سمت بھارگو
راجوری//اسٹریٹجک اہمیت کی حامل مغل روڈ کو موسمِ سرما کے عین وسط میں بحال کرنے کے بارڈر روڈز آرگنائزیشن (BRO) کے فیصلے کی اب باضابطہ تصدیق وزارتِ دفاع کی جانب سے بھی کر دی گئی ہے۔ وزارت نے کہا ہے کہ بی آر او کا عملہ اور مشینری 8 سے 10 فٹ تک جمی برف کو ہٹا کر اس اہم شاہراہ پر ٹریفک کی بحالی کیلئے دن رات کام کر رہے ہیں۔واضح رہے کہ حال ہی میں اس پیش رفت کی خبر سامنے آئی تھی کہ بی آر او نے پہلی بار سردیوں کے دوران مغل روڈ کو کھولنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ سڑک جموں صوبے کو وادی کشمیر سے جوڑنے والی ایک اہم متبادل شاہراہ ہے، خاص طور پر اس وقت جب جموں-سری نگر قومی شاہراہ کسی بھی وجہ سے متاثر ہو۔
مغل دور سے تاریخی حیثیت رکھنے والی یہ شاہراہ اب نئے منظور شدہ نیشنل ہائی وے 701-A کا حصہ ہے۔ اس سڑک کا انتظام اب بارڈر روڈز آرگنائزیشن کے پاس ہے جبکہ مرکزی وزارتِ سڑک ٹرانسپورٹ و شاہراہیں اس راستے کو ہمہ موسمی بنانے کے لئے سرنگ کی تعمیر کا ایک بڑا منصوبہ بھی منظور کر چکی ہے۔ماضی میں شدید برفباری کے باعث یہ سڑک سردیوں میں مکمل طور پر بند رہتی تھی۔ حالیہ تازہ برفباری کے بعد بھی گزشتہ دس دنوں سے گاڑیوں کی آمد و رفت معطل تھی اور مقامی لوگوں کو توقع تھی کہ سڑک حسبِ روایت اپریل یا مئی میں گرمیوں کے آغاز کے ساتھ ہی کھولی جائے گی تاہم بی آر او نے سخت موسمی حالات، برفانی تودوں کے خطرات اور پھسلن بھری سطح کے باوجود مڈ وِنٹر میں ہی سڑک کھولنے کا فیصلہ کر کے ایک نئی مثال قائم کی ہے۔ہفتہ کے روز وزارتِ دفاع کے دفتر برائے دفاعی ترجمان جموںنے ایک سرکاری بیان جاری کرتے ہوئے اس پیش رفت کی تصدیق کی۔
بیان میں کہا گیاکہ ’’بی آر او چیلنجنگ موسم اور دشوار گزار پہاڑی علاقے کے باوجود این ایچ 701-A (مغل روڈ) کو پیر کی گلی کے راستے پونچھ سے سری نگر تک جوڑنے کے لئے سرگرم عمل ہے‘۔بیان میں مزید بتایا گیا کہ بی آر او کے پروجیکٹ ’سمپرک‘ سے وابستہ عملہ اور بھاری مشینری 8 سے 10 فٹ تک جمی برف کو ہٹا کر سردیوں کے دوران ہی رابطہ بحال کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔مقامی آبادی نے اس فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ اگر مغل روڈ سردیوں میں بھی کھلی رہے تو اس علاقے کی تقدیر بدل سکتی ہے۔ راجوری سے تعلق رکھنے والے آزاد راحت نے کہا کہ اس سڑک پر ہونے والی بھاری برفباری ہمیشہ سیاحوں کے لیے کشش رکھتی ہے، مگر سڑک کی بندش کے باعث یہ قدرتی حسن سیاحتی فائدے میں تبدیل نہیں ہو پاتا تھا۔انہوں نے مزید کہا کہ اگر برف سے ڈھکے پہاڑوں کے درمیان یہ شاہراہ سردیوں میں بھی کھلی رہی تو سیاحوں کی ایک نئی لہر یہاں کا رخ کرے گی، جس سے مقامی معیشت، ہوٹل انڈسٹری اور ٹرانسپورٹ سیکٹر کو بڑا فائدہ ہوگا۔علاقے کے لوگوں کا ماننا ہے کہ مغل روڈ کی مڈ وِنٹر بحالی نہ صرف سفری سہولت فراہم کرے گی بلکہ خطے کی سیاحت اور معاشی سرگرمیوں کے فروغ میں بھی اہم کردار ادا کرے گی۔