محمد بشارت
کوٹرنکہ //کوٹرنکہ بدھل کے دور دراز دیہی علاقوں میں بجلی کا نظام انتہائی خستہ حالی کا شکار ہو چکا ہے، جس کے باعث مقامی آبادی کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ حکومت کی جانب سے بجلی کی فراہمی بہتر بنانے اور ہر گاؤں تک جدید ترسیلی نظام پہنچانے کے بلند و بانگ دعوے زمینی سطح پر کھوکھلے دکھائی دے رہے ہیں۔ پنچایت حلقہ اپر ترگائیں کی وارڈ نمبر 4 اور پنچایت پھلنی کی وارڈ نمبر 4 کی صورتحال اس کی واضح مثال ہے۔ان علاقوں میں آج بھی بجلی کی ترسیل لکڑی کے بوسیدہ پولوں کے سہارے کی جا رہی ہے، جو کسی بھی وقت گر سکتے ہیں۔ کئی مقامات پر بجلی کی تاریں سبز درختوں اور حتیٰ کہ پھل دار درختوں کے ساتھ باندھی گئی ہیں، جو نہ صرف غیر محفوظ طریقہ ہے بلکہ انسانی جانوں اور مال مویشیوں کے لئے بھی سنگین خطرہ بن چکا ہے۔ مقامی لوگوں کے مطابق کریٹ کی تاریں جگہ جگہ لٹک رہی ہیں اور تیز ہوا یا بارش کے دوران حادثات کا خدشہ کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔
علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے بجلی کے اس ناقص نظام کے بارے میں سینکڑوں بار گرام سبھا اجلاسوں، بلاک سطح کی میٹنگز اور ضلع انتظامیہ کے سامنے آواز اٹھائی، مگر ہر بار صرف یقین دہانیاں ملیں۔ دو سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود نہ پول تبدیل کئے گئے اور نہ ہی تاروں کو محفوظ انداز میں نصب کیا گیا۔مقامی شہریوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سرکار کی جانب سے علاقے میں بجلی، پانی اور سڑکوں کا جال بچھانے کے دعوے کیے جاتے ہیں، لیکن حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ دیہی آبادی آج بھی بنیادی سہولیات سے محروم ہے اور بجلی کا موجودہ نظام کسی بڑے حادثے کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے۔لوگوں کا مزید کہنا ہے کہ اسکول جانے والے بچے، کھیتوں میں کام کرنے والے کسان اور گھروں کے قریب کھیلنے والے بچے ان لٹکتی تاروں کی وجہ سے مستقل خطرے میں رہتے ہیں۔ بارش کے دنوں میں کرنٹ لگنے کے خدشات بڑھ جاتے ہیں، جس سے خوف و ہراس کی فضا قائم رہتی ہے۔مقامی باشندوں نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی حکومت سے اپیل کی ہے کہ کوٹرنکہ بدھل کے دیہی علاقوں میں بجلی کے ڈھانچے کو فوری طور پر جدید اور محفوظ بنایا جائے، بوسیدہ پولوں کو تبدیل کیا جائے اور غیر معیاری ترسیلی نظام کو درست کیا جائے تاکہ عوام کو درپیش مشکلات کا ازالہ ہو سکے اور کسی ممکنہ سانحے سے بچا جا سکے۔
پی ڈی ڈی ڈیلی ویجروں کا پونچھ میں پْرامن احتجاج
محتشم احتشام
پونچھ// جموں و کشمیر پاور ڈیولپمنٹ ڈیپارٹمنٹ (پی ڈی ڈی) سے وابستہ پاور ایمپلائز، آل انڈیا تنظیم اور ڈیلی ویجرز نے پروویڑنل بل 2026 کی مخالفت میں پوں میں ایک روزہ پْرامن احتجاج کیا۔ احتجاج کا مقصد بل کی اْن شقوں کے خلاف آواز بلند کرنا تھا جنہیں مظاہرین کے مطابق ڈیلی ویجرز اور کیجول لیبرس کے مفادات کے منافی قرار دیا جا رہا ہے۔احتجاج کے دوران مظاہرین نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اور بینرز اْٹھا رکھے تھے جن پر نعرے درج تھے ،’پروویڑنل بل نامنظور، نامنظور‘، ’ڈیلی ویجرز کے ساتھ انصاف کرو‘ اور ’دہلی یوٹی و لداخ یوٹی کے برابر کم از کم اجرت دو‘۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ جموں و کشمیر کے ڈیلی ویجرز برسوں سے سخت موسمی حالات اور خطرناک ڈیوٹیوں کے باوجود مناسب اجرت، سروس سیکورٹی اور حفاظتی سہولیات سے محروم ہیں۔مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ جموں و کشمیر کے ڈیلی ویجرز کو دہلی یوٹی اور لداخ یوٹی کے مساوی مینیمم ویجز فراہم کئے جائیں، جبکہ کام کے دوران پیش آنے والے خطرات کے پیشِ نظر سیفٹی کٹس کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ بجلی کے نظام کو برقرار رکھنے میں ڈیلی ویجرز کا کردار ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے، اس کے باوجود انہیں مسلسل نظرانداز کیا جا رہا ہے۔اس موقع پر آل جموں و کشمیر پی ڈی ڈی ڈیلی ویجرز کیجول لیبرس یونین کے ضلع صدر چوہدری فاروق پونچھی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پروویڑنل بل 2026 اگر موجودہ شکل میں منظور ہوا تو یہ ہزاروں ڈیلی ویجرز کے مستقبل کو غیر یقینی بنا دے گا۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ بل کو فوری طور پر واپس لے کر ڈیلی ویجرز کے ساتھ بامعنی مذاکرات کیے جائیں۔یونین رہنما گلریز منہاس اور دیگر مقررین نے بھی احتجاج سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ڈیلی ویجرز صرف اپنے آئینی اور انسانی حقوق کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ جب تک مطالبات تسلیم نہیں کئے جاتے، جدوجہد پْرامن مگر مضبوط انداز میں جاری رہے گااحتجاج پْرامن رہا اور مظاہرین نے نظم و ضبط کا مظاہرہ کرتے ہوئے حکومت سے فوری انصاف کی اپیل کی۔