مینڈھر //سب ڈویژن مینڈھر کی سرحدی پنچایت بلنوئی میں ہر طرح کی بنیادی سہولیات کی قلت پائی جارہی ہے جس کی وجہ سے عام لوگوں کو کئی طرح کے مسائل کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔مقامی لوگوں نے بتایا کہ اس جدید دور میں بھی صفرلائن کے قریب آباد پنچایت میں مواصلاتی نظام کا کوئی بندوبست نہیں ہے جبکہ پانی و سڑکوں کا حالت بھی انتہائی خراب ہو چکا ہے لیکن مقامی و ضلع انتظامیہ کو اس سلسلہ میں جانکاری فراہم کرنے کے باوجود بھی ان کو بنیادی سہولیات فراہم ہی نہیں کی جارہی ہیں ۔مقامی معززین نے بتایا کہ موبائل نیٹ ورک کی عدم دستیابی کی وجہ سے لوگوں کو راشن لینے میں کئی طرح کے مسائل درپیش ہیں ۔انہوں نے بتایا کہ راشن دینے کیلئے ڈیلر بائیو میٹرک مشین لے کر پہلے ایک اونچی پہاڑی پر جاتا ہے جہاں پر موبائل نیٹ ورک آسانی سے دستیاب ہوتا ہے اور اس کے بعد لوگوں کے فنگر پرنٹ لینے کے بعد واپس آکر ان کو راشن فروخت کیا جارہا ہے ۔انہوں نے بتایا کہ گائوں میں مواصلاتی نظام نہ ہونے کی وجہ سے آج بھی لوگ بالخصوص طلباء انٹرنیٹ جیسی سہولیات سے محروم ہیں ۔پنچایتی اراکین نے بتایا کہ گائوں میں پانی کا کوئی بندوبست ہی نہیں ہے جبکہ جن سکیموں سے پانی سپلائی کیا جارہا تھا وہ ملازمین اور محکمہ کی لاپرواہی کی وجہ سے بند پڑی ہوئی ہیں جبکہ سڑک کناروں پر رہائش پذیر لوگوں کو فوج کی ایک گاڑی پینے کا صاف پانی سپلائی کرتے ہے تاہم دیہات میں لوگوں کو کئی کلومیٹر کی پیدل مسافت طے کر کے پینے کا صاف پانی لانا پڑتا ہے ۔اس کے علاقہ میں گائوں میں جانے والی رابطہ سڑک پوری طرح سے کھڈوں میں تبدیل ہوئی ہے جبکہ ان مسائل کے بارے میں ضلع انتظامیہ کے پاس بھی شکایت درج کروائی گئی ہیں لیکن ابھی تک اس سلسلہ میں کوئی عملی اقدامات نہیں اٹھا ئے جارہے ہیں ۔مقامی لوگوں نے جموں وکشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر سے مانگ کرتے ہوئے کہاکہ سرحدی گائوں میں بنیادی سہولیات فراہم کرنے کیلئے عملی اقدامات اٹھائے جائیں ۔