سرینگر //برڈ فلو سے نپٹنے کیلئے احتیاطی تدابیر اٹھاتے ہوئے محکمہ انیمل ہسبنڈی نے10اضلاع میں 83صریح الحرکت( ریپڈ ایکشن ) ٹیمیں تعینات کی ہیں جو کوئوں اور مہاجر پرندوںسے نمونے حاصل کر کے انہیں جانچ کیلئے روانہ کر رہے ہیں ۔حکام کا کہنا ہے کہ ابھی تک 6 اضلاع میں کوئوں اور مہاجر پرندوں میں برڈ فلو کی تصدیق ہو چکی ہے اور حال ہی میں سوپور سے حاصل کئے گئے کوئوں کے ٹیسٹ مثبت آئے ہیں اور اس کے ساتھ ہی 6اضلاع میں برڈ فلو کی تصدیق ہو چکی ہے ۔محکمہ اینمل ہسبنڈی کے ڈائریکٹر پرنیما متل نے کشمیر عظمیٰ کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہاکہ ہمیں جہاں کہیں سے کوئوں اور مہاجر پرندوں کے مرنے کی اطلاع ملتی ہے، تو ٹیمیں وہاں پہنچ کر ان کے نمونے حاصل کر کے ان کو ابتدائی جانچ کیلئے پہلے تشخصی سنٹر زکورہ سرینگر پھر وہاں سے جالندھر اور بھوپال روانہ کرتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ہم یہ نہیں بتا سکتے کہ ابھی تک کتنے نمونے حاصل کئے جا چکے ہیں، کیونکہ یہ روز کا کام نہیں ہے بلکہ جہاں کہیں سے اس طرح کی اطلاعات ملتی ہیں، محکمہ کی ٹیمیں وہاں پہنچ کر نمونے حاصل کرتی ہیں ۔ ڈائریکٹر نے مزید بتایا کہ گذشتہ روز سوپور سے ایک کوئے کا ٹیسٹ مثبت آیا ہے اور اس طرح 6اضلاع کولگام ، اننت ناگ، پلوامہ ،سرینگر, بڈگام اور بارہمولہ میں کوئوں اور مہاجر پرندوں میں برڈ فلو کی تصدیق ہوئی ہے۔انہوں نے کہا کہ ابھی تک پولٹری میں ایسی کوئی بھی شکایت نہیں ہے ۔ادھر ٹنگڈار کے سلمان اور نہچیاں گائوں میں کوئوں کی ہلاکت کی خبر ملنے کے بعد محکمہ کے مقامی افسران نے ان کے نمونے حاصل کئے اور مردہ کوئوں کو جلا کر ان کو زمین میں دفن کیا گیا ۔بلاک ویٹرنری افسر ٹنگڈار ڈاکٹر نصیر نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ انہیں صبح نہچیاں اور سلمان گائوں سے کوئوں کے مرنے کی کچھ اطلاعات ہوئی تھیں تاہم انہوں نے جائے موقع پر پہنچ کر ان کے نمونے حاصل کئے اور بعد میں ان کو جلا کر دفن کر دیا گیا ۔انہوں نے کہا کہ ابھی تک یہ نہیں بتایا جا سکتا کہ ان میں فلو کی بیماری تھی ،تاہم انہوں نے کہا کہ ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ یہ سردیوں کی وجہ سے ہلاک ہوئے ہوں ۔محکمہ وٹنری کے ڈپٹی ڈائریکٹر پولٹری مشتاق احمد شاہ نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ ابھی تک پولٹری میں اس قسم کی کوئی بیماری نہیں ہے البتہ محکمہ کی ٹیمیں نمونوں کو حاصل کرنے میں لگی ہوئی ہیں ۔