بھارت۔ پاک جنگ | امریکی مفروضہ یا پیش گوئی

 پال فنڈلے کی اس کتاب کے گیارہ ابواب ہیں جن میں مختلف عنوانات کے تحت اس نے اپنے دور اور ماضی قریب کے اہم واقعات قلمبند کئے ہیں ۔ سینکڑوں انکشافات ایسے کہ عقل محو تماشائے لب بام رہ جاتی ہے اور نتائج کے لحاظ سے کئی اہم اور سنسنی خیز حقائق سامنے کھڑے ہوجاتے ہیں جن سے یہ واضح اور صاف عیاںہوتا ہے کہ امریکی کہیں بھی ان کلیدی اور حساس ڈیپارٹمنٹ میں اپنا کوئی وجود ہی نہیں رکھتے بلکہ جو کچھ بھی عملی طور پر امریکی سر زمین پر نظر آتا ہے، اس میں یہی صیہونی لابی مرکزی کردار ادا کرتی ہے جو بے شمار ناموں کے ساتھ مصروف عمل ہے ۔ جان فنڈلے کے یہ الفاظ کوزے میں سمندر کی مانند ہیں۔ (اسرائیلی لابی جب بھی چاہئے ہماری قوم کے خفیہ راز حاصل کرنے کے لئے مظبوط ترین دفاعی حصاروں کو آسانی سے توڑتی ہے لیکن جب اس لابی کا مقصد کسی اطلاع کو راز میں رکھنا ہوتو یہی دفاعی حصار ناقابل عبور بن جاتا ہے ‘‘۔ پال ویریچ امریکی سینٹ میں ایک مدد گار کا کام کرتا تھا۔ اس لابی کے حیرت انگیز سسٹم کے متعلق لکھتا ہے ’’ ان کا سسٹم حیرت انگیز ہے ، اگر آپ ان کے حق میں ووٹ دیں ان کا پسندیدہ بیان دیں تو یہ اس کی سرعت انگیز تشہیر کرتے ہیں ۔ اپنی مطبوعات میں بھی اور ملک بھر کے مدیران جرائد کے واسطے سے بھی جو کہ ان کے حمائتی ہوتے ہیں ۔ یہ سسٹم اتنی ہی شدت اور سرعت کے ساتھ الٹا بھی چلتا ہے اگر آپ کوئی ایسی بات کہہ دیں جو انہیں پسند نہیں اور اس کے ساتھ ہی ایک مذمتی اور تردیدی مہم بھی ساتھ ساتھ چلتی ہے ، اس قسم کا دباؤ سینٹرز پر لازمی طور پر اثر انداز ہوتا ہے ۔ یہ سرگرمی ایک وسیع جال کے ذریعے بر قرار رکھی جاتی ہے ۔ان کمیٹیوں اور کونسلوں کے ایک بڑے جال کے ذریعے( aipac  ) یہ سیاسی مقصد ساحل تا ساحل کرتی ہے ، اس کے ۱۹ افسران ،مہینے میں ایک بار (ڈائین )’یہودی ادارہ ‘سے ملاقات کرتے ہیں اور تنظیمی و انتظامی امورات پر تبادلہ خیالات کرتے ہیں۔ اس کے پانچ نائب صدر اور ۱۳۲ ممبراں پر مشتمل ایک بڑی ایگزیکٹیوکمیٹی بھی ہوتی ہے ۔ پال فنڈلے نے ایک انتہائی حساس واقعہ کو بھی اس کتاب میں رقم کیا ہے جو اگر کسی دوسرے ملک سے سرزد ہوا ہوتا تو تیسری عالمی جنگ چھڑ چکی ہوتی ۔یہ s's liberty u امریکی جہاز کی کہانی ہے جس پر اسی جہاز کے ایک آفیسر ennes نے ایک پوری ضخیم کتاب ایک چشم دید گواہ کی حیثیت سے لکھی ہے ۔یہ جہاز ۸ جون ۱۹۶۷؁ء کو اسرائیلی بمباری اور آبدوزوں کا اس وقت نشانہ بنا جب اس جہاز نے اپنا سفر مشرقی بحیرہ روم سے شروع کیا تھا اور مغرب کی جانب صرف پندرہ میل کے فاصلے پر تھا ۔ اس روز صبح ایک ہوائی جہاز اس کے اوپر سے اڈ ا جس کو جہاز کے امریکی عملے نے اسرائیلی جہاز کی حیثیت سے شناخت کیا تھا ۔دس بجے دو جیٹ ہوائی جہازوں نے اس کے اوپر سے پرواز کی جس پر راکٹ فٹ تھے اور پھر ٹھیک دو بجے لیبرٹی پر شدید حملہ ہوا جس میں امریکی ۳۴ اہلکار ہلاک اور ۱۷۱ لوگ زخمی ہوئے تھے ۔ جہاز کے کیپٹن ولیم نے انتہائی بہادری سے ا س کے تھوڑے سے بچے کھچے عملے کو بچایا ۔ کہانی لمبی ہے لیکن حیر ت انگیز طور پر اس حملے اور اس جہاز کی ساری تفصیلات بلیک آو ٹ ہوئی ۔ ایک گھنٹے کے حملوں کے دوران کسی بھی امریکی جہاز نے اس جہاز کو کوئی امداد نہیں پہنچائی اس کے باوجود کہ امریکی بحری بیڑے  صرف ۳۰ منٹ کی مسافت پر تیار کھڑے تھے لیکن انہیں واشنگٹن سے احکامات نہیں مل رہے تھے ۔یہ دور صدر جانسن کا تھا اور بالکل نزدیکی سمندری جہاز کے کمانڈر ایڈمرل ڈونالڈاینجن نے بعد میں بیان دیا کہ ہمیں معلوم تھا کہ لیبرٹی پر حملہ ہوچکا ہے لیکن ہمیں بچائو میں جانے کی اجازت نہیں ملی ۔اس سارے معاملے کو جان بوجھ کر پیچیدہ بناکر تمام شواہد اور اس سے متعلق اصل حقائق پر خاک ڈالی گئی اور صدر نے صرف یہ مختصر سا بیان دیا کہ اسرائیل نے محض غلط فہمی کی بنیاد پر اس جہاز کو تباہ کیا تھا اور اس پر افسوس کا اظہار کیا تھا جس سے امریکہ قبول کرتا ہے۔اس کے بعد سترہ برس تک بھی اینس کیلئے اس کے حقائق  سے پردہ اٹھانے کی تمام راہیں مسدود کی گئیں۔پنٹاگون نے اخباری نمائندوں کو تفتیش مکمل ہونے تک کا انتظار کرنے کی ہدایت کی جو کبھی پوری نہیں ہوئی۔ ظاہر ہے امریکہ میں بیٹھی ہوئی صیہونی لابی نے اس جہاز کی تباہی کے تمام تفتیشی راستے بند کئے تھے اور کسی بھی امریکی کو کبھی حقائق سے آشنا ہونے کا موقعہ فراہم نہیں کیا۔اس کتاب کے تمام ابواب میں سینکڑوں اس طرح کے واقعات لکھے ہیں جن سے یہ نتائج بر آمد ہوتے ہیں کہ اسرائیل امریکہ کا وہ لاڈلا بچہ ہے جو معمولی ناراضگی پر بھی امریکی صدور کی داڑھی ادھیڑ ادھیڑ کر ان کے چہروں کو لہو لہاں کرنے کی ہمت اور قوت رکھتا ہے ۔ نو گیارہ کے بہت بڑے خوفناک حادثے میں بھی اسی لابی کی پلاننگ تھی اورشاید آپ کو یاد ہوگا کہ آسٹریلیا نے اس واقعے کے صرف چند دن بعد ہی یہ بیان جاری کیا تھا کہ ’’یہ انسائڈ جاب تھا ‘‘اب وقت کے ساتھ ساتھ یہ واضح ہوچکا ہے لیکن اس پر امریکہ میں حسب معمول کوئی بحث کرنے کی ہمت نہیں جٹا پاتا اور صیہونی میڈیا کی طاقت اور غلبے کی وجہ سے کبھی وہ سچ سامنے نہیں آتا جس سے یہ لابی منکشف نہ ہونے دینے کا عزم کرتی ہے ۔اب بہت سارے برس گذرنے کے بعد امریکہ کے اندر پنٹاگون اور دوسرے کلیدی اداروں کا حال کیا ہوگا ،اس کا صرف اندازہ ہی کیا جاسکتا ، قاسم سلیمانی کا دن دھاڈے قتل اور حالیہ دنوں میں ایران کے ٹاپ سائینٹسٹ اور عہدے داروں کی ہلاکت موساد کی طاقت اور قوت کا واضح اعلان ہے اور ان حملوں کے مقاصد اس کے علاوہ کچھ نہیں کہ ایران ردِ عمل ظاہر کرنے پر مجبور ہو۔تاکہ اسرائیل امریکی پاور سے اس ملک کی اینٹ سے اینٹ بجادے بالکل اسی طرح جیسے اب تک عراق ، افغانستان اور دوسرے مسلم ممالک کی تباہی اور بربادی کو پایہ تکمیل تک پہنچایا جا چکا ہے اور شاید ٹرمپ آفس چھوڑنے سے پہلے یہ’’ کار نامہ ‘‘ بھی انجام دینے کی عجلت میں ہے۔
اس سارے پس ِ منظر اور پیش منظر میں یہ نتیجہ آسانی سے اخذ ہوتا ہے کہ اسرائیل کسی بھی صورت اور کسی بھی قیمت پر کسی بھی مسلم ملک کا نیو کلیر پاور ہونا برداشت نہیں کرسکتا ، یہ اسرائیل کے لئے ناقابل قبول سچویشن ہے کہ پاکستان جو ایک نظریاتی سٹیٹ ہے دنیا کے نقشے پر ایک ایٹمی پاور کی حیثیت سے موجود رہے۔بلکہ پاکستان کے وجود میں آنے کے بعد ہی پہلے اسرائیلی وزیر اعظم نے کہا تھا کہ اسرائیل کے لئے صرف پاکستان ہی خطرے کا باعث ہوسکتا ہے کیونکہ یہ سٹیٹ بھی اسرائیل کی طرح ہی ایک نظریہ پر وجود میں آئی ہے ۔ اس سے یہ بھی ظاہر ہے کہ صیہونیوں کا وژن کس قدر مستحکم اور وسیع ہے ۔ اس قوم کے لئے یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ آخری دور میں تقریباً ناقابل تسخیر ہوگی اور اس کی تباہی ہر حال میں یقینی طور پر حضرت عیسیٰ کے نزول سے پہلے ہی مشروط ہوچکی ہے ۔اسرائیل کے لئے خود پاکستان کے نیو کلیر اثاثوں کو تباہ کرنا یا تو مشکل ہے یا حسب روائت وہ اپنا دامن اس کے نتائج سے بچائے رکھنا چاہتا ہے۔بھارت بھی اسرائیل کی طرح ہی ایک نظریاتی ملک کے طور پر بڑی تیزی سے ابھر رہا ہے اور خود پچھلے انتخابات میں خود پی ایم نے یہ بیان مسکراتے ہوئے دیا تھا کہ ، اب اپوزیشن ’’ سیکولر ‘‘ لفظ سے بھی گریزاں ہوچکی ہے ۔اور کانگریس نے بھی خوف کی وجہ سے نرم ہندوتوا کی حکمت عملی اپناکر اپنے اصل راستے سے فرار کیا تھا۔ظاہر ہے کہ امریکی تھنک ٹینکس صیہونی تھنک ٹینکس ہی ہیں جو اسرائیل کے مفادات کے لئے امریکی پاور اور وسائل کا بے دریغ استعمال کر رہی ہیں ۔اور یہ احادیث کی روشنی میں بھی میں درست ہے اور ایک خاص وقت کے بعد اسرائیل امریکہ کو بھی لازمی طور پر ٹولیٹ پیپر کی طرح ہی پھنکنے والا ہے ۔
 بہر حال جب پاکستان کا نیو کلیراسرائیل کے لئے سوہانِ روح اور ناقابل برداشت ہے تو پھر اس سے تباہ کرنے کے آسان اور قابل بھروسہ راستے کہاں سے شروع اور محفوظ ہوسکتے ہیں؟ اسرائیل اس کے لئے بہت کچھ داؤ پر لگا سکتا ہے ۔ہم انہیں امریکی مفروضے سمجھ کر بڑی غلطی کریں گے بلکہ نتیجہ یہی اخذ کیا جاسکتا ہے کہ بار بار ہند پاک جنگ کے امکانات ظاہر کرنے کا مقصد ہی اس جنگ کے لئے میدان ہموار کرنا ہے کیونکہ یہ ہم اچھی طرح جانتے ہیں کہ عملی جنگ سے پہلے اس دور میں ذہن سازی اور پروپگنڈا ایک ہراول دستے کی صورت اختیا ر کر چکا ہے۔ لگتا ہے کہ امریکی تھنک ٹینکس کا یہ ہراول دستہ اپنا سفر شروع کرچکا ہے اور شاید جلد یا تھوڑی سی دیر کے بعد اصل میدان کار زار بھی گرم کیا جا ئے گا۔شطرنج کی یہ بساط کہاں اور کس ملک میں بچھائی جاسکتی ہے اور اس بساط پر کتنے مہرے پٹیں گے ،اس کا اندازہ ہی کیا جاسکتا ہے ۔
(زیر نظرمضمون کی پہلی قسط سنیچر وارکو شائع ہوچکی ہے)
���������