی ذات پات، برادری اور طبقاتی بنیادوں پر شادیوں کو ترجیح دی جاتی ہے جبکہ نوجوان لڑکوں کی جانب سے صرف تعلیم یافتہ یا ملازمت پیشہ لڑکیوں کو ترجیح دینے سے غیر ملازم یا کم تعلیم یافتہ خواتین کی شادی کے امکانات مزید کم ہو رہے ہیں۔2016 اور 2017 کے دوران سرینگر کے ڈاؤن ٹاؤن علاقوں میں تحریک فلاح المسلمین ٹرسٹ کی جانب سے کئے گئے ایک سروے کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ صرف شہر کے بعض علاقوں میں تقریباً 10 ہزار ایسی لڑکیاں موجود تھیں جو شادی کی مناسب عمر سے تجاوز کر چکی تھیں لیکن ان کے والدین جہیز فراہم کرنے سے قاصر تھے۔تحقیق کے مطابق تاخیر سے شادی صرف ایک سماجی مسئلہ نہیں بلکہ ایک سنگین صحت عامہ اور ذہنی صحت کا معاملہ بھی بنتا جا رہا ہے۔ تحقیق میں کہا گیا ہے کہ زیادہ عمر میں شادی سے بانجھ پن، ذہنی دباؤ، ڈپریشن، اضطراب، منشیات کا استعمال، غیر اخلاقی رجحانات اور خاندانی تنازعات کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔تحقیقی رپورٹ میں قومی صحت پالیسی 2018 کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ جموں و کشمیر میں شرح پیدائش 1.7 فی خاتون تک گر چکی ہے، جو ملک کی کئی دیگر ریاستوں سے کم ہے۔ ماہرین کے مطابق دیر سے شادیوں کے باعث شرح پیدائش میں کمی اور خاندانی ڈھانچے میں تبدیلیاں واضح طور پر محسوس کی جا رہی ہیں۔رپورٹ میں اس بات پر بھی تشویش ظاہر کی گئی ہے کہ دیر سے شادی کرنے والے والدین کے بچوں میں بعض جینیاتی مسائل، خصوصاً ’’ڈاؤن سنڈروم‘‘، کے امکانات زیادہ پائے جا رہے ہیں۔ شیر کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز کی ایک تحقیق کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ زیادہ عمر کی ماؤں میں جینیاتی پیچیدگیوں کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ کشمیر میں نوجوانوں پر کم عمری میں شادی کرنے کا سماجی دباؤ تو موجود ہے لیکن دوسری جانب معاشی کمزوری، اعلیٰ تعلیم، ذاتی اہداف اور روزگار کی غیر یقینی صورتحال انہیں شادی مؤخر کرنے پر مجبور کرتی ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کشمیر میں تاخیر سے شادیوں کے باعث نوجوان نسل میں تنہائی، احساسِ محرومی اور ذہنی دباؤ بڑھ رہا ہے۔تحقیق کے مطابق مسئلہ صرف انفرادی انتخاب کا نہیں بلکہ پورے سماجی ڈھانچے کی تبدیلی کا عکاس ہے۔ مشترکہ خاندانی نظام کے کمزور ہونے، مہنگی زندگی، محدود نجی شعبے، سرکاری ملازمتوں کی کمی اور بڑھتی سماجی توقعات نے نوجوان نسل کو ایک نفسیاتی اور معاشی بحران میں دھکیل دیا ہے۔تحقیقی مطالعات میں حکومت، سماجی تنظیموں، مذہبی اداروں اور میڈیا سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ سادہ شادیوں کو فروغ دیں، جہیز کے خلاف سخت قوانین نافذ کریں، نوجوانوں کے لئے روزگار کے مواقع پیدا کریں اور تاخیر سے شادیوں کے بڑھتے منفی اثرات کے حوالے سے عوامی بیداری مہم چلائیں۔سنیئر وکیل ایڈوکیٹ اشفاق غنی میرکے مطابق کشمیر میں تاخیر سے شادیوں کی بڑی وجوہات بے روزگاری، معاشی غیر یقینی، مہنگی رسومات اور سخت سماجی توقعات ہیں۔ان کا کہنا ہے سرکاری ملازمتوں کی کمی اور کمزور نجی شعبے نے نوجوانوں کو مالی طور پر غیر محفوظ بنا دیا ہے جبکہ شادی کے لئے مستقل آمدنی، گھر اور سماجی حیثیت کو لازمی سمجھا جاتا ہے۔ دوسری جانب اعلیٰ تعلیم، سرکاری نوکری، ذات برادری اور سماجی مرتبے جیسے عوامل رشتوں میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔انکا کہنا ہے کہ دیر سے شادیوں کے باعث نوجوانوں میں ذہنی دباؤ، تنہائی، ڈپریشن اور سماجی بے چینی بڑھ رہی ہے، جس سے یہ مسئلہ ایک خاموش سماجی و نفسیاتی بحران کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے۔