’بیٹے سے گھر واپس آنے کی اپیل‘

 سرینگر//کم وبیش ڈیڑھ ماہ قبل عسکری تنظیم حزب المجاہدین میں شامل ہوئے پلوامہ کے ایک نوجوان کے والدین نے پر یس کالونی سر ینگرمیں اپنے بیٹے سے گھرواپس لوٹ آنے کی جذ باتی اپیل کی۔حسینہ اختر زوجہ بلال احمد بٹ ساکن ملنگ پورہ پلوامہ نے سرینگر کی پریس کا لونی میںآ کر آ ہ وازی کرتے ہو ئے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو بتایا کہ 7اکتوبر کو حسب معمول اس کا بیٹاعادل گھر سے نکلنے کے بعد ائر پورٹ کی طرف روانہ ہوا جہاں وہ وہاں ایک ٹھیکدارکے ساتھ کام کرتا تھا۔ انہوںنے کہا ’’اس روز جب شام کے وقت عادل گھر واپس نہیں لوٹا تو اسے ہر ممکنہ جگہ تلاش کیا گیا تاہم اس کا کوئی اتہ پتہ نہیں چل سکا کچھ دیر بعد ہی اس کا فون مسلسل سوچ آ ف آ نے لگا اور تب سے اس کے ساتھ کوئی رابط نہیں ہو رہا ہے، اسی روز ہم نے پولیس تھا نہ پلوامہ میں اس ضمن میں ایک گمشد گی کی رپورٹ درج کروائی ہے‘‘۔ انہوںنے کہا کہ ’’تین روز بعداہل خانہ کو بیٹے کے عسکریت پسند بن جانے کی اطلاع سوشل میڈیا کے ذریعہ ملی جہاںعاد ل اپنے کاندھوں پر ایک بندوق اٹھا لیے تھا‘‘۔ انہوں نے کہا کہ’’ وہ حزب المجا ہدین میں شامل ہوا ہے اور جب ا سکے بیٹے نے عسکریت کے میدان کا سہا را لیا تب سے ہمارے گھر کا چولہا بھی نہیں جلا‘‘۔ حسینہ اختر نے پر یس کالونی میں میڈیاکے ذریعہ اپنے بیٹے سے جذباتی طو رپر اپنے بیٹے کی واپسی کیلئے روتے بلکتے ہو ئے کہا’’ کہ لوٹ آو ،، تم مجھے کس کے سہارے چھوڑ گئے ۔ عا د ل کے والد بلال احمد جو پولیس میں کام کررہے ہیں،نے کہا کہ حزب کی صف میں شمولیت کے بعد حسینہ نے کھانا پینا چھوڑ دیا ہے۔ اس دوران دونوں میاں بیوی اور ان کے ساتھ آئے دیگر کئی افرادنے بھی عادل کو واپس آنے کی اپیل کی ۔(سی این ایس)