لوگو اور ویب سائٹ لانچ
عظمیٰ نیوز سروس
نئی دہلی// ہندوستان نے منگل کے روز 10 ممالک کے گرو پ برکس کی صدارت باضابطہ طور پر سنبھالتے ہوئے سال 2026 کے لیے سرکاری لوگو اور ویب سائٹ لانچ کی۔ اس سال کے اختتام پر ہندوستان 18ویں برکس سربراہ اجلاس کی میزبانی کرے گا۔وزیرِ خارجہ ڈاکٹر ایس جے شنکر نے لوگو اور ویب سائٹ کا افتتاح کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان اپنی صدارت اور اس لوگو کے ذریعے ‘انسانیت اول اور عوام پر مرکوز نقطۂ نظر کو آگے بڑھائے گا۔ انہوں نے کہا کہ برکس کی صدارت کے دوران ہندوستان کی کوشش برکس ممالک کی صلاحیتوں کو عالمی فلاح کے لیے یکجا کرنا ہوگی۔ ڈاکٹر جے شنکر نے کہا کہ جب ہندوستان 2026 میں برکس کی صدارت سنبھالنے کی تیاری کر رہا ہے تو یہ اس گروپ کے سفر کا ایک اہم مرحلہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2026 میں برکس اپنے قیام کے 20 برس مکمل کر لے گا۔ان برسوں میں یہ گروپ ابھرتی منڈیوں اور ترقی پذیر معیشتوں کے درمیان تعاون کے ایک اہم پلیٹ فارم کے طور پر ترقی کرچکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ برسوں میں برکس نے بدلتے عالمی چیلنجوں کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے ایجنڈے اور رکنیت میں توسیع کی ہے۔ ساتھ ہی عوام کو مرکز میں رکھنے والی ترقی اس گروپ کی ترجیح رہی ہے، جس سے بات چیت اور عملی تعاون کو فروغ ملا ہے۔ڈاکٹر جے شنکر نے کہا کہ موجودہ عالمی ماحول پیچیدہ اور ایک دوسرے سے جڑے ہوئے چیلنجوں، جغرافیائی سیاسی غیر یقینی صورتحال، اقتصادی عدم مساوات، آب و ہوا کے خطرات اور تکنیکی تبدیلیوں سے متصف ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ لوگو اس بات کی علامت ہے کہ جہاں برکس کی طاقت اس کے ارکان کے مشترکہ تعاون سے آتی ہے، وہیں ان کی انفرادی شناخت کا بھی احترام کیا جاتا ہے۔ ہندوستان نے برازیل سے برکس کی صدارت سنبھال لی ہے۔اس مدت کے دوران ہندوستان عالمی جنوبی (ترقی پذیر ممالک) کے تعاون، جامع طرز حکمرانی اور اختراع پر زور دے گا۔ جی-20 سربراہ اجلاس کی کامیاب میزبانی کے بعد ہندوستان برکس کی صدارت کو بھی وسیع پیمانے پر منعقد کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔ اس کے تحت ملک کے 60 شہروں میں پورے سال کے دوران 100 سے زائد اجلاس منعقد کیے جائیں گے۔ جولائی 2025 میں ریو ڈی جنیرو میں 17ویں سربراہ اجلاس کی میزبانی کے بعد برازیل نے یہ ذمہ داری ہندوستان کے حوالے کی ہے۔ سربراہ اجلاس سے قبل رکن ممالک کے وزرائے خارجہ، وزرائے خزانہ، وزرائے تجارت اور وزرائے توانائی کی سطح پر کئی وزارتی اجلاس منعقد کیے جائیں گے۔