لندن/یہ پچاس اور ساٹھ کی دہائیوں کا زمانہ تھا جب روسی سفارتخانے کی گاڑی، جسے چلتا پھرتا سنیما گھر کہا جاتا تھا، ہر دوسرے مہینے لیاری کے علاقے میں آتی۔ اس گاڑی کے ساتھ سفارتخانے کے ثقافتی شعبے کے لوگ بھی ہوا کرتے تھے۔گاڑی میں پروجیکٹر، سکرین اور فٹبال میچوں کی فلمیں ہوا کرتی تھیں جو خاص طور پر لیاری کے فٹبال شیدائیوں کو دکھانے کے لیے ہوتی تھیں۔ان میچوں کی فلمیں دیکھنے والوں میں لیاری کے فٹبال کلب سیفی سپورٹس کے ایک نوجوان کھلاڑی نادر شاہ عادل بھی ہوا کرتے تھے جو اب ایک سینئر صحافی ہیں۔نادر شاہ عادل بتاتے ہیں:لیاری والوں نے ہمیشہ سیاہ فام لوگوں سے محبت کی ہے، چاہے وہ ہالی وڈ کے اداکار ہوں، فٹبالرز یا پھر ویسٹ انڈین کرکٹر۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ لیاری والوں کی جڑیں نسل در نسل مشرقی افریقہ سے جا ملتی ہیں۔‘لیاری کے لوگوں نے ہمیشہ پیلے اور برازیلین ٹیم کو ایک مثالی ٹیم سمجھا اور یہی وجہ ہے کہ ہر چار سال بعد ہونے والے فٹبال ورلڈ کپ کے موقع پر لیاری کی گلیوں اور گھروں کی چھتوں پر برازیل کے پرچم لہراتے ہوئے نظر آتے ہیں جس سے اس علاقے کی برازیلین ٹیم سے جذباتی وابستگی کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔نادرشاہ عادل کہتے ہیں ’پیلے اپنے کریئر میں بجا طور پر فٹبال کے دیوتا کہلائے جاتے تھے۔ان کی تقلید دنیا کے ہر کھلاڑی نے کرنی چاہی۔لیاری کے نوجوان فٹبالرز بھی ان کے کھیل کی فلمیں دیکھ کر انہی جیسا کرنے کی کوشش کرتے تھے۔ پیلے جس خوبصورتی سے گیند کو اپنے سینے پر روک کر پیروں کے کنٹرول سے آگے لیجاتے تھے حریف کھلاڑیوں کو ڈاج دیا کرتے تھے اور دونوں پیروں اور ہیڈ سے یکساں مہارت کے ساتھ ان کا گول کرنا یہ سب کچھ کوئی دوسرا کھلاڑی نہیں کرسکتا تھا ‘۔نادر شاہ عادل کا کہنا ہے’ پیلے فٹبال میں نصاب کا درجہ رکھتے ہیں کہ اگر آپ 90 منٹ کا ان کا میچ دیکھ لیں تو آپ کو بہت کچھ سیکھنے کو مل جائے گا۔ ان کے کھیل کے ساتھ ساتھ ان کی شخصیت بھی بیداغ رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ لیاری والوں نے کبھی بھی اس بات کو قبول نہیں کیا کہ ان کا موازنہ ڈیاگو میراڈونا سے کیا جائے کیونکہ ان کا یہ خیال ہے کہ میراڈونا یقیناً ایک بڑے کھلاڑی تھے لیکن ان کی شخصیت غیر متنازع نہیں ہے۔‘1950 کے ورلڈ کپ میں برازیل کی ٹیم کو متوقع فاتح سمجھا جا رہا تھا تھی لیکن فائنل میں اسے یوراگوئے کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا جس پر پورے ملک میں سوگ کا سماں تھا۔ ایک گھر میں باپ بیٹا کمنٹری سن رہے تھے، برازیل کی ٹیم جب ہاری تو باپ زاروقطار رونے لگا۔ اس موقع پر اس کا دس سالہ بیٹا اسے د لاسہ دینے لگا کہ ’آپ مت روئیں۔ اگلی مرتبہ میں برازیل کو ورلڈ کپ جتواؤں گا۔‘آٹھ سال بعد یہ لڑکا نہ صرف برازیل کی فٹبال ٹیم میں شامل ہوا بلکہ تین لگاتار ورلڈ کپ جیتنے والی فاتح ٹیموں میں بھی وہ شامل تھا۔ یہ تاریخ رقم کرنے والے فٹبالر کو دنیا پیلے کے نام سے جانتی ہے۔19 نومبر 1969 کو سینٹوس اور واسکو ڈی گاما کی ٹیمیں ریو ڈی جنیرو کے ماراکانا سٹیڈیم میں مدمقابل تھیں۔ پیلے سینٹوس کی طرف سے میدان میں اترے تھے۔ یہ میچ ان کے لیے اس لیے اہمیت کا حامل تھا کہ انھیں اپنے کریئر میں 1000 گول کا سنگ میل عبور کرنے کے لیے صرف ایک گول درکار تھا۔ سینٹوس کو پنلٹی کک ملی اور پیلے نے گول کرنے میں کوئی غلطی نہیں کی۔ اس موقع پر تماشائیوں کی بہت بڑی تعداد انھیں مبارک باد دینے میدان میں آگئی اور کھیل دوبارہ شروع کرنے میں 30 منٹ لگے۔فٹبال کی تاریخ میں پیلے کے علاوہ آسٹریا کے جوزف بائکن، جرمنی کے جرڈ مولر اور برازیل کے آرتھر فائریڈنریچ نے بھی ایک ہزار سے زائد گول کیے ہیں۔ کچھ اور کھلاڑیوں کے ناموں کے آگے بھی ایک ہزار گول لکھے جاتے رہے ہیں لیکن فٹبال کے اعدادوشمار کی تصدیق کرنے والی بین الاقوامی تنظیم انھیں تسلیم نہیں کرتی، جن میں برازیل کے کھلاڑی روماریو بھی شامل ہیں۔پیلے نے اپنے کیریئر میں 1284 گول کیے ہیں تاہم 526 گول غیرسرکاری دوستانہ اور ٹور میچوں میں کیے گئے۔ بین الاقوامی مقابلوں میں ان کے 77 گول ہیں جبکہ باضابطہ میچوں میں ان کے گولز کی مجموعی تعداد 767 ہے۔پیلے کا بچپن غربت میں گزرا کیونکہ ان کے والد فٹبالر ہوتے ہوئے بھی معاشی مشکلات سے دوچار تھے۔ پیلے نے چائے خانوں میں ملازمت بھی کی لیکن فٹبال سے انھیں جنون کی حد تک پیار تھا۔ وہ سڑکوں پر اکثر گیند کو کک لگاتے نظر آتے تھے لیکن یہ گیند باقاعدہ فٹبال کے بجائے جرابوں میں کاغذ بھر کر بنائی گئی ہوتی تھی۔پیلے نے اسی غربت میں اپنے محلے کے دوستوں کے ساتھ مل کر ایک ٹیم بنائی تھی جو ’جوتوں کے بغیر کھیلنے والوں کی ٹیم‘ کے طور پر مشہور تھی۔صرف پندرہ سال کی عمر میں ان کے ٹیلنٹ کو برازیلین فٹبالر ڈی بریٹو نے بھانپ لیا تھا اور انھیں یہ کہہ کر مشہور کلب سینٹوس میں شامل کرایا کہ وہ دنیا کے عظیم فٹبالر ثابت ہونگے۔میراڈونا اور پیلے کے درمیان کبھی بھی خوشگوار تعلقات نہیں رہے اور دونوں ایک دوسرے پر طنزیہ فقروں کا موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے تھے۔