شہزاد احمد کھٹانہ
وہ بیمار کیا ہوا سب کے روئے بدل گئے۔ وہ سوچ رہا تھا کہ انسان جب محتاج ہوجاتا ہے تو اپنوں کے لئے بھی بوجھ بن جاتا ہے۔
“بیٹا! آؤ نا میرے پاس بیٹھو۔ تم کیوں نہیں بیٹھتے میرے پاس؟ میرے پاس بھی کچھ دیر بیٹھ جایا کرو، میں بھی اپنے دل کی بات کر لیا کروں تم سے۔ تم جب بھی کام سے آتے ہو، اپنی بیوی اور بچوں کے پاس بیٹھ جاتے ہو، میرے پاس تو کوئی آتا بھی نہیں! جب سے میں بیمار ہوا ہوں، نہ تم میرے پاس آتے ہو اور نہ گھر کا کوئی دوسرا انسان۔”
“ارے ابو ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔ بس سب اپنے اپنے کام میں لگے ہیں۔ میں دن بھر ڈیوٹی پر ہوتا ہوں، شام کو آتا ہوں تو دفتر کا کام ہوتا ہے۔ تھوڑا بہت وقت ملتا ہے تو بچوں کے ساتھ گزار لیتا ہوں، کام سے فرصت ہی نہیں ملتی، کیا کروں؟ آپ تو دن رات آرام سے بستر پر پڑے رہتے ہیں، ہم سب کو کام ہوتا ہے۔ میرے بچے دن بھر اسکول میں ہوتے ہیں، شام کو پڑھائی بھی کرتے ہیں، ان کو فرصت نہیں ہے آپ کے پاس بیٹھنے کی۔”
“چلو بیٹا کوئی بات نہیں۔ کام تو ہر کسی کے لئے ضروری ہے۔ پر بیٹا! میں بھی کام کرتا تھا، مگر اپنے والدین کو روز وقت دیتا تھا اور پھر تم کو بھی۔ جو کچھ بھی کماتا تھا، تمہارے پڑھنے کے لئے، تمہارے لئے ہی سب کچھ کرتا تھا۔ اپنی ہر خوشی قربان کر کے تمہاری ہر خواہش پوری کی۔ جو کچھ تم نے مانگا وہ لا کر دیا، چاہے اس کے لئے مجھے کتنی ہی مزدوری کیوں نہ کرنی پڑی۔ اور بیٹا! اب تم کو میرے لئے وقت نہیں؟”
“ابو! یہ سب والدین کا فرض ہوتا ہے کہ وہ بچوں کے لئے کریں اور میں بھی تو آپ کے لئے ہر چیزیں لاتا ہوں۔ آپ کی دوائیوں کے کتنے خرچے ہیں، آپ کو پتا ہے؟ ڈاکٹر کی فیس اور روز کا الگ پرہیزی کھانا وغیرہ۔ مجھ سے پوچھیں کتنا خرچہ ہوتا ہے، آپ تو بس دن رات لیٹے رہتے ہیں۔”
“بیٹا! کیا میری دوائیاں تمہارے لئے اب بوجھ بن گئی ہیں؟ ابھی تو کچھ ہی دن ہوئے ہیں مجھے بیمار ہوئے اور میں تمہیں بوجھ لگنے لگا ہوں؟ کیا صرف والدین کا فرض ہوتا ہے بچوں کے لئے؟ بچوں کا کوئی حق فرض نہیں ہوتا اپنے بوڑھے والدین کے لئے؟”
“ابو تم کون سی باتیں کرنے لگے ہو۔ ایسا کچھ نہیں، میں تو بس ویسے ہی بول رہا تھا۔ کوئی بوجھ نہیں ہیں آپ میرے لئے۔”
“بیٹا! سب خبر ہو گئی۔ اللہ تعالیٰ تم سب کو صحت مند رکھے اور لمبی عمر دے۔ ہمیشہ خوش رہو۔ میرا کیا ہے، میں آج ہوں کل نہیں۔ تم اپنے گھر والوں کا خیال رکھا کرو، اللہ سب کو خوش رکھے۔”
“ابو چھوڑو ان باتوں کو، میں چلا مجھے اور بھی کام ہیں۔”
“جاؤ بیٹا! تم اپنا کام کرو۔ میرے لئے اپنا کام نہ چھوڑا کرو۔ اللہ تمہارے کام میں برکت دے۔”
“اچھا میں جا رہا ہوں آفس، بعد میں بات کریں گے۔”
بیٹا چلا گیا مگر اس بوڑھے شخص کے دل پر کچھ گہرے زخم چھوڑ گیا۔ کیا میں نے سچ میں کچھ نہیں کیا اپنے بیٹے کے لیے؟ آج جب میری صحت نے میرا ساتھ چھوڑ دیا تو میں بیٹے کے لیے بوجھ بن گیا؟ اللہ! انسان کو چلتے پھرتے اٹھا لے، کسی کا محتاج نہ کرے۔ اے اللہ! بس اب اپنے پاس بلا لے، اب کسی چیز کی خواہش نہیں رہی۔ اب تو اپنوں نے بھی ساتھ چھوڑ دیا۔ اب اور زخم نہیں سہہ سکتا۔ اب کسی چیز کی تمنا نہیں مجھے، بس میرا بیٹا خوش رہے اور اللہ میری عمر بھی میرے بیٹے کو دے دے۔“ بوڑھا باپ دعا کرتے ہوئے بول رہا تھا۔
���
مست پورہ شوپیان، کشمیر
[email protected]