عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر// پولیس کے کاؤنٹر انٹیلی جنس وِنگ (سی آئی کے) نے ایک بڑی کارروائی انجام دیتے ہوئے سری نگر میں سرگرم ایک منظم اور جدید بین الاقوامی سائبر فراڈ نیٹ ورک کا پردہ فاش کر دیا ہے اور اس سلسلے میں سات افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔حکام کے مطابق سی آئی کے-سی آئی ڈی کو خفیہ اور تکنیکی ذرائع سے اطلاعات موصول ہوئی تھیں کہ کچھ ‘‘خفیہ کال سینٹرز’’ کے ذریعے بیرونِ ملک اور مقامی شہریوں کو آن لائن دھوکہ دہی کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ان اطلاعات کی بنیاد پر خصوصی ٹیمیں تشکیل دی گئیں جن میں تکنیکی ماہرین اور فیلڈ اہلکار شامل تھے۔ ان ٹیموں نے مختلف مقامات پر نگرانی، ڈیجیٹل انٹیلی جنس اکٹھا کرنے اور تصدیقی کارروائیاں انجام دیں، جس کے نتیجے میں رنگریٹ کے انڈسٹریل ایریا میں ایک اہم آپریشنل مرکز کی نشاندہی کی گئی۔بعد ازاں بدھ کے روز سری نگر شہر کے مختلف علاقوں میں مربوط اور اچانک چھاپے مارے گئے، جن کے دوران سات مشتبہ افراد کو موقع پر ہی گرفتار کر لیا گیا۔ اس کارروائی کے دوران بڑی مقدار میں ڈیجیٹل اور مواصلاتی آلات بھی ضبط کیے گئے، جن میں 13 موبائل فون، 9 لیپ ٹاپ، وی او آئی پی (وائس اوور انٹرنیٹ پروٹوکول) سسٹمز، سم کارڈز، نیٹ ورکنگ آلات اور ڈیجیٹل اسٹوریج میڈیا شامل ہیں۔
حکام نے بتایا کہ ضبط شدہ مواد میں ٹھوس شواہد موجود ہیں جو ایک منظم اور جدید ٹیکنالوجی پر مبنی مجرمانہ نیٹ ورک کی نشاندہی کرتے ہیں۔ ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ گرفتار افراد ایک بڑے سائبر کرائم سنڈیکیٹ کا حصہ ہیں، جس کے روابط جموں و کشمیر سے باہر بھی پھیلے ہوئے ہیں۔مزید انکشاف ہوا ہے کہ اس نیٹ ورک کا ایک حصہ خاص طور پر امریکہ، برطانیہ اور کینیڈا جیسے ممالک میں موجود افراد کو نشانہ بنانے کے لیے ترتیب دیا گیا تھا۔ ملزمان جدید تکنیکوں جیسے بین الاقوامی کمیونیکیشن ماسکنگ، نفسیاتی دباؤ اور جعل سازی کے حربے استعمال کرتے تھے، جبکہ رقوم کو ڈیجیٹل ذرائع اور کرپٹو کرنسی کے ذریعے منتقل کیا جاتا تھا۔حکام کے مطابق ملزمان نے ایک غیر رجسٹرڈ اور خفیہ کال سینٹر قائم کر رکھا تھا، جہاں وی او آئی پی سسٹمز کے ذریعے بین الاقوامی ورچوئل نمبرز تیار کیے جاتے تھے۔ وہ سرور روٹنگ اور اسپوفنگ تکنیکوں کے ذریعے اپنی اصل لوکیشن کو چھپاتے اور خود کو مستند سروس فراہم کنندہ ظاہر کرتے تھے۔مزید بتایا گیا کہ جعلی یاہو میل ویب سائٹ اور گوگل اشتہارات کے ذریعے متاثرین کو پھنسایا جاتا تھا۔ جیسے ہی کوئی صارف اشتہار پر کلک کرتا، اس کے سامنے ایک ٹول فری نمبر ظاہر ہوتا، جس پر کال کرنے کے بعد ملزمان متاثرہ افراد کو دھوکہ دے کر ان سے بینکنگ اور ذاتی معلومات حاصل کر لیتے تھے۔حاصل شدہ رقوم مختلف بینک اکاؤنٹس، ڈیجیٹل والٹس اور کرپٹو کرنسی پلیٹ فارمز—خصوصاً یو ایس ڈی ٹی—کے ذریعے منتقل کی جاتی تھیں۔ ان رقوم کو متعدد مراحل میں تبدیل اور منتقل کیا جاتا تھا تاکہ ان کا سراغ لگانا مشکل ہو جائے۔حکام نے بتایا کہ اس فراڈ کے ذریعے اب تک کروڑوں روپے کی لین دین ہونے کا خدشہ ہے، جبکہ اس پورے نیٹ ورک میں نقد رقم کا کوئی استعمال نہیں کیا گیا، جو اس جرم کی مکمل ڈیجیٹل نوعیت کو ظاہر کرتا ہے۔اس سلسلے میں متعلقہ قوانین کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے، جس میں دھوکہ دہی، مجرمانہ سازش اور انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ کی دفعات شامل ہیں۔حکام کے مطابق مزید ملزمان کی گرفتاری کے لیے کارروائیاں جاری ہیں، ضبط شدہ آلات کی فرانزک جانچ کی جا رہی ہے اور متاثرین کی شناخت کے ساتھ مالی لین دین کا سراغ لگانے کی کوششیں بھی تیز کر دی گئی ہیں۔پولیس نے کہا ہے کہ اس وسیع نیٹ ورک، جس کے قومی اور بین الاقوامی روابط ہیں، کی مکمل تحقیقات جاری ہیں۔