نئی دہلی//حکومت نے بچوں کی شرح اموات کو کم کرنے کی ترجیح کو دہرایا۔حکومت نے آج لوک سبھا میں کہا کہ حکومت قومی صحت مشن کے تحت بچوں کے لئے صحت پروگرام پر عمل درآمدگی کررہی ہے ۔ نوزائدہ بچے ،دوان حمل اور زچگی کے بعدپانچ سال سے کم عمر کے بچوں کی شرح اموات سے متعلق مسئلوں کو حل کرنا حکومت کا اہم مقصد ہے ۔مرکزی وزیر صحت ڈاکٹر ہرش وردھن نے وقفہ سوالات کے دوران ایک ضمنی سوال کے جواب میں یہ یقین دہانی کی۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ دہائی میں ملک میں پانچ سال سے کم عمر کے بچوں کی سال 2008 کے ریکارڈ کے مطابق پیدا ہونے والے فی ایک ہزار بچوں میں 69 بچے مردہ پیدا ہوتے تھے ،مردہ بچوں کی یہ تعداد 2017 میں کم ہوکر فی ایک ہزار بچوں کی پیدائش پر 37ہوگئی ہے ۔اس مدت میں قومی سطح پر نوزائدہ بچوں کی شرح اموات 53سے گھٹ کر 33ہوگئی ہے ۔انہوں نے کہا کہ سبھی ریاستوں میں گزشتہ ایک دہائی کے دوران پانچ سال سے کم عمر کے بچوں کی شرح اموات میں گراوٹ آئی ہے ۔اس کے علاوہ حکومت بچوں کی صحت کے قومی پروگرام (آر بی ایس کے )پر بھی عمل درآمدگی کررہی ہے جس کے تحت نوزائدہ اور بچوں کی صحت سے متعلق جانچ اور ان کی زندگی کو بچانے کے معیار میں بہتری لانے کے لئے پیدائش کے وقت پیشنیے مسئلوں،امراض،خامیوں اور بچوں کی بڑھت میں ہونے والی تاخیر کے لئے مفت سرجریسمیت ابتدائی علاج اور سہولیات اور کنبوں کے اخراجات میں کمی کرنا شامل ہے ۔مسٹر ہرش وردھن نے ایک دیگر ضمنی سوال کے جواب میں کہا کہ آیشمان بھارت -پردھانمنتری جن آروگئے یوجنا(ایس بی پی ایم جے اے وائی)کے تحت فائدہ لینے والے کنبوں کی کل تعداد تقریباً 10.74کروڑ ہے ۔اس منصوبے کے تحت ریاست اپنی لاگت پر اور کنبوں کو جوڑنے کے لئے آزاد ہے ۔ایس بی -پی ایم جے اے وائی کے تحت اب تک 16039 اسپتالوں کو پینل میں شامل کیاگیا ہے جن میں 8059 پرائیویٹ اسپتال اور 7980 سرکاری اسپتال ہیں۔