اُڑنے دو پرندوں کو ابھی شوخ ہوائوں میں
پھر لوٹ کے بچپن کے زمانے نہیں آتے
بلا شبہ دنیا میں ہر سال بیس نومبر کو یومِ اطفال یعنی بچوں کے عالمی دن کے طور پر منایا جاتا ہے۔ اس دن کی شروعات 1954 میں UNICEF یعنی یونائٹڈ نیشنس انٹرنیشنل چلڈرنس ایمرجنسی فینڈ نے عالمی یوم اطفال منا کر کی تھی اور اس دن کو انٹرنیشنل یونین فار چلڈرن ویلفیر کے تحت منایا گیا ۔یومِ اطفال کو بچوں کی عید بھی کہا جاتا ہے،اس دن کا مقصد بچوں کی اہمیت کو اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ بچوں کے حقوق کے بارے میں آگاہی کو عام کرنا ہے ۔بھارت میں یہ دن ہر سال 14 نومبر کو منایا جاتا ہے ۔اس کی وجہ یہ ہے کہ 14 نومبر بھارت کے پہلے وزیراعظم پنڈت جواہر لال نہرو کا یوم پیدائش ہے ۔بھارت کے یوم اطفال اور جواہر لعل نہرو کا براہ راست تعلق ہے کیونکہ جواہر لعل نہرو کو بچوں سے بے حد محبت تھی اور وہ بچوں کی بہبودی کے لیے کوشاں تھے۔ 1964 کو جب جواہر لعل نہرو کا انتقال ہوا تو اسی روز یہ فیصلہ لیا گیا کہ بھارت ہر سال جواہر لعل نہرو کی یوم پیدائش’’ یومِ اطفال‘‘ کے طور پر منایا جائے گااور تب سے یہ دن جوش وخروش کے ساتھ منایا جاتا ہے ۔اس دن بہادری کے کارنامے انجام دینے والے بچوں کو جواہر لعل نہرو سے موسوم "نہرو ایوارڈ" بھی دیا جاتا ہے۔ اس بات سے کسی کو انکار نہیں ہو سکتا کہ بچے کسی بھی ملک کا ایک اہم اثاثہ ہوتے ہیں ۔کسی بھی ملک کے بچے اگر تندرست، صحت مند، اور محفوظ ہونگے تو یقیناً اس ملک کا مستقبل صحت مند اور خوشحال ہو گا ۔بچے کسی بھی ملک کا مستقبل ہوتے ہیں۔دنیا کے مختلف ممالک میں مختلف تاریخوں پر یومِ اطفال کے دن منائے جاتے ہیں۔ تقاریب اور مجلسوں کا اہتمام کیا جاتا ہے جن میں مقررین بچوں کی اہمیت پر روشنی ڈالنے کے ساتھ ساتھ بچوں کو اُن کے حقوق سے متعلق آگاہی دلاتے ہیں۔ ہمارے ملک بھارت میں بھی یہ دن دھوم دھام سے منایا جاتا ہے ۔ یونیسف کی ایک رپورٹ کے مطابق صفر سے چھے سال تک کے دنیا کے بیس فیصد بچے بھارتی ہیں ۔اس سے بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ بھارت میں بچوں کی فلاح وبہبود کے لیے کس قدر سنجیدہ اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے کیونکہ بھارت کی آبادی کا ایک اچھا خاصا حصہ بچوں پر مشتمل ہے ۔حالانکہ قانون میں بچوں کے لیے مخصوص دفعات موجود ہیں جیسے کہ 14 سال تک کے بچوں کے لیے مفت تعلیم کو لازمی قرار دیا گیا ہے، 14 سال یا اس سے کم عمر کے بچوں سے مزدوری کروانے پر مکمل طور پر پابندی عائد کر دی گئ ہے ۔بچوں کے جسمانی، ذہنی، یا جنسی استحصال کو جرم قرار دیا گیا ہے ۔اسکولوں میں بچوں کے لیے مفت کتابیں، وردی اور مفت دوپہر کا کھانا فراہم کیا جا رہا ہے، اس ضمن میں قانون اپنا کام کر رہا ہے لیکن زمینی سطح پر حالات قدرے مختلف ہیں ۔بہت سارے لوگ ایسے ہیں جو مختلف کارخانوں ،ہوٹلوں،کھیتوں اور گھروں میں بچوں سے کام کروا رہے ہیں۔ بچوں کے ساتھ ظلم و زیادتی کر بچیوں کے ساتھ جنسی زیادتیوں کے معاملات سامنے آ رہے ہیں۔ افسوس تب ہوتا ہے جب بچوں کو پیدا ہونے سے پہلے ہی مار ڈالنے کے معاملے سامنے آتے ہیں، اُس ملک و قوم سے بچوں کی فلاح وبہبود کی امید کیسے کی جا سکتی ہے جس قوم اور ملک میں بچوں خاص کے بچیوں کو پیدا ہونے سے پہلے ہی مار ڈالا جائے ۔یونیسف کی ایک رپورٹ کے مطابق سن 2000 سے سن 2014 تک ایک کروڑ سے زیادہ حمل گرانے گئے، بھارت میں اگر چہ اسقاط حمل پر مکمل پابندی ہے اور اس عمل کے مرتکب لوگوں کو سزا بھی دی جارہی ہے جس وجہ سے اسقاط حمل کے معاملات میں کمی آئی ہے تاہم اس جرم کو روکنے میں ابھی تک مکمل کامیابی حاصل نہیں ہوئی ہے ۔دیکھا جائے تو ابھی تک بہت سارے بچے اسکولوں سے دور ہیں ۔یونیسف کی ایک اور رپورٹ کے مطابق 2006 میں بھارت کے 13 ملین بچے اسکول جانےسےمحروم تھے لیکن مختلف اقدامات سے یہ تعداد 2014 میں گھٹ کر 6 ملین تک پہنچ گئی ہے ،جس میں آئندہ مزید بہتری کی امید کی جا سکتی ہے۔لیکن 6 ملین بچوں کا اسکولوں سے باہر ہونا ایک تشویش ناک امر ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ ہر سال 14 نومبر کو یوم اطفال کے موقع پر حقوق الاطفال کی بات کی جاتی ہے ۔بچوں کا استحصال کرنے والوں کی متنبہ کیا جاتا ہے کہ وہ اس عمل سے باز رہیں ورنہ قانون کی مختلف دفعات کے تحت ان کے خلاف کاروائی کی جائے گی تاہم یہ سب کچھ اسی 14 نومبر تک ہی محدود رہ جاتا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ بچوں کے حقوق کے بارے میں عوامی بیداری مہم چلائی جائے اور گھر گھر یہ پیغام پہنچایا جائے کہ بچوں سے مزدوری نہ کروائی جائے، ان کے ساتھ برا سلوک نہ کیا جائے، بچوں کے تحفظ کے لیے جو قوانین موجود ہیں، نہ صرف والدین اور بچوں کو بلکہ عام لوگوں کو بھی اُن قوانین کی جانکاری دی جائے۔ اس ضمن میں ریڈیو، ٹی وی، مختلف اخبارات اور مختلف سوشل نیٹ ورکنگ سائٹس کا استعمال کیا جاسکتا ہے ۔ جب تک ہمارے بچوں کے ہاتھوں میں ہتھوڑے، برتن مانجنے کے برش اور دیگر آلات کے بجائے قلم اور کاغذ نہیں آتے تب تک ملک میں بچوں کی بہتری کی توقع کرنا بے سود ہوگا۔جو لوگ اپنے حقیر مقاصد کے لیے بچوں سے مزدوری کروا رہے ہیں، انہیں بھی یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ وہ زیادہ دیر تک خیر نہیں مناسکتے ہیں، ایک نہ ایک دن قانون کے ہاتھ ان تک ضرور پہنچیں گے اور انہیں اللہ کے حضور بھی جواب دہ ہونا ہوگا، اس ضمن میں سرکاری اور عوامی سطح پر بھی اقدامات اٹھانے کی اشد ضرورت ہے کیونکہ ایسے بھی بچے ہیں جو غربت اور قرضداری کی وجہ سے مزدوری کرنے پر مجبور ہیں۔ سرکاری سطح پر ایسے بچوں کی نشاندہی کر کے ان کی مدد کی جانی چاہئے تاکہ کوئی بھی بچہ مزدوری کرنے کے لیے مجبور نہ ہو اور کسی بھی بچے کا بچپن ضائع نہ ہو۔ فلاحی اداروں اور غیر سرکاری اداروں کو بھی اس ضمن میں آگے آنا چاہیے تاکہ ملک کا ہر بچہ تعلیم کے نور سے آراستہ ہو اور ہر سمت اُجالا ہی اُجالا ہو ۔یہ عمر بچوں کے پڑھنے اور کھیلنے کودنے کی ہوتی ہے مزدوری کرنے کی نہیں۔ بقولِ شاعر ؎
بھوک چہروں پہ لیے چاند سے پیارے بچے
بیچتے پھرتے ہیں گلیوں میں غبارے بچے
گھریلو اور اسکولی سطح پر بچوں کے کھیلنے کودنے کا انتظام کیا جانا چاہیے تاکہ یہ بچے جسمانی طور پر صحت مند رہ سکیں۔والدین اور اساتذہ پربڑی ذمّہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ بچوں کو اخلاقی تعلیم سے آراستہ کریں تاکہ ہمارا کل روشن ہو،بااخلاق بچے ہی دراصل قوم کا اصل سرمایہ ہیں ۔
آج کل معاشرے میں نشے کی وبا پھیلی ہوئی ہے، جس نے بچوں کو اپنی لپیٹ میں لپیٹ میں لیا ہے۔بہت سارے بچوں کو بچپن سے ہی نشے کی لت پڑ جاتی ہے جو پھر عمر بھر ان کا پیچھا نہیں چھوڑتی اور اس طرح سے ان بچوں کی زندگی تباہ و برباد ہوجاتی ہے ۔والدین اور اساتذہ کو نشہ آور چیزوں کے مضر اثرات سےبچوں کو آگاہ کرنا چاہیے اور بچوں کو بھی اس سے بچنے کی تلقین چاہیے کیونکہ بچوں کو اس عمر میں اپنے برے بھلے کی تمیز نہیں ہوتی۔آجکل کے ہمارے بچے اپنا زیادہ تر وقت موبائل فون پر صرف کرتے ہیں بلکہ اس عمل نے تو سنگین صورتحال اختیار کی ہے ماہرین کا ماننا ہے کہ سات سال تک کے بچوں کو موبائل فون دینا ان کے ہاتھوں میں کوئلہ رکھ دینے کے برابر بلکہ اس سے بھی خطرناک ہے ۔والدین اور اساتذہ پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ بچوں کو موبائل فونوں سے دور رکھنے کے لیے اقدامات اٹھائیں اور جو کسی مجبوری کے تحت استعمال کرتے ہیں ،اُن پر نظر رکھی جائے کہ وہ کس طرح کا مواد دیکھتے ہیں لیکن یہ کام بہت ہی مثبت انداز میں کرنے کی ضرورت ہے ۔کرونا وائرس کے دوران موبائل فونوں تک بچوں کی رسائی کچھ زیادہ ہی ہو گئی ہے، کہیں ایسا نہ ہو کہ تعلیم حاصل کرنے کے بجائے ہمارے بچے اخلاقی اقدارہی دھو بیٹھیں ۔نگاہ رکھنے کے عمل سے بچوں پر موبائل فون کے اثرات کو کم کیا جا سکتا ہے ۔والدین ،اساتذہ بلکہ پورے معاشرے کی ذمّہ داری بنتی ہے کہ وہ بچوں کی حوصلہ افزائی کریں ، حوصلہ افزائی سے ان کی شخصیت میں نکھار آ جاتا ہے اور بچے اپنی صلاحیتوں کو پہچان کر انہیں پروان چڑھانے کی سعی کر لیتے ہیں، حوصلہ شکنی سے بچوں کی شخصیت پر برا اثر پڑتا ہے اور وہ ضدی بن جاتے ہیں۔معاشرے کو اپنی پوری توجہ بچوں پر مرکوز کر لینی چاہیے، ان کے حقوق، فلاح وبہبود، تعمیر و ترقی، جسمانی نشونما کے ساتھ ساتھ ان کی اخلاقی تربیت پر بھی دھیان دیا جانا چاہیے ۔بچوں کو محض یوم اطفال کے دن ہی یاد نہیں رکھنا ہے بلکہ ہر پل اور ہر گھڑی ان کی طرف توجہ مرکوز ہونی چاہئے۔ جو بچے اسکولوں سے دور ہیں، انہیں اسکولوں کی طرف راغب کیا جانا چاہیے اور جن بچوں کا بچپن مزدوری اور سخت کاموں کی نذر ہوتا جارہا ہے، اُنہیں اس چنگل سے چھڑانا ہم سب کی اجتماعی ذمہ داری ہے، وجہ کچھ بھی ہو ہمیں بچوں کو ان کا بچپن واپس دلانے میں اپنا حق ادا کر لینا چاہیے ورنہ ہمارا ضمیر ہمیں تا عمر ملامت کرتا رہے گا۔ جس بچے کا بچپن ہماری آنکھوں کے سامنے لٹتا جارہا ہو، ہم اس بچے سے کیا امید کر سکتے ہیں کہ کل وہ اس معاشرے کا ہمدرد اور خیر خواہ ہوگا۔جو کچھ ہم آج ان بچوں کو دینگے، کل یہ بچے وہی سب کچھ سود سمیت لوٹا دیں گے۔ یوم اطفال ہمیں یہی یاد دلاتا ہے کہ جہاں کہیں بھی بچوں کے حقوق سلب ہورہے ہوں، ہمیں اس کے خلاف آواز اٹھانی چاہیے اور انہیں ان کا حق دلانے میں اپنا حق ادا کرنا چاہیے۔ اس معاشرے نے بہت سارے بچوں کے چہرے سے مسکراہٹ اور ہاتھوں سے کتابیں چھین لی ہیں۔ہمیں ان کے چہروں پر دوبارہ مسکراہٹ لانی کی کوشش کرنی چاہئے۔ بچوں سے گھروں میں رونق آجاتی ہے۔ ہمیں چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کی اس عطا کردہ نعمت اور رونق کی قدر کریں۔ قدر کی بہترين صورت یہی ہے کہ ہم بچوں کی اخلاقی تربیت کر کے انہیں قوم کے بہترین فرد بنانے میں اپنا کردار نبھائیں ۔
فقط مال و زَر دیوار و دَر اچھا نہیں لگتا
جہاں بچے نہیں ہوتے وہ گھر اچھا نہیں لگتا
رابطہ۔7006738436