گزشتہ اکتوبر میں جب قومی تحقیقاتی ادارہ این آئی اے نے بانڈی پورہ، سرینگر اور بیرون کشمیر بعض شہروں میں سماجی اور خیراتی اداروں کے دفاتر پر چھاپہ مارا تو فوراً اُن کے بینک اکائونٹ منجمد کردئے گئے۔ اس سے غرض نہیں کہ حکومت ایسا کیوں کررہی ہے، سوال یہ ہے کہ جب جذبہ ایثار رکھنے والے لوگ دل کھول کر ان خیراتی اداروں کو چندہ دیتے ہیں تو یہ رقم مستحقین کی ضرورتوں کو پورا کرنے کی بجائے بینکوں میں جمع رہتی ہے، جبکہ مستحقین کو ہزارہا لوازمات پورا کرنے کے بعد چند سو روپے دئے جاتے ہیں۔ بینکوں میں جمع رقم پر حکومت اور انکم ٹیکس محکموں کی نظر رہتی ہے اور جب آفت آتی ہے اور مستحقین کا حق فریز ہوجاتا ہے۔
ویسے بھی کشمیر میں پچھلے تیس برس کے دوران ایک طرح کا این جی او کلچر پروان چڑھ چکا ہے۔ جسے دیکھو، وہ کوئی نہ کوئی خیراتی ادارہ یا ٹرسٹ قائم کررہا ہے۔ مقامی سطح پر سرگرم بیت المال الگ سے کام کرتے ہیں۔ حکومت کا سوشل ویلفیئر ادارہ بھی اربوں روپے کے بجٹ سے چل رہا ہے۔ خلیجی ممالک یا یورپ و امریکہ رہنے والے امیر کشمیریوں کا پیسہ بھی کسی نہ کسی طرح یہاں پہنچ رہا ہے۔ لیکن یہ پیسہ بینکوں میں ہے۔ یہ مفلسوں، ناداروں، محتاجوں، مسکینوں اور فلاکت زدہ طبقوں تک نہیں پہنچ پارہا ہے۔
ایسا ہورہا ہوتا تو 2011 کی مردم شماری رپورٹ کے مطابق جموں کشمیر میں غریبی کی سطح سے نیچے زندگی گزارنے والوں کی شرح 10.35 نہیں ہوتی۔ اس میں سابقہ مردم شمارے کے مقابلے پچاس فی صد اضافہ ہوا ہے۔ اسی مردم شماری رپورٹ میں جموں کشمیر کی آبادی سوا کروڑ ہے۔ غربت کی شرح کا مطلب ہے کہ 13 لاکھ لوگ ہمارے یہاں ایسے ہیں جو نانِ شبینہ کو ترس رہے ہیں، جن کے پاس کوئی سواری نہیں، جن کے بچے سکول چھوڑ کر سڑکوں پر چھاپڑی فروش بن رہے ہیں اور جنہیں بیماری نہیں بلکہ یہ خوف مار دیتا ہے کہ علاج اور دوائیوں کا انتظام بھلا کیسے ممکن ہے؟
چند سال قبل ایک میڈیا رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ صرف کشمیر میں 19ہزار سے زیادہ خیراتی ادارے، یتیم خانے اور فلاحی ٹرسٹ رجسٹرڈ ہیں۔ ان کے علاوہ ہر مذہبی تنظیم کی اپنی خیراتی وِنگ ہے جبکہ دارلعلوم بھی کثرت سے ہیں جو زکواۃ، صدقات اور خیرات جمع کرتے ہیں۔سرسری اندازے کے مطابق صرف وادی میں 30 ہزار سے زیادہ ادارے لوگوں سے زکواۃ اور صدقات و خیرات جمع کرتے ہیں۔ یہ قیاس کرنا کوئی مشکل کام نہیں کہ سالانہ اربوں روپے ان اداروں کے بینک کھاتوں میں جمع ہوتے ہیں۔ لیکن جب یہی رقم تقسیم کرنے کا عمل دیکھیں تو عالیشان دفتروں میں ریٹائرڈ کلرکوں کی مدد سے درجنوں بہی کھاتوں پر حساب رکھا جاتا ہے اور ہر ضرورت مند کو فقط پانچ سو روپے یا ایک کمبل دیا جاتا ہے، عذر یہ پیش کیا جاتا ہے کہ ضرورتمندں کی تعداد بہت زیادہ ہے لہٰذا فی کس یہی کچھ ہوسکتا ہے۔ چند ایک مثالیں بھی پیش کی جاسکتی ہیں جہاں ان اداروں نے کینسر یا گردوں کی تکلیف میں مبتلا کسی محتاج کے علاج کے لئے بھاری رقم بھی پیش کی لیکن اْس کے لئے الگ سے چندہ مہم بھی چلائی جاتی ہے اور اْس بچارے مجبور بیمار کی مجبوری کو گلی گلی عام کیا جاتا ہے۔ انگریزی میں اسےMarketing of Miseryیعنی ’ تکلیف کی تجارت ‘ کہتے ہیں۔
حالات کبھی بھی کسی بھی خطے میں دگرگوں ہوسکتے ہیں۔ اب دیکھئے بعض خیراتی اداروں پر این آئی اے کا چھاپہ پڑا تو کروڑوں کی رقم بینکوں میں سربہ مہر ہوگئی۔ این جی اوز کا یہ جال کسی بھی طرح کشمیریوں کی مفلوک الحالی کا مداوا ثابت نہیں ہوا ہے۔ لوگ نہایت جوش کے ساتھ پیسہ دیتے ہیں لیکن یہ پیسہ بینکوں میں بند ہے۔ مطلب یہ سبھی ادارے نقدی کا گْدام ہیں جبکہ اْنہیں رِفاحی انجن ہونا چاہئے تھا۔
موجودہ تیز رفتار زندگی میں مذہبی جذبوں کا جو بھی حال ہو، لیکن ہر آسودہ حال شخص چاہتا ہے کہ وہ اپنی کمائی کا کچھ حصہ خیرات بھی کرے۔ باقی اعمال کا جو بھی حال ہے لیکن کشمیری سماج منجملہ زکواۃ کے بارے میں اب پہلے سے زیادہ حساس ہے۔ لیکن ستم یہ ہے کہ زندگی کی دوڑ دھوپ میں ہم خیرات و صدقات کے اہم جذبہ کو بھی ہوم ڈیلوری ماڈل پہ ڈھالتے ہوئے مستحق اور اہل ثروت کے بیچ کوئی نہ کوئی ایجنسی ڈھونڈ لیتے ہیں۔ بعد میں ہوتا کیا ہے کہ جب بھاری رقم کسی ادارے کے کھاتے میں جمع ہوجاتی ہے تو حکومت اس پر ٹیکس عائد کرتی ہے اور بینکوں کو نئے ضابطوں کے تحت ہدایات ہیں کہ ٹیکس کو ’ایٹ سورس‘ کاٹا جائے۔
کیا لوگ یہ پیسہ اس لئے دیتے ہیں کہ سْود تو ادارے بٹورتے رہیں اور اْسی پیسے میں سے ٹیکس حکومت کی تجوری میں جائے۔ افسوس ناک مقام ہے!
ہر ذی شعور شہری کو یہ جان لینا چاہئے کہ صدقات، خیرات یا زکواۃ ایسا عمل ہے جو کوئی میکانیکی ذمہ داری نہیں، اس عمل کو ادا کرتے وقت اگر اس میں خلوص اور جذبہ ایثار شامل نہ ہو تو یہ ہیچ اور عبث اور فضول ہے۔ کیوں ہمیں امدادی کاموں میں بھی ایجنٹ کی ضرورت ہے؟ کیا چھٹی کے دن صاحبان ثروت کسی غریب کے یہاں نہیں جاسکتے ، تاکہ اُس کی دلجوئی ہو اور اْس کی ضرورتوں کا اندازہ کرکے مناسب مدد کی جائے۔ انجمنوں اور ٹرسٹوں کے نام پر جاری یہ ’وائٹ کالر گداگری‘ صرف چند حوصلہ مندوں کو مسیحائی کی کرسی پر بٹھاتی ہے جبکہ عوام کا پیسہ بینکوں میں پڑا رہتا ہے ، اس پر ٹیکس عائد ہوتا ہے اور مستحق ویسا ہی کورا رہتا ہے جیسا وہ تھا۔
چلو اگر یہ فرداً فرداً ممکن نہیں کہ سب لوگ ایسا کریں تو جن کے پاس وقت نہیں اگر وہ خیراتی ادارے پر بھروسہ کرکے یہ اعتماد کرتے ہیں کہ اُن کے عطیات مستحقین تک پہنچتے ہیں تو اِن اداروں پر بھارتی بھرکم اخلاقی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ پیسہ بینکوں میں رکھنے کے بجائے مختلف اضلاع میں الگ الگ زونوں کے انچارچ کو سونپ کر اسے فوری طور ضرورت مندوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔
این جی اوز کے زعما جب میٹنگوں میں عالی شان فرنیچر پر بیٹھ کر گیس ہیٹر کی گرمی میں چائے کباب نوش کرتے ہیں تو اُنہیں چنداں یہ خیال نہیں ہوتا کہ یہ سب کَروفَر اُسی پیسے سے ہورہا ہے جو غریبوں کا حق تھا۔ ایثار اور انفاق کو کمرشلائز کرنے میں ان ہی اداروں کا اولین ہاتھ ہے اور عام شہری اپنی مستی میں یہ بھول جاتے ہیں کہ اگر وہ واقعی مدد کرنا چاہتے ہیں تو یہ کام ثمرٓور تب ہی ہوگا اگر وہ خود مستحق کے رابطے میں آہیں اور اُس کی دلجوئی کرتے ہوئے اس کے کام آجائیں۔
اندازہ کیجئے ثواب کی ان ایجنسیوں کے بینک کھاتوں میں یہ پیسہ جمع ہوتا ہے، پھر اکتوبر کے چھاپوں کی طرح کوئی آفت آتی ہے، کھاتہ فریزہوجاتا ہے، پھر انجمن وکیل ہائر کرتی ہے، وکیل کو جو پیسے دئے جاتے ہیں وہ بھی عوام کا پیسہ ہوتا ہے۔ کسی کو اگر مدر ٹیریسہ بننے کا شوق ہے تو وہ اپنی ضرورتوں کو خیرباد کہہ دے۔ مستحق غریبوں کے لئے جمع پیسے سے اپنی تنخواہ حاصل کرنا، اُسی پیسے سے گاڑی چلانا، فرنیچر لانا، دفتر سجانا یہ کہاں کا اخلاق ہے۔ ایسے اداروں کا سماجی سطح پر آڈِٹ ہونا چاہئے اور لوگ بھی اپنا محاسبہ کریں کہ خیرات و صدقات محض جیب سے رقم نکالنا نہیں، اس کے لئے خود وقت نکال کر مستحق کے پاس جانا ہوتا ہے۔
(کالم نویس معروف سماجی کارکن ہیں)
رابطہ۔9469679449، [email protected]
㨄㨄㨄㨄㨄㨄㨄㨄㨄㨄㨄㨄