عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر //وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے آنے والے بجٹ سیشن سے پہلے پری بجٹ مشاورت کے سلسلے کو جاری رکھتے ہوئے سول سیکرٹریٹ میں سرینگر ، بڈگام اور گاندر بل اضلاع کے اسمبلی اراکین اور اہم شراکت داروںکے ساتھ پری بجٹ مشاورتی میٹنگوں کی صدارت کی۔قانون سازوں سے میٹنگ میں وزیر جاوید احمد ڈار ، وزیر اعلیٰ کے ایڈیشنل چیف سیکرٹری ، پرنسپل سیکرٹری فائنانس ، متعلقہ اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز اور دیگر سینئر افسران نے شرکت کی ۔ گفتگو کے دوران سرینگر کے اراکین اسمبلی نے بجٹ میں ترجیحی ترقیاتی منصوبوں اور اہم عوامی فلاح و بہبود کے اقدامات کیلئے بڑھے ہوئے بجٹ مختصات کا مطالبہ کیا ، کیونکہ سرینگر کو صوبائی دارالحکومت کی حیثیت حاصل ہے ۔ اراکین اسمبلی علی محمد ساگر ، مبارک گُل ، شمیم فردوس ، تنویر صادق ، شیخ احسن احمد ( پردیسی ) ، سلمان علی ساگر اور مشتاق احمد گرو نے اپنے حلقوں کے مخصوص ترقیاتی منصوبے پیش کئے اور انفراسٹرکچر کی ترقی اور مجموعی عوامی فلاح سے متعلق مسائل اٹھائے ۔
ایک وسیع رینج کے مسائل پر تبادلہ خیال کیا گیا جن میں سماجی بہبود سکیموں کے تحت مالی امداد میں اضافہ ، معاشی طور پر کمزور طبقات کیلئے ہاوسنگ ، دستکاری اور ہینڈ لوم کاریگروں کی فلاح ، سڑکوں کی توسیع کے منصوبے ، سرینگر اور جموں شہروں کیلئے خصوصی کیپیٹل سٹی فنڈ کی مختصات ، ٹریفک کی بھیڑ کم کرنے کے اقدامات ، پارکنگ سلاٹس کی ترقی ، سونر کول اور کٹ کول کی خوبصورتی ، کمیونٹی ہالوں کی تعمیر ، پانی کے ذخائیر کی بحالی ، کھیلوں کے انفراسٹرکچر میں بہتری ، ورٹیکل ہاوسنگ منصوبے ، ڈل جھیل ، انچر جھیل ، خوشحال سر اور گل سر کے اندرونی حصوں کی بحالی ، موثر ڈرنیج سسٹم کی ترقی شامل ہیں ۔ اراکین اسمبلی نے اچھن لینڈ فل سائٹ پر سائنسی فضلہ منیجمنٹ کی ضرورت پر زور دیا تا کہ بدبو اور ماحولیاتی خطرات سے نمٹا جا سکے ۔ پینے کے پانی کے معیار سے متعلق خدشات ، سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹس کی اپ گریڈیشن ، اندرونی سڑکوں کی توسیع اور ٹریفک کی رکاوٹوں کو دور کرنے کی ضرورت کو اجاگر کیا گیا ۔ ایم ایل ایز نے مزید زور دیا کہ سرینگر کے نوجوانوں کیلئے روز گار کے مواقع پیدا کرنے کی ضرورت ہے اور سالانہ بجٹ میں اس کیلئے مناسب انتظامات کئے جائیں ۔ اسی طرح بڈگام کے ایم ایل ایز علی محمد ڈار ، ڈاکٹر شفیع احمد وانی ، سیف الدین بٹ اور آغا منتظر اور کنگن کے ایم ایل ایے میاں مہر علی نے اپنے حلقوں سے متعلق ترقیاتی ضروریات اور عوامی فلاح و بہبود کے مسائل کو نمایاں کیا ۔ وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ خود جموں و کشمیر کی قانون ساز اسمبلی میں گاندر بل حلقہ کی نمائندگی کرتے ہیں۔میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے قانون سازوں کو یقین دلایا کہ ان کے حلقوں کیلئے شناخت کردہ ترجیحات کے ساتھ ساتھ مجموعی عوامی فلاح و بہبود کیلئے اقدامات کو آئندہ بجٹ میں مناسب طور پر غور کیا جائے گا اور شامل کیا جائے گا ۔ انہوں نے زور دیا کہ عوامی نمائندوں کے ساتھ پری بجٹ مشاورت عوامی خواہشات کو سمجھنے اور انہیں بجٹ میں شامل کرنے کیلئے انتہائی اہم ہے جس کا مقصد اسے زیادہ عوام دوست اور شہریوں پر مرکوز بنانا ہے۔
وزیر اعلیٰ نے قانون سازوں سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ جاری ترقیاتی کاموں کی قریب سے نگرانی کریں تا کہ معیاری عمل درآمد اور خدمات کی بروقت فراہمی یقینی بنائی جا سکے ۔ اس کے علاوہ انہوں نے انہیں ہدایت دی کہ کشمیر ویلی میں حالیہ تیز ہواؤں کی وجہ سے ہونے والے نقصانات پر تشخیص رپورٹس جمع کرائی جائیں ۔ اس سے قبل بجٹ کے پیش نظر مختلف شعبوں سے آرأ اور تجاویز حاصل کرنے کے لئے اہم شراکت داروںکے ساتھ پری بجٹ مشاورتی میٹنگ کی صدارت کی۔اُس میٹنگ میں وزرأ سکینہ ایتو، جاوید احمد ڈار اور ستیش شرما، ایڈیشنل چیف سیکرٹری دھیرج گپتا، ایڈیشنل چیف سیکرٹری سیاحت آشیش چندر ورما،پرنسپل سیکرٹری فائنانس سنتوش دی ویدیا، کمشنر سیکرٹری صنعت و حرفت وِکرم جیت سنگھ، سیکرٹری سماجی بہبود سرمد حفیظ کے علاوہ مختلف محکموں کے سینئر اَفسران نے شرکت کی۔دورانِ میٹنگ صنعتی ماہرین، تاجر، ہوٹل مالکان، ٹور اینڈ ٹریول آپریٹروں، ماہرین تعلیم، کسان، باغبانی سے وابستہ اَفراد، کاروباری شخصیات اور مختلف تجارتی تنظیموں کے نمائندوں نے آئندہ بجٹ کے لئے اَپنی تجاویز اور آرأ پیش کیں۔وزیر اعلیٰ نے میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ مشاورتیں حکومت کے سالانہ بجٹ سے قبل کے عمل کا ایک اہم حصہ ہیں جن کا مقصد مختلف شعبوں سے رائے حاصل کر کے پالیسیوں کی تشکیل اور وسائل کی مؤثر تقسیم کو یقینی بنانا ہے۔اُنہوں نے تمام شرکأکی بات بغور سنا اور کہا کہ بجٹ سے قبل کی مشاورتیں اہم اِقتصادی چیلنجوں سے نمٹنے اور جامع ترقی کوفروغ دینے میںاہم کردار ادا کرتی ہیں۔ اُنہوں نے عوام دوست بجٹ پیش کرنے کی ضرورت پر زور دیا جو عوامی اُمنگوں اور جذبات کی عکاسی کرتا ہو۔وزیراعلیٰ نے مزید کہا کہ ان مشاورتوں کے دوران موصول ہونے والی تجاویز ایک جوابدہ اور عملی بجٹ فریم ورک بنانے میں مدد ملے گی۔ اُنہوں نے شرکأکو یقین دِلایا کہ ان کی تجاویز کا بغور جائزہ لیا جائے گا اور جہاں ممکن ہواسے بجٹ میں شامل کیا جائے گا۔