بڑے لوگ

  ــ’’ماں جو بات غلط ہے وہ غلط ہی کہلائے گی۔  جس طرح کالے کو ہم سفید نہیں کہہ سکتے  ہیں  اسی طرح سفیدکو کالا نہیں کہہ سکتے ہیں‘‘
  ــ’’ پر بیٹا  یہ بھی کون سی عقل مندی ہے جو  تم کرنے جا رہے  ہو ‘‘
  ’’ ماں مجھ سے یہ سب دیکھا نہیں جاتا  ۔ یہ ظلم ہے نا انصافی  ہے‘‘ 
 ’’ میرے بیٹے تم یہ سب مت سوچ،  ابھی تیرے سوچنے کے دن نہیں ہیں، جب تم بڑے ہو جائوگے تو ہر بات تیری سمجھ میں آ جائے گی، ابھی تم بہت چھوٹے ہو۔۔۔جا پُتّر پڑھائی کر ۔۔۔۔ جا ـ ‘‘ ماں نے تو مجھے جانے کے لئے کہہ دیا اور میں چُپ چاپ چلا بھی گیا مگر میرا دل خون کے آنسوں رو رہا تھا۔۔۔۔
دیکھنے میں تو انسان بہت ہی چھوٹا ہے  اوراس کی سمجھ بھی  بہت ہی مختصر ہے ،  لیکن بنانے والے نے اس کا دل اتنا وسیع بنایا ہے کہ دنیا کے سارے سمندر اس کے سامنے ہیچ ہیں ۔۔۔ انسان کا دل ہزار ہا سمندروں کا مجموعہ ہے، جس میں محبت اور نفرت کا سمندر، ہمدردی اور خودغرضی کا سمندر، علم اور جہالت کا سمندراور ان سب سے بڑاخواہشات کا سمند ر رواں دواں رہتا ہے ۔۔۔ محبت، نفرت، ہمدردی، خودغرضی  اور علم وجہالت پر کبھی کبھی دبیز پردے پڑ بھی جاتے ہیںمگرخواہشات  کا سمندر ہر وقت موجزن رہتا ہے اور انسان کی کتنی بھی خواہشیں پوری کیوں نہ ہوں،  مگراس سمندر کی حد کہیں پر بھی نہیں  رکتی ہے  اور ہر خواہش پوری ہونے کے بعدیہ سمندر اور وسیع ،اور چوڑا ہوتا جاتا ہے  اور پھر انسان بھی اس میں ایسا ڈوب جاتا ہے کہ تند وتیز لہریں اس کو کبھی یہاں تو کبھی وہاںپٹختی رہتی ہیں۔۔۔اور تا عمر اسی میں ہچکولے کھاتا رہتا ہے، پھر ایک  دن وہ خود ہی اپنے خواہشات کے سمندر میںیاس وحسرت لئے آنکھیں موند لیتا ہے۔۔۔پہلی خواہش انسان میں کب جنم لیتی ہے، یہ حل طلب مسلہ نہیں ہے۔ بچہ جب انگوٹھا چوسنا بند کر دیتا ہے اورگھر یا محلے کے بچوں کے ساتھ کھیلنا شروع کر دیتا ہے  تو یہان سے ہی اس کی خواہشات کی ابتدا ہوتی ہے۔۔۔ ہر چمکیلی چیز کی طرف اس کے  قدم خود بخود بڑھنے لگتے ہیں، چاہے اس کے قدم اسے  انگاروں کی طرف ہی کیوں نہ لے جائیں۔۔۔ کسی بچے کے ہاتھ میںکھلونا دیکھ کراس کے دل میں کھلونے کی خواہش جنم لیتی ہے اور پھر قدم قدم اس کا قد سنٹی میٹروں میں بڑھتا جاتا ہے اور خواہشات کا سمندرمیلوں کے حساب سے پھیلتا جاتا ہے ۔۔۔۔۔۔یوں تو ہر انسان کی خواہش پوری نہیں ہوتی ہے لیکن دنیا میں ایسے بھی انسان ہیں جنہوں نے اپنی خواہشوں کو پورا کرنے کے لیے ہر جائز نا جائز طریقہ اپنانے کی کوشش کی ہے۔۔۔۔۔
میرے باپ کے دل  میں بھی بچپن سے ہی کئی خواہشوں نے جنم لیا تھا جو میری نظر میںبہت ہی زیادہ کمتر اورغیر انسانی تھیں، لیکن میرے داداکو  اپنے بیٹے کے ہر کام میں گُن ہی گُن نظر ٓاتے تھے۔۔۔۔  دادا کو ورثے میں بڑی جائیداد ملی تھی، لوگ کہتے ہیں (ہماری پیٹھ پیچھے) میرے پردادا نے ڈوگروں کی بڑی خدمت کی تھی،چوکیدار سے لیکر کلیکٹر تک سب کے ساتھ اس کا یارانہ تھا۔ دیوان کو بیگار کے لئے اپنے اور آس پڑوس کے گائوں سے ہٹے کٹے مگر بے بس اور بے سہارا نوجوانوں کی لسٹیں فراہم کرتا رہتا تھا، جس کے عوض  اس کو سرکار کی طرف سے کچھ زمین اور جائیداد مل گئی تھی،لیکن اپنی چاپلوسی او ر بے ایمانی کے علاوہ رشوت دے کراسے دس گنا  ذیادہ  زمین  و جائیداد  اپنے نام کرا دی۔۔۔اور یوں میرا دادا کو علاقے کا بڑا زمیندار’’ذیلدار‘‘ بن کے مرگیا۔۔۔۔ میرا دادا جو میرے باپ کو اپنا حقیقی وارث سمجھتا تھا ، اس کے  میرے باپ کے علاوہ اور بھی دو بیٹے اور دو بیٹیاں تھیں  ۔۔۔
بے گار کا  زمانہ  لد چکا تھا۔اب گائوں سے میں مفت کام والے مزدور نہیں ملتے تھے۔ چونکہ دادا کے پاس زمینیں کافی تھیں اور ان کی کاشت  کے لئے مزدور چاہئیں تھے تو دادا نے گائوں کے دو ہٹے کٹے جوانوں کو گھر داماد  بنا کر مسئلے کا  خوب حل نکال لیا تھا ۔وہ بڑے محنت کش تھے اور کوھلو کے بیلوں کی طرح کام کرتے تھے ۔۔ میر ے چاچا بھی کچھ چھوٹے موٹے کارو بار کے ساتھ منسلک تھے۔ لیکن میرے دادا کو ان سے کچھ خاص رغبت نہ تھی۔ اس کی ساری محبتیں میرے باپ پر نچھاور تھیں اور میرا باپ بھی  دادا سے کچھ کم نہ تھے ۔ دادا کو مسکہ مارنے اور اس کے سارے گُن سیکھنے میں وہ بڑا ماہر تھا۔دادا بھی  اپنے بیٹے کی چاپلوسی اور مکاری پر بڑا نازاں تھا  اور اِس کو اور زیادہ  عیار دیکھنے کا خواہش مند تھا۔۔۔ زمین و جائیداد بنانے کے گُر، دھوکہ دہی سے حاصل کے گئے ٹھیکے،  بڑے بڑے سیاست دانوں اور سرکاری افسروں کے ساتھ دوستی اوروقت پر آستیں کا سانپ بننا ،  یہ سب دادا اسے سکھا چکا تھا۔ آخردوسرے بیٹے بیٹیوں کو کچھ  خیرات دے کر  اپنا باقی سارا کارو بار، زمیں جائیداد کا حساب کتاب، پیسہ اور دوسری اہم دستاویزات میرے باپ کے نام کرکے وہ دوسری دنیا کو  چلا گیا اور یوں میرا باپ  اپنے بہن بھائیوں کی تقدیر کا ملک بن بیٹھا ۔۔۔ تب میرا باپ علاقے کا بڑا آدمی بن چکا تھا۔ سرکاری اور سیاسی درباروں میں اس کی پہنچ بہت زیادہ تھی۔ کسی بھی بڑے آفیسر کو بیک جنبش تبدیل کرانا اور من پسند شخص کو لانا اس کے بائیں ہاتھ کا کھیل تھا۔ ہر  نئے آفیسر کی Welcome party  یا پرانے آفیسر کے لئےfarewell  پارٹی کا انتظام ہمارے گھر میں ہی ہوتا تھا ۔۔۔
میرا ذہن اب سوچنے کے لائق ہو چکا تھا اور میں سوچ سکتا تھا کہ ظلم کیا ہے اور نا انصافی کیا ہے۔ میرے باپ کی وجہ سے جو ظلم میرے  چاچائوں اور میری پھوپھیوں پر ہوا تھا ، میں اس ظلم کے خلاف اکثر و بیشتر اپنی ماں کے سامنے احتجاج کرتا رہتا تھا۔۔۔ پر میری آوازسنی نہیں جاتی تھی۔۔۔ باپ کے سامنے زبان کھولنے کی ہمت نہیں تھی، اس لئے میرے ذہن و دل میں اس کے خلاف لاوا پکتا رہا۔  میرے  دل میں بار بار ایک ہی خواہش سر اُبھارتی تھی کہ کب میرا باپ مر جائے اور میں یہ ساری جائیداد اس کے اصل ورثا، تک پہنچا دوں، جن کی دن رات محنت اورمشقت سے میرا باپ اس وقت علاقے کا سب سے بڑا آدمی بنا بیٹھا تھا۔۔۔
جب میں نے جوانی میں قدم رکھا تو باپ کے خلاف  میرے ذہن میں جو  لاوا تھا وہ اب آتش فشان بن چکا تھا ۔۔۔ تعلیم کو خیرباد کہنے کے بعد میںنے بھی ٹھیکہ داری کا کام شروع کیا  تھا ۔  باپ کے کاروبار کی ساری ذمہ داری اب میرے کندھوں پر تھی،۔ کارو بار کا سارا حساب کتاب بھی میرے پاس ہی تھا ۔ٹھیکہ داری کے سارے گُن اب میں سمجھ چکا تھا، سیکھ چکا تھا ۔  میری شادی ایک بڑے گھرانے میں ہو چکی تھی ۔۔۔اور ایک دن سارے کاروبار کا بوجھ میرے کندھوں پر ڈال کر میرا باپ مجھ سے جدا ہوگیا۔۔۔  
اب مجھ  میں سنجیدگی آچکی تھی اور سامنے خواہشوں کا سمندر موجزن تھا ۔۔۔۔ خواہشوں کا سمندر میرے  باپ کے خلاف میرے ذہن  و دل میںدہکتے آتش فشان کو ٹھنڈا کر چکا تھا ۔۔۔  اب مجھے اپنے ارد گرد خوف بڑھتا ہوا محسوس ہونے لگا تھا ۔۔۔ خوف ،ایک انجانا سا خوف ۔۔۔۔۔ پھر ایک دن چھوٹے چھوٹے کاروبار اپنے بھائیوں کے نام کرکے میں نے اپنے سارے بڑے کاروبار سمیٹے اور اپنے بیوی بچوں کو لیکر شہر منتقل ہو گیا ۔۔۔۔۔  اب محبت، خلوص اور اقرباء پروری کا آتش فشاں خواہشوں کے سمندر میں ڈوب چکا  تھا ، اور ارد گرد کے  سارے خوف کو خواہش کا سمندر نگل چکا  تھا ۔۔۔۔۔ اب میرا نام ملک کے بڑے لوگوں میں شمار ہو تا تھا۔۔۔۔۔ 
 اسلا م آباد، اننت ناگ،کشمیر
فون نمبر9419734234