یو این آئی
لکھنؤ/انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) 2026 میں مسلسل پانچویں شکست کے بعد لکھنؤ سپر جائنٹس کے کپتان رشبھ پنت نے ٹیم کی کارکردگی پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب وقت آگیا ہے کہ کھلاڑی اپنی ذمہ داریوں کا احساس کریں اور ٹیم کو ایک مختصر وقفے کی ضرورت ہے ۔کولکتہ نائٹ رائڈرز کے خلاف اتوار کو کھیلے گئے سنسنی خیز مقابلے میں، جو سپر اوور تک جا پہنچا، لکھنؤ کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔
میچ کے بعد گفتگو کرتے ہوئے پنت نے کہا”ہمیں یقینی طور پر ایک بریک چاہیے تاکہ ہم خود کو تروتازہ کر سکیں۔ دباؤ تو ہمیشہ رہے گا، لیکن ہمیں حل باہر تلاش کرنے کے بجائے اپنے اندر ڈھونڈنے ہوں گے ۔ یہ کسی ایک یا دو کھلاڑیوں کی بات نہیں، پوری ٹیم کو مل کر ذمہ داری اٹھانی ہوگی۔”ٹیم کے لیے سب سے بڑی تشویش ویسٹ انڈین بلے باز نکولس پورن کی فارم ہے ، جنہوں نے اب تک صرف 10.25 کی اوسط سے 82 رنز بنائے ہیں۔ سپر اوور میں انہیں بھیجنے کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے پنت نے کہا ہو سکتا ہے نکولس (نیکی پی) اپنی بہترین فارم میں نہ ہوں، لیکن مشکل وقت میں آپ ک اپنے اہم کھلاڑی پر بھروسہ کرنا پڑتا ہے ۔وہ ایک بڑے کھلاڑی ہیں اور مجھے یقین ہے کہ وہ جلد ہی شاندار واپسی کریں گے ۔یاد رہے کہ سپر اوور میں پورن پہلی ہی گیند پر بولڈ ہو گئے تھے اور پوری ٹیم محض تین گیندوں پر ڈھیر ہو گئی تھی۔میچ کا آخری اوور لیگ اسپنر راٹھی کو دینے کے سوال پر کپتان نے وضاحت کی کہ وہ وکٹ کی تلاش میں تھے ۔”کبھی کبھی آپ کو وکٹ لینے کے لیے جوا کھیلنا پڑتا ہے ۔ میدان پر جب بہت سے لوگ اپنی رائے دیتے ہیں تو فیصلہ کرنا مشکل ہو جاتا ہے ، لیکن میری سوچ واضح تھی کہ وکٹ حاصل کر کے میچ کا رخ موڑا جائے ۔ بدقسمتی سے ہمیں وکٹ نہیں مل سکی۔”لکھنؤ سپر جائنٹس کے مداح اب امید کر رہے ہیں کہ اس مختصر وقفے کے بعد ٹیم نئی توانائی کے ساتھ میدان میں اترے گی اور اپنی شکستوں کے تسلسل کو توڑنے میں کامیاب ہوگی۔