نوشہرہ //مسلسل سات دنوں کی ہڑتال کے بعد بالآخر بھاجپا سے تعلق رکھنے والے ریاستی وزراء اور ممبر پارلیمنٹ پر مشتمل ایک گروپ نے نوشہرہ پہنچ کر ڈاک بنگلہ میں لوگوں سے بات چیت کی اور پندرہ دنوں کی مہلت مانگتے ہوئے اعلان کیاکہ اگر اس مدت کے اندر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر پوسٹ کے حوالے سے کوئی فیصلہ نہ ہو اوہ بھی ان کے ساتھ جدوجہد میں شامل ہوجائیںگے ۔وزیر صحت بالی بھگت ، وزیر برائے پشوپالن عبدالغنی کوہلی ، وزیر برائے پی ایچ ای شام لعل چوہدری ، ممبر پارلیمنٹ جگل کشورشرما ،بھاجپا کے ریاستی صدر ستپال شرما،یدھ ویر سیٹھی پر مشتمل ایک گروپ نے نوشہرہ پہنچ کر ہڑتال کررہے لوگوں سے بات چیت کی ۔اس موقعہ پر مقامی لوگوںنے بتایاکہ نوشہرہ کو تحصیل کادرجہ 1947میں دیاگیاتھا جس کو ہنوز ضلع کادرجہ نہیں دیاگیا۔ سبھاش کپور ، جگدیش ساہنی ، روی کانت گپتا، بھارت بھوشن گپتا، پرمجیت سنگھ وغیرہ نے کہاکہ حکومت جہاں سنگ بازوں کی بات بھی سنتی ہے وہیں ان کے جائز مطالبے کو پورا نہیں کیاجارہا۔ انہوںنے کہاکہ وہ پرامن طور پر احتجاج کرتے رہے ہیں اور شائد یہی وجہ ہے کہ حکومت نے ان کی ہڑتال پر کوئی توجہ نہیں دی ۔ اس دوران بھاجپا لیڈران نے کہاکہ پندرہ دنوں کے اندراندر کوئی فیصلہ لیاجائے گا اور اگر ایسا نہ ہواتو وہ بھی عوام کے ساتھ ہوںگے ۔دریں اثناء آٹھویں روز بھی نوشہرہ بازار بند رہا اور تمام دفاتر بھی نہیں کھلے جس کی وجہ سے لوگوں کو سخت مشکلات کاسامنا کرناپڑا ۔