باغبانی بحران برقرار،مکمل پیکیج کا انتظار
سرینگر//کشمیر ویلی فروٹ گروورز کم ڈیلرز یونین سرینگر نے جموں و کشمیر کے مالی سال 2026-27 کے بجٹ تخمینوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے سیب کے لیے خصوصی فصل بیمہ اسکیم کے نفاذ اور وادی میں CA اسٹوریج سہولیات میں توسیع کے اعلان کو خوش آئند قرار دیا ہے۔ یونین کے مطابق وزیر اعلی عمر عبداللہ کی جانب سے پیش کیے گئے بجٹ میں باغبانی، خصوصا سیب صنعت سے متعلق کئی اہم اقدامات شامل ہیں، جو طویل مدت میں باغبانوں اور تاجروں کے لیے فائدہ مند ثابت ہوں گے۔ تاہم یونین نے مطالبہ کیا کہ چیری، آلو بخارا، آڑو، ناشپاتی اور ببہ گوشہ کو بھی فوری طور پر فصل بیمہ اسکیم میں شامل کیا جائے۔یونین نے افسوس کا اظہار کیا کہ بجٹ میں 2025 کی سیلابی تباہ کاریوں سے متاثرہ باغبانوں کے لیے 2000 کروڑ روپے کے معاوضہ پیکیج، مارکیٹ انٹروینشن اسکیم کی بحالی، علیحدہ ہارٹیکلچر اسٹیٹ، زرعی ادویات و کھاد پر سبسڈی، کے سی سی قرضوں میں ریلیف اور فروٹ منڈیوں کی ترقی جیسے دیرینہ مطالبات کو نظر انداز کیا گیا۔ یونین نے غیر ملکی سیب، خاص طور پر امریکی و یورپی اور نیوزی لینڈ کے سیب پر کم درآمدی ڈیوٹی پر بھی شدید تشویش ظاہر کی اور مطالبہ کیا کہ مقامی باغبانی صنعت کے تحفظ کے لیے ان پر 100 فیصد یا اس سے زائد درآمدی ڈیوٹی عائد کی جائے۔ آخر میں حکومت سے اپیل کی گئی کہ باغبان نمائندوں سے مشاورت کے بعد ایک جامع ریلیف پیکیج کا اعلان کیا جائے تاکہ جموں و کشمیر کی باغبانی صنعت کو پائیدار بنایا جا سکے۔
باغبانی اور فصل بیمہ پر توجہ قابل تحسین : JKPICCA
مشتاق الاسلام
مشتاق الاسلام
پلوامہ //جموں و کشمیر فروٹ اینڈ ویجی ٹیبلز پروسیسنگ اینڈ انٹی گریٹڈ کولڈ چین ایسوسی ایشن (JKPICCA) نے مرکزی بجٹ 2026-27 کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے ترقی پسند اور بالخصوص باغبانی شعبے کیلئے نہایت مفید قرار دیا ہے، جو جموں و کشمیر کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی سمجھا جاتا ہے۔ جے کے پی آئی سی سی اے صدر بشیر احمد نائیک نے سیب، زعفران، آم اور لیچی جیسی اہم فصلوں کو فصل بیمہ کے دائرے میں شامل کرنے کے حکومتی فیصلے کو سراہا۔ ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی، غیر متوقع موسم اور منڈی میں عدم استحکام کے موجودہ حالات میں یہ قدم غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے۔ جامع فصل بیمہ کسانوں کو آمدنی کا تحفظ فراہم کرے گا اور باغات میں سرمایہ کاری اور فصلوں میں تنوع کیلئے اعتماد کو فروغ دے گا۔ایسوسی ایشن نے بجٹ میں سرمائے کے اخراجات، بنیادی ڈھانچے کی ترقی اور زرعی اصلاحات پر مسلسل توجہ کو بھی قابلِ ستائش قرار دیا۔ ہائی ڈینسٹی ہارٹیکلچر، نرسری ڈیولپمنٹ، پیداواری صلاحیت میں اضافہ، زرعی ضمنی شعبوں اور پروسیسنگ ایکو سسٹم پر زور کو طویل مدتی وژن کا عکاس بتایا گیا، جس کا مقصد ویلیو ایڈیشن اور روزگار کے مواقع پیدا کرنا ہے۔
پی ایچ ڈی چیمبر نے متوازن قرار دیا
عظمیٰ نیوز سروس
عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر//پی ایچ ڈی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (پی ایچ ڈی سی سی آئی)کشمیر چیپٹر نے جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ کی جانب سے پیش کیے گئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ کو متوازن اور دور اندیش قرار دیا ہے۔ چیئرمین پی ایچ ڈی سی سی آئی کشمیر وِکی شا نے کہا کہ محدود وسائل اور بھاری تنخواہوں و پنشن کے باوجود بجٹ میں ترقی، اصلاحات اور سرمایہ کاری پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔انہوں نے آئی ٹی اور اے آئی پارکس کے قیام، 20 کروڑ روپے کے اے آئی سینٹر آف ایکسی لینس، ہینڈی کرافٹس اور ہینڈلوم سیکٹر کے فروغ، زرعی و باغبانی اصلاحات، اور تعلیم و اسکل ڈیولپمنٹ کے اقدامات کو خوش آئند قرار دیا۔پی ایچ ڈی سی سی آئی کے مطابق بجٹ میں انفراسٹرکچر، صنعت، ایم ایس ایم ایز اور اسٹارٹ اپس کی حوصلہ افزائی سے کاروبار دوست ماحول کو فروغ ملے گا۔ چیمبر نے یو ٹی انتظامیہ کے ساتھ مکمل تعاون کا یقین دلاتے ہوئے کہا کہ مشترکہ کوششوں سے جموں و کشمیر کی معیشت کو نئی بلندیوں تک پہنچایا جا سکتا ہے۔