ڈوڈہ//چند روز قبل ڈوڈہ کے بھرت گائوں سے تعلق رکھنے والے جاوید احمد کو چھاترو کشتواڑ پولیس تھانہ میں زیر حراست تشدد کا نشانہ بنا کر ہلاک کرنے،رام بن میں کچھ عرصہ قبل ہجوم کی طرف سے گئو رکھشا کے نام پر ٹرک کو جلانے اور دو یوم قبل پھر سے گئو رکھشا کے نام پر رام بن میں ایک عمر رسیدہ گوجر کو شدید تشدد کا نشانہ بنا کر قتل کرنے کی کوشش کی پر زور مذمت کرتے ہوئے ڈوڈہ خطہ کے معروف سماجی کارکن ایڈوکیٹ حسان بابر نہرو نے کہا ہے کہ وہ صرف اس واقعہ کی مذمت کرتے ہیں بلکہ دو ٹوک اور وشگاف الفاظ میں بی جے پی کی قیادت والی سرکار یہ کہنا چاہتے ہیں کہ وہ ریاست میں بلعموم اور چناب ویلی (ڈوڈہ خطہ)میں بلخصوص اس کلچر کو پھلنے پھولنے کا موقع نہ دیںگے۔ڈوڈہ میں پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران جواں سال وکیل نے کہا کہ بی جے پی اور اس کی حلیف جماعتیں ہندوستان اور ریاست جموں و کشمیر میں حکومت چلانے میں مکمل طور ناکام ہوئے ہیں اور انتخابی مہم کے دوران اچھے دنوں ،کالے دھن کی واپسی،لوگوں کے خاتوں میں پندرہ لاکھ روپے جمع کرانے ،تعمیر و ترقی ونا انصافی کے خاتمہ کے تمامک وعدے سراب ثابت ہونے کے بعد اب ایک بار پھر سے اقتدار کی گدی پر براجمان ہونے کیلئے سماجی تانے بانے کو نقصان کر کے لوگوں کو مذہب کے نام پر گئو رکھشا ،رام راجیہ اور ہندو تو کے نام پر تقسیم کر کے ووٹ حاصل کرنا چاہتے ہیں اور امر واقعہ یہ ہے کہ ان لوگوں کا رام بھگتی ،ہندوتا،دیش بھگتی ،قومیت،گائے کے تقدس، مذہب کے ساتھ دور کا بھی واسطہ نہ ہے بلکہ الٹا یہ مذہب، ہندوتا،ملک ہندوستان کا نقصان کر رہے ہیں۔اس لئے میں لوگوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ ان کے جھانسے میں نہ آئیں نا ہی مذہبی استحصالی،تقسیم ذات پات ،اونچ نیچ،منافرت کا شکار ہو کر امن بھائی چارہ کو تباہ ہونے دیں۔ایڈوکیٹ نہرو نے کہا کہ وہ کسی بھی جگہ ایسا ماحول نہیں چاہتے ہیں اور لوگوں کو بھی صبر تحمل، برادری ،دور اندیشی،انصاف و رحم کا مظاہرہ کر کے ایسے لوگوں کے دام فریب سے بچنا چاہئے۔انہوں نے کہا کہ چھاترو تھانہ میں بھرت کے جاوید احمد کا بہیمانہ قتل زیر حراست ہوا ہے چاہے اس کو کوئی بھی نام دیا جائے یہ گہری سازش کا نتیجہ ہے۔یہ پوچھے جانے پر کہ آیا وہ آنے والے اسمبلی انتخابات میں بطور امیدوار میدان میں ہوں گے حسان بابر نے نا ہی تصدیق کی اور ناتردید کی بلکہ یہ کہا کہ ان کا واحد مقصد بی جے پی جیسی فرقہ پرست ،سماج دشمن ،ملک دشمن جماعت کو اقتدار سے باہر رکھنا ہے تاکہ انصاف کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ختم ہو اور امن، بھائی چارہ، رواداری، میل جول لوٹ آئے اور ڈرو خوف تشدد کا خاتمہ ہو۔