عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر// اپنی پارٹی کے سربراہ سید محمد الطاف بخاری نے بدھ کے روز حکومت پر زور دیا کہ وہ “پہلگام میں گزشتہ برس ہونے والے ہولناک دہشت گردانہ حملے کے بعد بند کیے گئے تمام سیاحتی مقامات کو دوبارہ کھولے تاکہ اس کی وجہ سے متاثر ہورہے تاجروں اور مزدور طبقے کو راحت ملے۔ “انہوں نے کہا کہ “امن و استحکام کے حوالے سے جموں وکشمیر کے حالات میں کافی بہتری آئی ہے۔ اس کے پیش نظر حکومت کو چاہیے کہ استحکام کے ماحول کو مزید قوی بنانے کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے۔”انہوں نے مزید کہا کہ “معاشرے کے کئی طبقات، جن کا روزگار سیاحت سے وابستہ ہے، ان سیاحتی مقامات بشمول بائیسرن، پہلگام، دودھ پتھری، سونہ مرگ، یوسمرگ، کوکرناگ، ویری ناگ، روسی میدان اور دیگر مقامات کی مسلسل بندش کے باعث مشکلات کا شکار ہیں۔
دریں اثنا، اپنی پارٹی صدر نے عوام سے اپیل کی کہ وہ لیفٹیننٹ گورنر انتظامیہ کی جانب سے حال ہی میں شروع کی گئی جاری نشہ مکت مہم کی کامیابی کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کریں۔انہوں نے یہ باتیں کل سرینگر میں پارٹی ہیڈکوارٹر میں منعقدہ ایک تقریب کے دوران کہیں۔ اس تقریب کا اہتمام پارٹی میں شامل ہونے والے نئے افراد کا خیرمقدم کرنے کے لیے کیا گیا تھا۔پارٹی میں شامل ہونے والوں میں عارف سلطان، نذیر احمد بٹ، شوکت احمد میر، غلام محمد حجام، عبدالرشید وانی اور دیگر کئی اشخاص شامل ہیں۔ یہ تمام افراد لال چوک حلقہ کے شیوپورہ علاقے سے تعلق رکھتے ہیں۔اس موقع پر سید محمد الطاف بخاری کے علاوہ پارٹی کے جو سرکردہ رہنما موجود تھے، جن میں جنرل سیکریٹری رفیع احمد میر، صوبائی صدر کشمیر محمد اشرف میر، میڈیا ایڈوائزر فاروق اندرابی، ضلع صدر سرینگر محمد شفیع میر، نائب صدر سرینگر و حلقہ انچارج حبہ کدل جیلانی حمید کمار، محمد حنیف بٹ اور دیگر لیڈران شامل تھے۔