بانہال // بانہال کے ڈولیگام علاقے سے تعلق رکھنے والے خواجہ سمیر احمد وانی والد مرحوم خواجہ بشیر احمد وانی کی موت علاج معالجہ کیلئے دہلی لے جانے کے دوران ریل کے سفر کے دوران واقع ہوئی ہے اور انکی میت کو لدھیانہ سے واپس بانہال لایا جا رہا ہے۔ سمیراحمد وانی محکمہ کواپریٹیو میں سپر وائزر کے طور تعینات تھے اور وہ ڈائریکٹر اسٹیٹس تصد ق جیلانی کے خالہ زاد بھائی تھے جبکہ صحافی شرجیل بانہالی کے پوپھا زاد بھائی تھے ۔اورمرحوم ایڈوکیٹ خالد نظام کے بھتیجے تھے۔ 42 سالہ سمیر وانی ایک دیندار، سماجی کارکن اور انصاف نواز شخصیت کے مالک تھے۔ سمیر احمد کے رشتہ داروں کا کہنا ہے کہ سمیر احمد وانی اپنے ایک قریبی رشتہ دار کے ساتھ ناساز صحت کے علاج معالجہ کیلئے جموں سے بذریعہ ریل آل انڈیا انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائینسسز دہلی جارہے تھے لیکن دوران سفر اتوار کی صبح اڑھائی بجے ریل میں ہی انہیں دل کا دورہ پڑا اور وہ داعی اجل کو لبیک کہہ گئے۔ ریل میں سفر کے دوران اس اچانک موت کے بعد انہیں لدھیانہ ہسپتال لے جایا گیا جہاں انہیں مردہ قرار دیا گیا۔ انڈین ریلوے کا مسافر ہونے کی وجہ سے ریلوے کے ضابطے کے مطابق اس معاملے میں ضروری قانونی کاروائی کی گئی اور بعد میں دوپہر دو بجے کے قریب میت کو بانہال کیلئے روانہ کیا گیا ہے۔ اس خبر کے موصول ہونے کے بعد ان کے قریبی رشتہ دار جموں اور دہلی سے لدھیانہ کیلئے روانہ ہوئے جہاں سے میت کو اتوار کی رات تک بانہال لایا جا رہا تھا۔ بانہال کے کئی سیاسی ، سماجی ، دینی اور ادبی جماعتوں اور لیڈروں نے ان کی اچانک رحلت پر اپنے رنج وغم اور ان کے پسماندگان خواجہ خاندان سے اپنی تعزیت کا اظہار کیا ہے۔ ممبر اسمبلی بانہال وقار رسول ، نیشنل کانفرنس لیڈراور ضلع صدر رام بن سجاد شاہین ، کانگریس لیڈر امتیاز کھانڈے ، سوشل ویلفیئر ایسوسی ایشن بانہال نے اپنے اپنے بیانات میں مرحوم سمیر احمد کو ایک ملنسار اور دیندار جوان قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی اچانک موت نے پورے بانہال کو رنجیدہ کیا ہے۔ انہوں نے مرحوم کے بلند درجات اور پسماندگان کے صبر وجمیل کیلئے اللہ سبحان وتعالی سے دعا کی ہے۔