یو این آئی
دبئی/وہ مکے باز جس کی دھاک سے بڑے بڑے سورما تھرتھراتے تھے ، جس نے رِنگ کے اندر 29 مقابلوں میں کبھی شکست کا ذائقہ نہیں چکھا، آج دبئی کی سرزمین پر ایک الگ ہی روپ میں نظر آیا۔ یو ایف سی کے سابق لائٹ ویٹ چیمپئن خبیب نورماگومیدوف نے انکشاف کیا ہے کہ ان کے نزدیک آج بھی دنیا کا نمبر ون کھیل مکسڈ مارشل آرٹس (MMA) نہیں، بلکہ فٹ بال ہے ۔ورلڈ اسپورٹس سمٹ میں گفتگو کرتے ہوئے 37 سالہ خبیب نے مسکراتے ہوئے کہا، “میرا بچپن کا خواب ایک فٹ بالر بننا تھا۔ میں مذاق میں کہتا ہوں کہ میں حادثاتی طور پر فائٹر بن گیا، لیکن میرے دل کی دھڑکنوں میں ہمیشہ فٹ بال ہی بسا رہا۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے والد، مرحوم عبدالمنان نورماگومیدوف کی سخت نظم و ضبط اور تربیت نے انہیں فائٹنگ کی راہ پر ڈالا اور وہ خوش ہیں کہ انہوں نے اپنے والد کے حکم کی تعمیل کی۔خبیب نے جدید فائٹنگ پروموشنز میں بڑھتی ہوئی ‘بدزبانی (Trash Talk) پر گہرے دکھ کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا،آج کل پروموشنز صرف بکواس کرنے والوں کو اہمیت دیتے ہیں، جبکہ وہ باصلاحیت فائٹرز جو صرف اپنا کام (لڑنا) جانتے ہیں، انہیں نظر انداز کر دیا جاتا ہے ۔ یہ کھیل ہے ، محض کاروبار نہیں۔”اپنے والد کی وفات کے بعد کوچنگ کی ذمہ داری سنبھالنے والے خبیب نے اعتراف کیا کہ کوچ بننا لڑنے سے کہیں زیادہ مشکل ہے ۔ “جب میرے شاگرد رِنگ میں ہوتے ہیں، تو میں پرسکون نہیں رہ سکتا۔ جب کوئی ان کا چہرہ یا بازو توڑنے کی کوشش کرتا ہے ، تو مجھے شدید تکلیف ہوتی ہے ۔ انہوں نے دلچسپ موازنہ کرتے ہوئے کہا کہ فٹ بالر میچ ہار کر بھی سیلفی لے سکتا ہے ، لیکن فائٹنگ میں جب کوئی آپ کو کچل دے ، تو آپ مسکرانے کے قابل نہیں رہتے ۔مداحوں کے لیے بری خبر یہ ہے کہ خبیب نے ایک بار پھر واضح کر دیا کہ ان کا واپسی کا کوئی ارادہ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ریٹائرمنٹ کا فیصلہ حتمی تھااور اب وہ اپنی جم میں دنیا کے بہترین فائٹرز کی تربیت کر کے ہی اپنے مقابلے کا شوق پورا کر لیتے ہیں۔ خبیب نورماگومیدوف نے ثابت کر دیا کہ ایک عظیم کھلاڑی صرف وہ نہیں جو میدان جیت لے ، بلکہ وہ ہے جو اپنے اصولوں اور اپنی جڑوں سے جڑا رہے ۔ رِنگ کا یہ “عقاب” (The Eagle) اب دوسروں کو اڑنا سکھا رہا ہے ۔