سرینگر// نیشنل کانفرنس کے رکن پارلیمان برائے جنوبی کشمیر جسٹس (ر) حسنین مسعودی نے کہا ہے کہ اکتوبر میں ہونے والی قبل از وقت برف باری کے بعد مالکانِ باغات کو مناسب معاوضہ فراہم کرنے میں موجودہ انتظامیہ کی نااہلی نے پھل اُگانے والوں کو زبردست مالی پریشانی کے بھنور میں ڈال دیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس بے وقت برفباری سے جنوبی کشمیر میں بہت زیادہ نقصان ہوا اور کولگام، دمحال ہانجی پورہ، ہوم شالی بُگ اور دیوسر سب سے زیادہ متاثرہوئے ہیں۔ ایک بیان میںکے مطابق ان باتوں کا اظہار انہوں نے ژولگام کولگام میں پارٹی لیڈران اور عہدیداران کے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس کے دوران پارٹی لیڈران نے رکن پارلیمان کو اپنے اپنے علاقوں میں بجلی کی بدترین سپلائی پوزیشن اور پینے کے پانی کی قلت کی صورتحال سے واقف کروایا۔ مالکانِ باغات کی حالات زار بیان کرتے ہوئے پارٹی لیڈران حکومت کی طرف سے اعلان کردہ معاوضے کو ناکافی قرار دیا اور کہا کہ متاثرین کے باغات کو تقریباً 80فیصد نقصان پہنچا ہے اور اعلان کردہ معاوضہ زخموں پر نمک پاشی کے مترادف ہوگا۔ اس کے علاوہ رکن پارلیمان کو ضلع میں تعمیر و ترقی کے کام ٹھپ ہونے کے بارے میں بھی آگہی دلائی گئی۔ رکن پارلیمان حسنین مسعودی نے اجلاس کے شرکاء کو یقین دہانی کرائی وہ تمام مسائل متعلقہ حکام کیساتھ اٹھائیں گے اور ان کا سدباب کرانے کی حق ممکن کوشش کی جائے گی۔