اشرف چراغ
کپوارہ// گزشتہ سال پہلگام حملے کے بعد جہا ں وادی کشمیر میں اہم سیاحتی مقامات کوسیاحتی سرگرمیو ں کے لئے بند کر دیا گیا وہیں شمالی ضلع کپوارہ کی معروف سیا حتی مقام وادی بنگس کو سیلانیو ںکے لئے بند کر دیا گیا ۔اب جبکہ پوری وادی میں امن کی فضا ہے اور ا س بیچ بندپڑی سیاحتی مقام وادی بنگس کو فوری طور پر دو بافرہ کھولنے کا مطالبہ طول پکڑ رہا ہے ۔مقامی آباد کا ماننا ہے کہ اس بندش سے مقامی تاجرو ں ،سیاحت سے جڑے نوجوانو ں اور خاص طور مقامی معیشت اور سیا حت کو شدید نقصان پہنچا ہے ۔وادی بنگس ضلع کپوارہ کی ایک معروف اور خوبصورت سیا حتی مقام ہے ۔یہ وادی برف پوش پہا ڑ وں سے گھری ہوئی ہے اور یہا ں دمکتے پہا ڑ اور شفاف پانی دراصل فطرت کے ان حسین اور دلکش مناظر کی عکاسی ہیں جو دنیا کو جنت کا روپ دیتے ہیں ۔وادی بنگس میں بہتا ہوا پانی اور صاف و شفاف ندیا ں ذہن و دل کو ایک نا قابل بیا ں سکون بخشتی ہیں ۔
مقامی لوگو ں کے مطابق شمس بری پہا ڑ کی گود میں وادی بنگس کئی سالو ں سے سیلانیو ں کی پسند دید جگہ مانی جاتی تھی ۔اس وادی میں بہتی ندیاں ،صاف پانی اور دل کو سکون دینا والا منظر ایک یاد گار بن جاتی ہے ۔دو سال قبل جمو ں و کشمیر کے لفٹنٹ گورنر منوج سنہا نے اس وادی کا دور ہ کیا اور ا نہو ں نے واشگاف لفظوں میں اعلان کیا کہ تشدد پر امن حاوی ہو گیا اور آج وادی بنگس ایک مشہور سیا حتی مقام ابھر کر سامنے آگیا اور یہاں کے لوگو ں نے منوج سنہا کے دورے کو ایک تاریخی دورہ قرار دیا ۔منوج سنہا کے دورے کے بعد مقامی اور غیر مقامی سیلانیو ں نے وادی بنگس کی بلا خوف سیر کی ۔وادی بنگس میں اگرچہ ابھی بھی سیلانیو ں کی سہولیات کا فقدان ہے ۔وادی بنگس کو یہ مقام بھی حاصل ہے کہ گرمیو ں میں جمو ں و کشمیر کے خانہ بدوش بکروال چند مہینو ں کے لئے اپنے مال مو یشی سمیت یہا ں آتے ہیں ۔حالیہ برسو ں میں امن کی بحالی اور حکومت ہند و جمو ں و کشمیر انتظامیہ کی جانب سے سیاحت کو فرو غ کے اقدامات کے بعد بنگس وادی کی ماضی کی ویرانی آہستہ آہستہ ختم ہو گئی اور سیا حوں نے با ضابطہ طور اجات حاصل کر کے اس وادی کی سیر کی ۔یہاں کے مقامی نوجوانو ں کا کہنا ہے کہ بنگس وادی کے گیٹ وے درنگیاری سے لیکر وادی بنگس تک جگہ جگہ مقامی نوجوان اپنی چھو ٹی چھو ٹی دکانیں سجا کر اپنا روز گار کماتے تھے تاہم ایک سال سے بندش کی وجہ سے ان کا روز گار کا فی متا ثر ہوا ہے ۔یہا ں کے لوگو ں کے ساتھ ساتھ دیگر اضلاع اور ریاستو ں سے آئے ہوئے سیلانیوں نے سرکار سے مطالبہ کیا کہ واددی بنگس کو دو بارہ سیللانیو ں کے لئے کھول دیا جائے تاکہ وہ اس دلفریب وادی کے قدرتی حسن کا لطف اٹھائیں گے ۔