عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر// اپنی پارٹی کے سربراہ سید محمد الطاف بخاری نے حکومتِ ہند کے اس فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے جس کے تحت جموں و کشمیر میں پی ایم جی ایس وائی-IV ( دوم) کے تحت نئے منصوبے شروع کیے جا رہے ہیں۔اس کا اعلان مرکزی وزیر برائے زراعت، کسانوں کی فلاح و بہبود اور دیہی ترقی، شیو راج سنگھ چوہان نے کل سرینگر کے ایس کے آئی سی سی میں کیا۔ اس پیش رفت پر ردِ عمل ظاہر کرتے ہوئے سید محمد الطاف بخاری نے کہا، ’’ہم جموں و کشمیر میں دیہی ترقی کو تیز کرنے کے لیے مرکز کی اس بڑی پیش رفت کا دل کی گہرائیوں سے خیرمقدم کرتے ہیں۔‘‘
انہوں نے بتایا کہ سڑک رابطہ کاری کے منصوبوں کے لیے 3,566 کروڑ روپے کی منظوری دی گئی ہے، جبکہ خواتین کی معاونت کے لیے دین دیال انتودیہ یوجنا – نیشنل رورل لائیولی ہڈ مشن کے تحت 4,568 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔اسے ایک ‘‘اہم اور قابلِ ستائش قدم’’ قرار دیتے ہوئے سید محمد الطاف بخاری نے کہا کہ اگر ان بڑے پیمانے کی سرمایہ کاریوں کو درست طریقے سے نافذ کیا جائے تو یہ دیہی زندگی کو بدل سکتی ہیں۔تاہم انہوں نے زور دے کر کہا کہ اب ذمہ داری جموں کشمیر سرکار پر عائد ہوتی ہے کہ وہ ان منصوبوں کو مؤثر طریقے سے نافذ کرے اور انہیں بروقت مکمل بنائے۔بخاری نے جموں کشمیر سرکار پر زور دیا کہ پردھان منتری گرام سڑک یوجنا (پی ایم جی ایس وائی) کو معاوضے کے دائرہ کار میں شامل کیا جائے، کیونکہ مرکزی سطح پر اس اسکیم میں فی الحال ایسا کوئی انتظام موجود نہیں ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ سڑکوں کی تعمیر کے لیے جن اراضی مالکان کی زمین استعمال کی جاتی ہے، انہیں منصفانہ اور مناسب معاوضہ فراہم کیا جانا چاہیے۔بخاری نے حکومتِ ہند سے پْرزور اپیل کی کہ کشمیر میں ہارٹیکلچریونیورسٹی قائم کی جائے، کیونکہ باغبانی خطے کی معیشت کے بنیادی ستونوں میں سے ایک ہے۔