یو این آئی
کولکاتا// مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے جمعہ کے روز کہا کہ اگر مغربی بنگال اسمبلی انتخابات میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو کامیابی ملتی ہے تو حکومت بننے کے چھ ماہ کے اندر یکساں سول کوڈ (یو سی سی) نافذ کیا جائے گا، اور بی جے پی “بنگال کے بیٹے” کو وزیراعلیٰ بنائے گی۔شاہ نے اسمبلی انتخابات کے لیے بی جے پی کا ’سَنگکلپ پتر‘ (انتخابی منشور) جاری کرنے کے بعد پریس کانفرنس میں وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کی قیادت والی ترنمول کانگریس پر الزام لگایا کہ وہ خوشامد کی سیاست کرتی ہے۔ انہوں نے ترنمول کے اس دعوے کو بھی مسترد کیا کہ بی جے پی بنگال کے لوگوں کی کھانے پینے کی عادات میں مداخلت کرے گی۔ امیت شاہ نے دراندازی کے مکمل خاتمہ ، خواتین کو 3000 روپے کی امداد اور بی جے پی نے اقتدار میں آنے کے 45 دنوں کے اندر ساتویں پے کمیشن کی سفارشات کو نافذ کرنے کا بھی یقین دلایا۔ پارٹی نے مبینہ بدعنوانی پر وائٹ پیپر جاری کرنے کے ساتھ ساتھ چھ ماہ کے اندر یکساں سول کوڈ (یو سی سی) متعارف کرانے کا بھی عہد کیا۔اس دوران امیت شاہ نے ٹی ایم سی کے الزام کے خلاف سخت الفاظ میں تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی اپوزیشن میں بیٹھنے کے بجائے کسی ایسے شخص کے ساتھ اتحاد کرے گی جو مغربی بنگال میں بابری مسجد کی تعمیر کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی بنگال میں بابری مسجد بنانے والوں کے ساتھ کبھی اتحاد نہیں کرے گی، ہم 20 سال تک اپوزیشن میں بیٹھنا پسند کریں گے۔امت شاہ نے کہا، یکساں سول کوڈ بی جے پی کی سفارش نہیں بلکہ آئین ساز اسمبلی کی سفارش ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ خوشامد کی سیاست کی وجہ سے اسے کئی دہائیوں تک نافذ نہیں کیا جا سکا۔ انہوں نے کہا، جہاں جہاں ہماری حکومت بنی ہے، ہم نے اسے نافذ کیا ہے اور بنگال میں بھی ایسا ہی کریں گے۔بی جے پی نے اپنے منشور میں وعدہ کیا ہے کہ حکومت آنے کے چھ ماہ کے اندر یو سی سی نافذ کیا جائے گا۔ شاہ نے کہا، “بنگال میں ہر شہری کے لیے ایک ہی قانون ہوگا۔” انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا “ایک شخص کو چار شادیاں کرنے کی اجازت دینا خوشامد ہے یا سب کو ایک ہی قانون کے تحت لانا؟” سابق بی جے پی صدر نے اس سوال کا بھی جواب دینے کی کوشش کی کہ مغربی بنگال میں پارٹی کا وزیراعلیٰ کا چہرہ کون ہوگا۔