جاوید اقبال
مینڈھر // بنی شریف زیارت جانے والی مین روڈ کی خستہ حالی، مبینہ ناقص تعمیراتی کام اور نکاسی آب کے غیر مؤثر نظام کو لے کر مقامی عوام میں شدید ناراضگی پائی جا رہی ہے۔ عوام کا کہنا ہے کہ تقریباً ایک کلومیٹر سڑک کی تعمیر پر 1.79 کروڑ روپے خرچ کیے گئے، لیکن اس کے باوجود سڑک کی حالت انتہائی خراب ہے اور بارشوں کے دوران پانی کی نکاسی نہ ہونے کے باعث قریبی گھروں اور بنی شریف زیارت کو نقصان پہنچنے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔مقامی باشندوں کے مطابق سڑک کی تعمیر میں معیاری اصولوں کو نظر انداز کیا گیا جس کی وجہ سے چند ہی عرصے میں سڑک جگہ جگہ سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو گئی۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ بارش کے دنوں میں پانی سڑک پر جمع ہو جاتا ہے کیونکہ نکاسی آب کا مناسب انتظام نہیں کیا گیا، جس سے نہ صرف آمد و رفت متاثر ہوتی ہے بلکہ نزدیکی آبادیوں میں سیلاب جیسی صورتحال پیدا ہونے کا بھی اندیشہ رہتا ہے۔علاقہ مکینوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ اگر بروقت اصلاحی اقدامات نہ کیے گئے تو آنے والے مون سون سیزن میں صورتحال مزید سنگین ہو سکتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بنی شریف زیارت پر روزانہ بڑی تعداد میں زائرین آتے ہیں، لیکن سڑک کی خراب حالت اور ناقص ڈرینیج سسٹم ان کے لیے بھی مشکلات پیدا کر رہا ہے۔مقامی عوام نے الزام لگایا ہے کہ منصوبے میں مبینہ بدعنوانی یا لاپرواہی برتی گئی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پورے معاملے کی غیر جانبدارانہ جانچ کے لیے سی بی آئی انکوائری کروائی جائے تاکہ حقیقت سامنے آ سکے۔
ساتھ ہی عوام نے متعلقہ ٹھیکیدار اور ذمہ دار افسران کے خلاف سخت کارروائی کا بھی مطالبہ کیا۔اس دوران پیر جنید اشرفی نے کہاکہ سڑک کی ناقص تعمیر کے بارے میں کئی مرتبہ متعلقہ محکمہ اور ٹھیکیدار کو آگاہ کیا گیا، لیکن اس کے باوجود تعمیراتی معیار بہتر بنانے یا نکاسی آب کے مؤثر انتظام کے لیے کوئی سنجیدہ قدم نہیں اٹھایا گیا۔انہوں نے کہا کہ عوامی مفاد کے اس اہم منصوبے میں اگر واقعی بے ضابطگیاں ہوئی ہیں تو اس کی مکمل تحقیقات ہونی چاہیے تاکہ سرکاری فنڈز کے صحیح استعمال کو یقینی بنایا جا سکے۔پیر جنید اشرفی نے ڈپٹی کمشنر پونچھ، ایس ڈی ایم مینڈھر، ایل جی انتظامیہ، وزیر پی ڈبلیو ڈی اور دیگر متعلقہ حکام سے اپیل کی کہ وہ معاملے کا فوری نوٹس لیں، ناقص تعمیراتی کام کا جائزہ لیں اور عوام کو درپیش مشکلات کے ازالے کے لیے فوری اقدامات کریں۔مقامی عوام نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ سڑک کی تعمیر پر خرچ ہونے والے فنڈز، استعمال شدہ میٹریل اور نکاسی آب کے نظام کا شفاف آڈٹ کیا جائے، اور اگر کسی قسم کی غفلت یا بدعنوانی سامنے آئے تو ذمہ دار افراد کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ مستقبل میں اس طرح کے معاملات کو روکا جا سکے۔