یو این آئی
نئی دہلی/محمد علی نہ صرف تاریخ کے عظیم ترین باکسر تھے بلکہ وہ جرأت، خودداری، انسانی حقوق اور اصول پسندی کی عالمی علامت بھی بن گئے ۔ ان کی زندگی کھیل، سیاست، نسل پرستی کے خلاف جدوجہد اور روحانی ارتقا کا حسین امتزاج ہے ۔ محمد علی ،اصل نام،کیسیئس مارسیلس کلے جونیئرتھا، دنیا کے عظیم ترین باکسرز میں شمار کیے جاتے ہیں۔ وہ نہ صرف ایک شاندار کھلاڑی تھے بلکہ ایک بے باک انسان، اصولوں کے علمبردار، سماجی کارکن اور عالمی امن کے سفیر بھی تھے ۔ ان کی زندگی کھیل، سیاست، مذہب اور انسانیت کے لیے جدوجہد کی کہانی ہے۔وہ اپنے ہنر اور جذبے کے سبب بہت جلد باکسنگ کی دنیا میں جانے لگے ۔ محمد علی کا بچپن نسلی امتیاز اور معاشرتی مسائل کے باوجود خوابوں سے بھرپور تھا، اور انہوں نے ہمت اور محنت کے ذریعے اپنی پہچان بنائی۔ محمد علی ایک سابق امریکی پیشہ ور باکسر تھے ۔ محمد علی کو کھیلوں کی تاریخ میں دنیا کا سب سے بڑا ہیوی ویٹ باکسر سمجھا جاتا ہے ۔باکسنگ رنگ میں علی اپنے فٹ ورک اور مکوں کے لیے مشہور تھے ۔ سال 1954 میں محمد علی نے اپنی پہلی فائٹ لڑی اور اسے جیتا۔محمد علی 17 جنوری 1942 میں کیتونڈی کاؤنٹی کے لوئس ول میں پیدا ہوئے ۔ پیدائشی نام کیسیئس مارسیلس کلے تھا۔ان کے والد کیسیئس مارسیلس کلے جو پیشہ سے رنگ ساز اور موسیقار تھے ۔ ان کی پرورش ملک کے جنوبی حصے میں ہوئی جہاں انہیں سیاہ فام ہونے کی وجہ سے نسلی امتیاز کا سامنا کرنا پڑا۔ ان کا بچپن کا نام مارسیلس کلے جونیئر تھا۔ باکسنگ کی تاریخ کے عظیم ترین باکسروں میں سے ایک محمد علی نے بچپن میں ہی اپنی بے خوفی کا مظاہرہ کرنا شروع کر دیا تھا ۔ باکسر بننے کا ان کا عزم پختہ تھا ۔بارہ سال کی عمر میں محمد علی کے ساتھ ایک واقعہ پیش آیا جس کی وجہ سے حالات ایسے بن گئے کہ انہیں باکسر بننا پڑا۔ اس کی سائیکل چوری ہو گئی تھی۔اس سلسلہ میں ان کی ملاقات ایک پولیس افسر جو مارٹن سے ہوئی۔ پولیس افسر ہونے کے ساتھ ساتھ، مارٹن مقامی جم میں لڑکوں کو باکسنگ کی تربیت دیتے تھے ۔ جہاں علی نے بھی باکسنگ سیکھنا شروع کر دی۔ محمد علی کی زندگی میں مختلف اداور میں کئی نشیب و فراز آئے ۔
ویت نام جنگ کے دوران محمد علی نے امریکی فوج میں شامل ہونے کے عہد نامے پر دستخط کرنے سے انکار کر دیا جس کے نتیجے میں انہیں ان کے اعزاز سے محروم کر دیا گیا اور 3 سال کی سزا سنائی گئی۔ بعد ازاں جب محمد علی پھر میدان میں اترے تو ان کی باکسنگ میں وہ زور اور دبدبہ دیکھنے کو نہیں ملا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ جو فریزیئر نے انہیں شکست دیدی لیکن دو سال کے بعدعلی نے ان کو شکست دے کر اپنا بدلہ لے لیا۔ محمد علی کی زندگی میں سنہرا دوریہاں سے شروع ہوا جب انہوں نے جو فریزیئر اور محمد علی کا یہ مقابلہ مکے بازی کی تاریخ کے عظیم ترین مقابلوں میں شمار ہوتا ہے اور ”فائٹ آف دی سنچری” یعنی صدی کی بہترین لڑائی کے نام سے مشہور ہے ۔پھر اکتوبر 1974ء میں انہوں نے جارج فورمین کو شکست دیکر ایک بار پھر اپنا کھویا ہوا وقار اور شہرت حاصل کرلی۔ اس وقت محمد علی کی عمر صرف 32 سال تھی اور وہ اس اعزاز کو پھر سے جیتنے والے دوسرے شخص تھے ۔اس کے بعد سے محمد علی نے مشق کا سلسلہ جاری رکھا اور اپنی پریکٹس پر خاص توجہ دیتے ہوئے اس 6 فٹ 3 انچ لمبے قد آور باکسر نے بڑے بڑے سرماؤں کو باکسنگ رنگ میں دھول چٹائی۔ انہیں بیسویں صدی کا عظیم ترین کھلاڑی قرار دیا گیا تھا۔ محمد علی نے تین مرتبہ مکے بازی کی دنیا کا سب سے بڑا اعزاز “ورلڈ ہیوی ویٹ باکسنگ چیمپیئن شپ” جیتا اور اولمپک میں سونے کے تمغے کے علاوہ شمالی امریکی باکسنگ فیڈریشن کی چیمپیئن بھی جیتی۔ وہ تین مرتبہ ورلڈ ہیوی ویٹ باکسنگ چیمپئن شپ جیتنے والے پہلے مکے باز تھے ۔باکسنگ میں ان کا کیریئر ایک شوقیہ کھلاڑی کی حیثیت سے کامیاب رہا لیکن ان کو عظمت اس وقت حاصل ہوئی جب سال 1960ء میں روم اولمپِک میں انہوں نے طلائی تمغہ جیتا۔ انہوں نے اپنی پیشہ ور فائٹ 29 اکتوبر 1960میں تنے ہسنکر کے خلاف جیتی۔انہوں اپنے 21 سالہ کیرئر میں 61 فائٹ لڑیں۔کیرئر میں انہوں نے 56 میں جیت حاصل کیں جس میں 37 ناٹ آؤٹ تھیں۔ تین مرتبہ انہوں نے عالمی ہیوی ویٹ چیمپئن شپ جیتی۔ وہ پہلے لائٹ ویٹ اولمپک گولڈ میڈلسٹ رہے ۔ محمد علی واحد عالمی ہیوی ویٹ چیمپئن ہیں جنہوں نے تین بار لائنل چیمپئن شپ جیتی۔ سال 1964، 1974 اور 1978 میں خطاب اپنے نام کئے ۔ وہ باکسنگ کے کئی تاریخی مقابلوں میں شامل رہے ۔ ان میں سب سے زیادہ قابل ذکر “فائٹ آف دی سنچری” ، ” سپر فائٹ 2 ” اور “منیلا میں تھریلا”تھا۔باکنگ رنگ میں علی کا کردار نہایت غیر معمولی رہا۔ وہ اپنے حریف کھلاڑی کو کھلا چیلینج دیتے تھے ۔اتنے نڈر اور بے باک کھلاڑی کے آگے بڑے بڑے باکسر تھرا جاتے تھے ۔ ان کا دفاعی انداز مخلتف باکسروں سے جدا تھا۔ ان کے حملے اس قدر تیز ہوا کرتے تھے کہ حریف کھلاڑی کو سنبھلنے کا موقع تک نہیں دیتے تھے ۔ آج بھی دنیا محمد علی کو ایک عظیم شخص کی حیثیت سے یاد کرتی ہے ۔ایک وقت ایسا بھی آیا جب محمد علی کرہ ارض پر بلا شبہ سب سے زیادہ شہرت یافتہ شخص بن کر ابھرے ۔محمد علی 3 مرتبہ ہیوی ویٹ چیمپئن رہے ۔ انہیں بی بی سی کی جانب سے اسپورٹس پرسنالٹی آف دی سنچری اور اسپورٹس السٹریٹڈ کی طرف سے سپورٹس مین آف دی سنچری سے نوازا گیا ہے ۔محمد علی نے سال 1981 میں 40 برس کی عمر میں ریٹائرمنٹ کا اعلان کیا چونکہ ان کی صحت خراب رہنے لگی تھی۔ ڈاکٹروں نے انہیں “پارکنسنس سنڈروم” (رعشہ) کا شکار پایا۔جس کے بعد وہ دوبارہ رنگ میں نہیں اترے ۔ سبکدوشی اور رعشے کے مرض میں مبتلا رہنے کے باوجود انہوں نے اپنے آپ کا فلاحی کاموں میں مصروف رکھا۔ اپنے آبائی قصبے لوئسویل میں 6 منزلہ محمد علی سینٹر قائم کیا۔ سال 2016 میں74 برس کی عمر میں 3 جون کو امریکہ کے اسکا ٹ ڈیل میں ان کی وفات ہوئی۔ محمد علی کی سب سے بڑی خصوصیت ان کا انفرادی انداز اور فنی مہارت تھی۔محمد علی نے 1964 میں اسلام قبول کیا اور اپنا نام تبدیل کر کے محمد علی رکھ لیا۔ انہوں نے اپنی مذہبی شناخت کو فخر کے ساتھ اپنایا اور نسلی امتیاز کے خلاف آواز بلند کی۔ 1967 میں وہ ویتنام جنگ میں فوجی خدمات دینے سے انکار کر کے عالمی سطح پر توجہ کا مرکز بن گئے ۔ انہوں نے کہا: “میں نے کسی ویتنامی سے کوئی جھگڑا نہیں کیا”۔ اس پر ان کا ٹائٹل چھن گیا اور تین سال کے لیے باکسنگ سے محروم ہو گئے ، مگر محمد علی نے اپنے اصولوں پر کبھی سمجھوتہ نہیں کیا۔ محمد علی نہ صرف کھیلوں میں عظیم تھے بلکہ انسانی حقوق اور سماجی انصاف کے لیے بھی سرگرم رہے ۔ وہ نسل پرستی کے خلاف لڑے اور دنیا بھر میں امن و محبت کا پیغام پہنچایا۔ انہوں نے کمزور اور مظلوم لوگوں کی مدد کی اور اپنے اثر و رسوخ کو اچھے کاموں کے لیے استعمال کیا۔ سال1984 میں محمد علی کو پارکنسنز بیماری لاحق ہوئی۔ اس کے باوجود انہوں نے فلاحی سرگرمیوں کو جاری رکھا اور نوجوانوں کے لیے ایک رول ماڈل بنے ۔ محمد علی 3 جون 2016 کو دنیا سے رخصت ہوئے ، مگر ان کی یاد اور اثرات آج بھی زندہ ہیں۔