معراج وانی
اللہ تعالیٰ نے انسان کو بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے۔ ان میں بعض نعمتیں ظاہری ہیں، جیسے صحت، مال اور اولاد اور بعض باطنی، جیسے ایمان، عقل، حلم، صبر اور برداشت۔ ان ہی باطنی نعمتوں میں ایک عظیم نعمت برداشت ہے، جو انسان کو نہ صرف دوسروں کے دلوں میں عزت عطا کرتی ہے بلکہ اسے دنیا و آخرت کی کامیابی سے بھی ہمکنار کرتی ہے۔ برداشت وہ خوبی ہے جو غصے کو حکمت میں، اختلاف کو محبت میں، اور دشمنی کو دوستی میں بدلنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔قرآن مجید نے متعدد مقامات پر برداشت، عفو و درگزر اور حسنِ اخلاق کی تعلیم دی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:’’اور نیکی اور برائی برابر نہیں ہوسکتیں۔ برائی کو اس بھلائی سے دفع کرو جو بہترین ہو، پھر وہ شخص جس کے اور تمہارے درمیان دشمنی تھی، گویا وہ تمہارا گہرا دوست بن جائے گا۔‘‘ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا:’’جو لوگ غصے کو پی جاتے ہیں اور لوگوں کو معاف کر دیتے ہیں، اور اللہ نیکی کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔‘‘یہ آیات اس حقیقت کو واضح کرتی ہیں کہ برداشت کمزوری نہیں بلکہ ایمان کی پختگی اور کردار کی بلندی کی علامت ہے۔رسول اللہؐ کی پوری زندگی برداشت اور حلم کا روشن نمونہ ہے۔ صحیح حدیث میں آپؐ نے فرمایا:’’طاقتور وہ نہیں جو کشتی میں دوسرے کو پچھاڑ دے، بلکہ طاقتور وہ ہے جو غصے کے وقت اپنے نفس پر قابو رکھے۔‘‘
ایک اور حدیث میں فرمایا:’’جو شخص لوگوں پر رحم نہیں کرتا، اللہ اس پر رحم نہیں کرتا۔‘‘
رسول اکرم ؐ نے مکہ کے تیرہ سالہ مظالم برداشت کیے، طائف میں پتھر کھائے، مگر بددعا کے بجائے ان کی ہدایت کی دعا فرمائی۔ فتح مکہ کے دن، جب بدلہ لینے کا پورا اختیار حاصل تھا، تو آپؐ نے فرمایا: ’’آج تم پر کوئی گرفت نہیں، جاؤ تم سب آزاد ہو۔‘‘ یہی برداشت انسانیت کی تاریخ کا بے مثال واقعہ ہے۔
دنیا کے عظیم مفکرین اور رہنماؤں نے بھی برداشت کو عظمت کی بنیاد قرار دیا ہے۔
حضرت علیؓ نے فرمایا: ’’برداشت سے بڑھ کر کوئی لشکر نہیں، اور حلم سے بہتر کوئی ساتھی نہیں۔‘‘حضرت عمر بن خطابؓ کا قول ہے: ’’حلم اور برداشت سے بڑھ کر انسان کو کوئی زینت حاصل نہیں۔‘‘ مہاتما گاندھی جی نے کہا: ’’کمزور کبھی معاف نہیں کرسکتا، معاف کرنا طاقتور کا وصف ہے۔‘‘نیلسن منڈیلا نے کہا: ’’نفرت کو ساتھ لے کر چلنا ایسا ہے جیسے زہر خود پی کر دوسرے کے مرنے کا انتظار کرنا۔‘‘
برداشت دراصل انسان کے اپنے ہی سکون کا راستہ ہے۔ جو شخص ہر بات پر غصہ کرتا ہے، ہر اختلاف کو انا کا مسئلہ بنا لیتا ہے اور ہر تلخ جملے کا جواب تلخ الفاظ سے دیتا ہے، وہ اپنی زندگی کو خود عذاب بنا لیتا ہے۔ اس کے برعکس برداشت کرنے والا انسان ذہنی سکون، قلبی اطمینان اور مضبوط تعلقات کا مالک بن جاتا ہے۔ وہ بہت سے جھگڑوں، دشمنیوں اور پچھتاووں سے بچ جاتا ہے۔گھر کا ماحول برداشت سے جنت کا نمونہ بن سکتا ہے۔ میاں بیوی اگر ایک دوسرے کی غلطیوں کو برداشت کریں، والدین اولاد کی کمزوریوں پر حکمت سے کام لیں اور بہن بھائی ایک دوسرے کے مزاج کو سمجھنے کی کوشش کریں تو محبت خود بخود بڑھتی ہے۔ اکثر گھر بڑی غلطیوں سے نہیں بلکہ چھوٹی چھوٹی باتوں پر عدم برداشت کی وجہ سے ٹوٹتے ہیں۔
معاشرے کی تعمیر بھی برداشت کے بغیر ممکن نہیں۔ مختلف خیالات، مذاہب، زبانوں اور مزاج رکھنے والے لوگ جب ایک دوسرے کو سننا، سمجھنا اور برداشت کرنا سیکھ لیتے ہیں تو امن، محبت اور ترقی کا ماحول پیدا ہوتا ہے۔ لیکن جہاں برداشت ختم ہوجائے، وہاں نفرت، انتقام، تشدد اور تقسیم جنم لیتی ہے۔برداشت کا مطلب ہر ظلم پر خاموش رہنا نہیں، بلکہ جذبات کے بجائے حکمت کے ساتھ صحیح وقت پر صحیح انداز میں ردِعمل دینا ہے۔ اسلام ظلم کے خلاف آواز بلند کرنے کی تعلیم دیتا ہے، مگر اس کے ساتھ اخلاق، عدل اور اعتدال کا دامن بھی ہاتھ سے نہیں چھوڑنے دیتا۔
آج ہماری انفرادی اور اجتماعی زندگی میں برداشت کی شدید ضرورت ہے۔ سوشل میڈیا کی تلخ گفتگو، معمولی اختلافات پر رشتوں کا ٹوٹ جانا، سیاسی اور مذہبی تعصب، اور گھریلو ناچاقیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ ہم نے برداشت جیسی عظیم نعمت کی قدر کم کر دی ہے۔ اگر ہر شخص صرف اتنا طے کر لے کہ وہ دوسروں کی بات تحمل سے سنے گا، غصے میں فیصلہ نہیں کرے گا، اور معاف کرنے کی عادت اپنائے گا تو بے شمار مسائل خود بخود ختم ہو جائیں گے۔آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ برداشت کمزوری نہیں بلکہ بلند کردار انسانوں کی پہچان ہے۔ یہ دلوں کو جوڑتی ہے، نفرتوں کو مٹاتی ہے، خاندانوں کو بچاتی ہے، معاشروں کو سنوارتی ہے اور انسان کو اللہ کے قریب لے جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں حلم، صبر اور برداشت جیسی عظیم نعمت سے ہمیشہ مالامال فرمائے، تاکہ ہماری زندگی محبت، سکون اور خیر کا نمونہ بن جائے۔ آمین
[email protected]