عظمیٰ نیوز سروس
راجوری//بابا غلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی (بی جی ایس بی یو)، راجوری نے اپنا 22واں یومِ تاسیس یونیورسٹی کیمپس میں نہایت جوش و خروش، وقار اور تعلیمی جذبے کے ساتھ منایا۔ اس اہم موقع پر جموں و کشمیر حکومت کے محکمہ اعلیٰ تعلیم کے اضافی چیف سیکریٹری شری شانت منو، آئی اے ایس، مہمانِ خصوصی کے طور پر موجود تھے۔ تقریب میں یونیورسٹی انتظامیہ، اساتذہ، طلبہ، سابق طلبہ اور معزز مہمانوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔تقریب کا آغاز قومی ترانے سے ہوا، جس کے بعد یونیورسٹی ترانہ اور تلاوتِ کلامِ پاک پیش کی گئی، جس نے پورے ماحول کو روحانی اور باوقار بنا دیا۔ اپنے خطاب میں مہمانِ خصوصی شری شانت منو نے یونیورسٹی کو 22 برس مکمل ہونے پر مبارکباد پیش کی اور محدود وسائل اور مختلف چیلنجز کے باوجود بی جی ایس بی یونیورسٹی کی نمایاں پیش رفت کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ قلیل مدت میں یونیورسٹی نے تعلیمی، تحقیقی اور انتظامی سطح پر جو کامیابیاں حاصل کی ہیں، وہ اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ ادارہ درست سمت میں آگے بڑھ رہا ہے اور مستقبل میں قومی سطح پر تعلیم کے میدان میں ایک نمایاں مقام حاصل کرے گا۔انہوں نے یونیورسٹی کی جانب سے اختیار کی گئی اختراعی پہل قدمیوں کی تعریف کرتے ہوئے یقین دلایا کہ حکومتِ جموں و کشمیر بی جی ایس بی یونیورسٹی کی ترقی اور وسعت کے لئے ہر ممکن تعاون فراہم کرتی رہے گی۔ اس موقع پر شانت منو نے دو جدید اسمارٹ کلاس رومز کا افتتاح کیا، یونیورسٹی کے کیمپس کمیونٹی کنیکٹ پروگرام کا آغاز کیا، نیز زبانوں کے فروغ کے لئے تیار کی گئی اے آئی پر مبنی ویب سائٹ اور ڈیجیٹل ٹولز کا بھی اجرا کیا۔اس سے قبل رجسٹرار بی جی ایس بی یو، ابھیشیک شرما نے استقبالیہ خطاب میں مہمانِ خصوصی، معزز شخصیات، اساتذہ، طلباء اور سابق طلباء کا خیر مقدم کیا۔ انہوں نے گزشتہ ایک برس کے دوران یونیورسٹی کی اہم کامیابیوں پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ داخلوں میں مسلسل اضافہ ہوا ہے، کیپکس اور گرانٹ اِن ایڈ کے تحت مالی امداد حاصل کی گئی ہے، اسمارٹ کلاس رومز قائم کئے گئے ہیں اور بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کے لئے متعدد ترقیاتی منصوبے مکمل یا زیرِ تکمیل ہیں۔ انہوں نے ہاسٹلوں کی تزئین و آرائش اور دیگر جاری تعمیراتی کاموں کا بھی ذکر کیا۔تعلیمی محاذ پر بات کرتے ہوئے رجسٹرار نے بتایا کہ یونیورسٹی نے نیشنل ایجوکیشن پالیسی 2020 کو کامیابی کے ساتھ نافذ کیا ہے اور نئے داخل ہونے والے طلبہ کے لیے مرکزی انڈکشن پروگرام کا انعقاد کیا گیا تاکہ ان کی تعلیمی زندگی کا آغاز خوش اسلوبی سے ہو سکے۔تقریب کے دوران یونیورسٹی کی سالانہ کارکردگی پر مبنی ایک جامع کمپنڈیم بھی جاری کیا گیا، جس میں گزشتہ ایک سال کی کامیابیوں کو اجاگر کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ کمیونٹی کنیکٹ پروگرام کا باقاعدہ آغاز، اسمارٹ کلاس رومز کا افتتاح اور مقامی زبانوں میں تیار کردہ ایک خصوصی ویب سائٹ کی نقاب کشائی کی گئی، جسے ایڈووکیٹ عادل لاوے نے تیار کیا ہے اور جس کا مقصد علاقائی رابطے کو مزید مضبوط بنانا ہے۔وائس چانسلر پروفیسر جاوید اقبال نے اپنے خطاب میں یونیورسٹی برادری کو یومِ تاسیس پر مبارکباد دی اور اساتذہ و عملے کی انتھک محنت کو سراہا۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ بی جی ایس بی یونیورسٹی کو ایک ممتاز تعلیمی اور تحقیقی مرکز بنانے کے لئے تمام تر وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔ڈاکٹر دانش اقبال رینہ اور ڈاکٹر ممتا بھٹ نے بھی یونیورسٹی کے دو دہائیوں پر محیط سفر پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ مختصر عرصے میں ادارے نے اصلاحی اور ترقیاتی مراحل طے کیے ہیں جو قابلِ ستائش ہیں۔تقریب کی نظامت ڈاکٹر تنویر احمد اور ڈاکٹر ماریہ اسلم نے انجام دی، جبکہ ممتاز سابق طلبہ کو مختلف اعزازات سے نوازا گیا۔ اختتامی کلمات پروفیسر ٹی ٹی زیویئر نے ادا کیے۔ اس موقع پر طلبہ کی جانب سے شاندار ثقافتی پروگرام بھی پیش کیا گیا، جس نے حاضرین کو محظوظ کیا۔ تقریب میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر راجوری ملک زادہ شہراز الحق، سینئر جے کے اے ایس افسر بشارت حسین، ایڈمنسٹریٹر اوقاف راجوری عبدالقیوم میر اور دیگر معزز شخصیات نے بھی شرکت کی۔