درخت گرنے سے خاتون لقمہ اجل ،گلمرگ میں گاڑی کو نقصان
سرینگر//پچھلے دو دنوں سے کشمیر میں شام کے اوقات میں کئی علاقوں میں تیز ہوائیں، تیز بارش اور ژالہ باری نے جنوبی، وسطی اور شمالی کشمیر کے کئی علاقوں متاثر کیا، جس سے زراعت اور باغبانی کے شعبوں کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔ کئی اضلاع میں پھل بالخصوص سیب ،گیلاس اور سبزیوں کو نقصان پہنچا ہے۔ادھر اننت ناگ کے مٹن علاقے کے کھلچھوہر علاقے میں تیز آندھی کے دوران اخروٹ کا ایک درخت گرنے سے ایک معمر خاتون کی موت واقع ہو گئی۔70 سالہ خاتون اپنے گھر کے نزدیک موجود تھیں کہ اسی دوران تیز ہواؤں کے باعث اچانک اخروٹ کا درخت گر پڑا، جس کی زد میں آکر وہ شدید زخمی ہو گئیں۔ خاتون کو فوری طور پر علاج کے لیے ہسپتال منتقل کیا گیا تاہم وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ دیں۔ متوفیہ میرپورہ کھلچھوہر مٹن کی رہنے والی تھیں۔
پولیس نے واقعے کا نوٹس لے کر مزید تحقیقات شروع کردی ہیں۔اس دوران سیاحتی مقام گلمرگ اور بابا ریشی گلمرگ روڑ پر تیز ہوائیں چلنے سے چار درخت گرگئے جس سے ایک تویرا گاڑی کو نقصان ہوا جبکہ ایک درجن بھیڑ بھی درخت کی زد میں آکر ہلاک ہوگئے ۔ ھالینڈس پارک اور کوئلے گرین ہوٹل کے نزدیک درخت گرگئے ہیں ۔بابا ریشی گلمرگ روڈ پر ایک درخت تویرا گاڈی زیر نمبر Jko1L8431 پر گر گیا جسے گاڈی کو نقصان پہنچ گیا تاہم اس میں سوار مسافر معجزاتی طور بچ گئے ھے۔ادھرجمعرات کو سونمرگ کے مچھلی تالاب کے علاقے میں تیز ہواؤں کی زد میں آکر ایک شخص زخمی ہوگیا۔زخمی شخص کی شناخت صفا پورہ کے رہنے والے محمد سلطان کے طور پر ہوئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق، وہ شدید تیز ہواؤں کے درمیان ٹکرانے کے بعد زخمی ہوا تھا جو علاقے میں پھیلی تھی۔ان واقعات نے لوگوں اور خاص کر کسانوں میں تشویش کو جنم دیا ہے کیونکہ تیز ہوائیں اور غیر مستحکم موسمی حالات کشمیر کے کئی حصوں کو متاثر کرتے رہتے ہیں۔وادی کشمیر میں گذشتہ کئی ہفتوں سے موسمیاتی تبدیلیاں مسلسل جاری ہیں۔ خاص طور پر دوپہر کے بعد موسم اچانک کروٹ بدل دیتا ہے، جس دوران تیز ہوائیں، ژالہ باری اور ہلکی بارشیں معمول بن چکی ہیں۔ غیر متوقع موسمی صورت حال کے باعث نہ صرف زرعی اور باغبانی شعبوں کو نقصان پہنچ رہا ہے بلکہ املاک اور انسانی جانوں کو بھی خطرات لاحق ہو رہے ہیں۔حالیہ دنوں میں مختلف علاقوں سے درخت گرنے، فصلوں کو نقصان پہنچنے اور مکانات و دکانوں کی چھتیں اڑنے کے واقعات بھی رپورٹ ہوئے ہیں، جس کے باعث عوام میں تشویش پائی جا رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق بدلتے موسمی رجحانات اور غیر مستحکم فضائی حالات کے سبب وادی میں موسمی خطرات میں اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔عوام نے انتظامیہ سے اپیل کی ہے کہ حساس علاقوں میں حفاظتی اقدامات کو یقینی بنایا جائے اور خراب موسم کے دوران احتیاطی ہدایات جاری کی جائیں تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔