عظمیٰ نیوز سروس
نئی دہلی //وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ موجودہ عالمی حالات کے پیش نظر فوجی تصادم کسی بھی مسئلے کا حل نہیں اور دنیا کو پائیدار، مستحکم اور دیرپا امن کی ضرورت ہے۔ انہوں نے یوکرین اور مغربی ایشیا کے جاری تنازعات کا حوالہ دیتے ہوئے واضح کیا کہ بھارت ہمیشہ پرامن حل کا حامی رہا ہے۔یہ بات انہوں نے آسٹریا کے چانسلر کرسٹن کے ساتھ نئی دہلی میں ملاقات اور مشترکہ پریس بیان کے دوران کہی۔ وزیر اعظم نے کہا کہ آج پوری دنیا ایک نہایت سنگین اور کشیدہ صورتحال سے گزر رہی ہے اور اس کے اثرات ہم سب محسوس کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بھارت اور آسٹریا اس بات پر متفق ہیں کہ کسی بھی تنازعے کا حل جنگ کے ذریعے ممکن نہیں بلکہ بات چیت، تعاون اور سفارتکاری ہی واحد راستہ ہے۔انہوں نے کہاہم یوکرین اور مغربی ایشیا میں مستحکم، پائیدار اور دیرپا امن کی حمایت کرتے ہیں۔وزیر اعظم نے چانسلر اسٹاکر کے دورہ بھارت کو اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے دونوں ممالک کے درمیان تجارت اور سرمایہ کاری کو نئی توانائی ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ بھارت اور یورپی یونین کے درمیان حالیہ فری ٹریڈ معاہدے کے بعد تعلقات میں ایک “نیا سنہرا باب” شروع ہوا ہے، اور آسٹریا کے ساتھ شراکت داری اس کو مزید مضبوط کرے گی۔انہوں نے انفراسٹرکچر، انوویشن، صاف توانائی اور شہری ترقی کے شعبوں میں دونوں ممالک کے دیرینہ تعاون کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ آسٹریا کی تکنیکی مہارت اور بھارت کی وسعت مل کر عالمی سطح پر قابلِ اعتماد سپلائی چین اور جدید ٹیکنالوجی کو فروغ دے سکتی ہے۔ دفاع، سیمی کنڈکٹر، کوانٹم اور بائیوٹیکنالوجی جیسے اہم شعبوں میں تعاون بڑھانے پر بھی اتفاق کیا گیا۔تعلیمی میدان میں تعاون کو اجاگر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ انڈئن انستی چیوٹ آف تیکنالوجی دہلی اور یونیورسٹی مونٹان لیوبن کے درمیان مفاہمتی معاہدہ علمی تبادلے کی ایک اہم مثال ہے۔ انہوں نے نوجوانوں کے تبادلے اور “ورکنگ ہالیڈے پروگرام” کے آغاز کا بھی اعلان کیا۔بات چیت کے بعد جناب مودی نے سوشل میڈیا پر اپنی پوسٹ میں چانسلر اسٹاکر کے ساتھ اپنی گفتگو کو مفید قرار دیا۔ انہوں نے کہا، “آسٹریا کے چانسلر اسٹاکر کے ساتھ انتہائی مفید گفتگو ہوئی۔ ہندوستان میں ہمیں اس بات پر خوشی ہے کہ انہوں نے عہدہ سنبھالنے کے بعد یورپ سے باہر اپنے پہلے دورے کے لیے ہمارے ملک کا انتخاب کیا۔ یہ ہندوستان-آسٹریا تعلقات کے تئیں ان کے وژن اور وابستگی کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ بات بھی یکساں طور پر خاص ہے کہ چار دہائیوں میں کسی آسٹریا کے چانسلر کا یہ پہلا دورہ ہے۔ ان کا یہ دورہ تاریخی ہندوستان-یورپی یونین آزاد تجارتی معاہدے کے بعد ہو رہا ہے، جس نے ہندوستان اور یورپی یونین کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کیا ہے۔” مودی نے کہا کہ چانسلر اسٹاکر کے دورے سے ہندوستان-آسٹریا تعلقات ایک نئے دور میں داخل ہو رہے ہیں۔ انہوں نے انفراسٹرکچر، جدت اور پائیداری کے شعبے میں دونوں ممالک کے درمیان قابل بھروسہ شراکت داری کا ذکر کرتے ہوئے مختلف منصوبوں میں تعاون کا تذکرہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم آسٹریا کی مہارت اور ہندوستان کی رفتار و وسعت کو جوڑ کر پوری دنیا کے لیے قابل بھروسہ ٹیکنالوجی اور سپلائی چین کو یقینی بنائیں گے۔ ہم دفاع، سیمی کنڈکٹر، کوانٹم اور بائیو ٹیکنالوجی میں بھی اپنی شراکت داری کو مضبوط کریں گے۔ ساتھ ہی، ہم انجینئرنگ اور تکنیکی تعلیم کے تعاون کو بھی مزید مستحکم کریں گے۔ آئی آئی ٹی دہلی اور آسٹریا کی مونٹان یونیورسٹی کے درمیان آج جس مفاہمت نامہ پر دستخط کیے جا رہے ہیں، وہ علم کے تبادلے کی ایک روشن مثال ہے۔