موجودہ دور جسے ترقی یافتہ دور کہا جاتا ہے ، جہاں کائنات کو تسخیر کیا جارہا ہے اور دنیا چاند پر جا پہنچی ہے۔ سائنس اور ٹیکنالوجی کا استعمال عام ہوچکا ہے ،وہیں ہمارے ارد گرد ایسے لوگ بھی موجود ہیں جنہیں زندگی کی بنیادی ضروریات بھی میسر نہیں۔دنیا فی الوقت کورونا وباء کی گرفت میں تو ہے ہی، اب اسے بے روزگاری کی بڑی مصیبت کا بھی سامنا کرنا پڑ رہاہے۔مختلف ایجنسیوں کے اعدادوشمار بتاتے ہیں کہ بے روزگاری ڈرائونی سطح پرپہنچ چکی ہے۔ سینٹر فار مانیٹرنگ انڈین اکنامی (سی ایم آئی ای) کی تازہ رپورٹ بتاتی ہے کہ بے روزگاری حیرت انگیز طریقے سے بڑھ رہی ہے۔ مارچ2020 سے ہندوستان میںلاکھوں افرادبے روزگار ہوچکے ہیں۔ یہ تعداد ان لوگوں کی ہے، جو منظم شعبے میں کام کرتے تھے۔ غیرمنظم شعبے کی حالت کا تو اندازہ بھی نہیں لگایا جاسکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ہندوستان میں ایسا پہلی بار ہوا ہے جب بے روزگاری کی شرح اتنی زیادہ ہے۔اگر ہم معاشرے میں اپنے ارد گرد نظر دوڑائیں تو ہر دوسرا تیسرا گھر ہمیں معاشی تنگی کا شکار نظر آتا ہے۔ ہر دوسرا شخص بیروزگاری کا رونا رورہا ہے۔ یہی معاشی تنگی بعض اوقات گھریلو ناچاقیوں کا سبب بنتی ہے، رشتوں میں دوری اور دلوں میں کشیدگی کا باعث بنتی ہے۔
بیروزگاری ایک ایسی تلخ حقیقت ہے جو غریب اور ترقی پذیرممالک تو کیا ترقی یافتہ معاشرے کو بھی تہہ و بالا کرسکتی ہے یہی وجہ ہے کہ آج کل ترقی یافتہ ممالک میں بھی روزگار کے مسائل پیدا ہونے کی وجہ سے متعددمسائل نے سر اٹھایا ہوا ہے۔ ترقی یافتہ معاشروں کی حالت آج کس قدر بگڑچکی ہے اِس سے ہر کوئی ذی حس واقف ہے ،ترقی پذیر ممالک کی تو بات ہی نہیں۔
ہم نے اپنی نوجوان نسل کے مستقبل کیلئے کیا سوچا ہوا ہے یا اس کے سدباب کیلئے کیا منصوبہ بندی کی ہوئی ہے؟یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ نوجوان ہر قوم کا اثاثہ سمجھے جاتے ہیں جو قوم اور ملک کی ترقی میں نہ صرف اہم اور ذمہ دارانہ کردار ادا کرتے ہیں بلکہ معاشرے کو اخلاقی اقدار، سماجی،معاشی ،معاشرتی ، ثقافتی اور تخلیقی ذہنوں سے روشناس کرواتے ہیں۔ لیکن آج کے اس کٹھن دور میں انہی نوجوانوں کی بیروزگاری پوری دنیا میں ایک بہ بڑا مسئلہ بن چکا ہے۔ جس کا حل دور تک دکھائی نہیں دیتا۔ بے روزگاری کا مطلب ہے کہ معاشرے میں ایسے لوگوں کا موجود ہونا جو کام کرنے کی اہلیت بھی رکھتے ہوں مگر مناسب مواقع فراہم نہ ہونے کی وجہ سے کام نہ کر رہے ہوں۔
آج نوجوان اپنی زندگی کا لائحہ عمل طے کرنا چاہتے ہیں، یہی آج ہے جو گزرے ہوئے کل یعنی ماضی میں ڈھل جائے گا اور آنے والا کل یعنی مستقبل کی صورت میں نمودار ہو گا۔ گویا آج بیک وقت ماضی ،حال اور مستقبل ہے۔ یعنی تسلسل ہے نوجوانوں کی زندگی کا، زندگی کا تسلسل اس آج ہی سے وابستہ ہے جس کا ہر پل مستقبل کے سہانے خواب بنتا رہتا ہے۔ نوجوانوں میں کچھ کر دکھانے کی امنگ ہی نہیں ہوتی بلکہ وہ ذرائع اور وسائل پر دسترس کا زعم بھی رکھتے ہیں۔ وہ عزم اور حوصلے کی بنیاد پر عظیم الشان مستقبل کا آغاز کرنے کی جستجو میں ہوتے ہیں، یہیں سے ان کی شخصیت کی تعمیر ہوتی ہے۔
ہمارے ہاں پھیلی ہوئی بے چینی اور نا انصافی نے نوجوانوں میں اضطراب کی سی کیفیت پیدا کی ہوئی ہے۔ خاص طور پر بد انتظامی اور ناانصافی نوجوانوں کو ذہنی انتشار کی طرف لے جاتی ہے اور وہ عمر کے فیصلہ کن موڑ پر معاشرتی بگاڑ کی وجہ سے بھٹک جاتے ہیں۔ اس مسئلے کی بڑی وجہ بلا شبہ بیروزگاری اور ہمارے حکمران طبقوںکا وہ طرزِ عمل ہے جس نے مستقبل کی ذمہ داریوں کا تقاضا پیش نظر نہ رکھا۔ آج اعلیٰ تعلیمی اداروں سے ڈگریاں لینے کے باوجود باصلاحیت نوجوان تلاشِ روزگار میں در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں۔یہ ناانصافی نوجوانوں کو ان کے حق سے محروم کرنے کی کوششوں کا حصہ بھی رہی ہے۔ ہمارے معاشرے میں ہر طرف بے چینی پائی جارہی ہے۔ اکثر لوگ ناخوش اور بڑھتی ہوئی مہنگائی سے پریشان ہیں۔ سماجی اور معاشی حالات طالب علموں کیلئے بے چینی کا باعث ہیں۔ مثال کے طور پر یہ بے روزگاری انہیں یہ سوچنے پر آمادہ کرتی ہے کہ ان کی تعلیم انہیں روزگار فراہم کرنے میں مدد نہیں دے سکتی ہے۔ جس سے معاشرے میں بڑھتی ہوئی برائیاں، دھوکہ دہی، جھوٹ، نا انصافی، عدم مساوات، چوری اورڈاکہ زنی جیسی خرافات عام ہورہی ہیں۔ جس معاشرے میں نا انصافی، غربت اور بے روزگاری پر قابو نہ پایا جاسکے وہ معاشرہ ایسی ہی برائیوں کی جانب گامزن رہتا ہے۔ ایک مشہور مقولہ ہے کہ غربت اور مہنگائی کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔
ان مسائل کا سدباب کس کی ذمہ داری ہے، کیا فقط حکام بالا کو دوش دے کر ہم بری الذمہ ہوجاتے ہیں؟ نہیں، ہمیں اپنے لئے خود آگے بڑھنا ہوگا بحیثیت قوم پہلا قدم ہمیں خود بڑھانا ہوگا، اگر ہم اپنے حالات کی بہتری کے خواہاں ہیں تو بہتری کی طرف پیش قدمی کرنی ہوگی۔بے شک رزق کا وعدہ اللہ تعالیٰ کا ہے لیکن کسب معاش کی ذمہ داری اس نے انسان کو سونپی ہے۔
پہلا قدم ان اسباب کی نشاندہی کرنی ہے جو معاشی تنگی کا سبب ہیں تا کہ ان مسائل سے نبرد آزما ہونے میں مدد مل سکے۔ انسان بڑا ہی حریص واقع ہوا ہے ۔تھوڑے پر کفایت کرنا انسان کی طبیعت پر گراں گزرتا ہے۔ بہترین کی لالچ میں انسان بہتر بھی گنوادیتا ہے اور قصوروار حالات کو ٹھہراتا ہے۔
ہمارے معاشرے میں تقابل کا رواج عام ہوچکا ہے جو حسد کو جنم دیتا ہے۔ اپنا مقابلہ اپنے سے بہتر لوگوں کے بجائے کمتر لوگوںسے کریں۔ بیجا اور فضول خرچ بھی معاشی تنگی کا ایک اہم سبب ہے۔ ہر ماہ کچھ رقم کو پس انداز کردیا جائے تو ضرورت کے وقت خاطر خواہ رقم موجود ہوگی۔اگر فی الوقت کوئی ملازمت میسر نہیں ہے تو چھو ٹے موٹے کام کرکے اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لایا جاسکتا ہے۔ اگر کم پیسے ہیں تو کم سے شروعات کریں لیکن شروعات ضرور کریں کیونکہ حرکت میں ہی برکت ہے۔ الغرض اگر معاشرے سے بے روزگاری، معاشی مسائل، گداگری کا خاتمہ کرنا ہے تو بحیثیت قوم ہر فرد کو اپنا کردار نبھانا ہوگا۔ اگر آپ کسی کی مدد کرسکتے ہیں تو ضرور آگے بڑھیے اور اپنے حصے کا دیا جلائے۔ اگر آپ ضرورت مند ہیں تو ہاتھ پر ہاتھ دھرے نہ بیٹھیں۔ کسی معجزے کا انتظارکئے بغیر خودبھی آگے بڑھیں اوردوسروں کو بھی آگے بڑھنے کی صلاح دیں۔آج کے اس اضطراری تسلسل کو بہر صورت منقطع کرنا ہو گا ورنہ یہ بے یقینی بڑھ کر ناامیدی میں بھی ڈھل سکتی ہے۔ ہمیں اپنے نوجوانوں کو یہ آگاہی فراہم کرنی ہو گی کہ امید، یقین اور جہدِ مسلسل کی مدد سے اس گرداب سے نجات حاصل کی جا سکتی ہے۔